ممبئی سے پونے کی دوری ۴۸؍منٹ میں اور حیدرآباد کی ۳؍ گھنٹے سے بھی کم وقت میں!
Author -
personحاجی شاھد انجم
مئی 02, 2026
0
share
انقلاب ایسا ممکن ہوگا ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کے ذریعے۔ ۴؍ ہزار کلومیٹرپرمشتمل ۷؍ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور بنانے کامنصوبہ ہے۔
ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کے تحت ممبئی- پونے کا سفر محض ۴۸؍ منٹ میں طے کیا جاسکے گا جبکہ پونے سے حیدرآباد کی دوری ایک گھنٹہ ۵۵؍ منٹ میں طے کی جاسکے گی۔ اس طرح ممبئی سے حیدرآباد ۳؍ گھنٹے سے بھی کم وقت میں پہنچا جاسکے گا جس کیلئے ابھی تقریباً ۱۲؍ گھنٹے لگتے ہیں مگر اتنے کم وقفے میں طویل مسافت طے کرنے کیلئے مسافروں کوابھی لمبا انتظار کرنا ہوگا۔
یہ وزارت ریل کی جانب سے بجٹ میں کیا جانے والا اعلان ہے۔ ملک کے الگ الگ حصوں میں ایسے ۷؍ ریل کوریڈو ر بنائے جائیں گے جس کے ذریعے گھنٹوں کی دوری منٹوں میں طے کرنے کا دعویٰ کیاجارہا ہے۔ اس کیلئے بجٹ میں ۲؍ لاکھ ۷۸؍ ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ ان میں دہلی - وارانسی، وارانسی- پٹنہ، سلی گڑی، چنئی -بنگلور، بنگلور- حیدرآباد اور چنئی -حیدرآباد کوریڈور شامل ہیں۔
ان ریل کوریڈور کے ذریعے اہم شہروں کے درمیان رابطہ بڑھے گا، مختلف علاقوں کے درمیان ہموار سفری رابطہ فراہم ہوگا اور یہ کوریڈور اہم معاشی، تعلیمی اور صنعتی مراکز کے درمیان آمد و رفت کو بہتر بنا کر علاقائی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس کا ایک بڑا حصہ ہائی اسپیڈ کنکٹیویٹی پر مبنی ہے جہاں مختلف کوریڈورز کے ذریعے بڑے شہری اور معاشی مراکز کے درمیان سفر کے وقت میں نمایاں کمی لانے کا منصوبہ ہے اوراسے 'گروتھ کنیکٹرز' کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کوریڈور مجموعی طور پر تقریباً ۴؍ہزار کلومیٹر پر محیط ہوں گے۔ وزارت ریل کواس کے ذریعے تقریباً ۱۶؍لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ممبئی- احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل منصوبہ جو ملک کا پہلا بلٹ ٹرین پروجیکٹ ہے، ۲۰۲۹ء میں مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس پر ۳۲۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بلٹ ٹرین دوڑے گی اور تقریباً۲؍ گھنٹے ۷؍ منٹ میں احمدآباد پہنچا جاسکے گا مگر کئی برس سےجاری اس پروجیکٹ کی تکمیل اور بلٹ ٹرین میں سفر کرنے کیلئے ابھی شہریوں کو۳؍سال تک انتظار کرنا ہوگا۔