آج 18 جون اسپیشل آفیسر برائے اردو زبان ۔بال بھارتی پونہ خان نوید الحق کا یوم ولادت ہے پیشکش سلمی صنم
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 18, 2026
0
share
پورا نام خان نویدالحق ۔قلمی نام: عرفیت خان بابا ۔والد کا نام انعام الحق خان اور والدہ کا نام روشن آراء ہے۔ان کا آبائی وطن پیپل گاؤں راجا ،تعلقہ کھامگاؤں، ضلع بلڈانہ مہاراشٹر ہے۔وہ ١٨ /جون ١٩٦۴ء کو ممبئ میں پیدا ہوئیں اور وہیں ایم.اے، بی.ایڈ ،ایل ایل بی، تک تعلیم حاصل کی۔ریاست کے ایک اہم ادارے بال بھارتی میں اکتیس برس قبل ملازمت اختیار کی۔
اردوٗ ادب کی نابغہ روزگار شخصیات کے تعاون سے درسی کتب کی تدوین کے ساتھ ساتھ ریاست بھر کے اساتذہ کی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیا۔اردوٗ بحالی مہم کا حصہ بن کر عربی اور فارسی زبان کے لیے کام کرتے رہے۔
تصنیفات:
تقریباً سات سو درسی کتب کی ترتیب و تدوین
عکس منتشر.خان نوید الحق ۔شخص سے شخصیت تک۔مرتب سید خالد
وہ ماہنامہ گل بوٹے کے ساتھ جڑ کر ادب اطفال کے فروغ کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئ ادب شخصیات پر خاکے ،سو لفظی کہانیاں اور ادبی کتابوں پر تبصرے اور تجزیے بھی لکھے ہیں
وہ ادب اطفال کے پروگراموں میں مدعو کئے جاتے ہیں اور بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے کئ رسالوں کے مجلس مشاورت میں بھی شامل ہے نمونہ تحریر سو لفظی کہانی *بڑی سوچ*
خان نویدالحق انعام الحق ایکـــــــ بچہ ایک عالی شان بنگلے کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا.
بنگلے کا مالک بچے کو گھر لے آیا.
بچہ بولا ، آپ کا مکان تو بہت پیسوں کا ہوگا.
آدمی بولا، ہاں! کروڑوں روپے کا ہے.
لڑکا بولا، اسے بنانے میں بہت محنت کی ہوگی آپ نے .
آدمی ہنسا، نہیں یہ مکان مجھے میرے والد نے تحفے میں دیا ہے.
لڑکا سوچتے ہوئے بولا، واہ! آپ کے والد کتنے اچّھے ہیں.
آدمی بولا، لگتا ہے تم سوچنے لگے ہو مجھے بھی ایسا قیمتی بنگلہ تحفے میں ملتا.
لڑکا بولا،نہیــــــں! مَیں سوچ رہا ہوں کہ مجھے اپنے والد کو اس سے بھی اچھا مکان تحفے میں دینا چاہیے. ۲
سو لفظی کہانی *دواخانے کے کاغذات*
خان نویدالحق انعام الحق ہم دو بھائی ہیں، اماں کے بعد ابا نے ہمارے نام وصیت بھی کر رکھی ہے.
ہم اپنی جائیداد کا بہت خیال رکھتے ہیں. ابا کافی بیمار تھے. انھیں دیکھنے بڑے بھائی آئے. آج ہی ابا کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا تھا، مَیں ابا کی فائل تلاش کر رہا تھا.
بھائی نے پوچھا، کیا ڈھونڈ رہے ہو. مَیں نے کہا، ابا کے دواخانے کے کاغذات.
کہاں رکھ دیے؟
یاد نہیں آرہا... ،کہیں گھر کی صفائی کے وقت کباڑی... ؟ مَیں بڑبڑایا. بھائی نے پوچھا، وصیت کے کاغذات کہاں ہیں. مَیں نے کہا، الماری کی تجوری میں حفاظت سے رکھے ہیں
: (۴)
سو لفظی کہانی *توکل*
خان نویدالحق انعام الحق ایک ہرنی زچگی کا وقت آنے پر جنگل کے کنارے واقع دریا کی طرف گئی.
اچانک بجلی گری اور جنگل میں آگ لگ گئی، ہرنی گھبرائی، آس پاس دیکھا تو اسے ایک طرف شکاری اور دوسری طرف شیر نظر آیا.
ہرنی سمجھی اب جان گئی.
ہر سمت خطرہ اور فرار کی کوئی راہ نہیں، ہرنی نے توکل کیا اور پیدائش پر توجہ مرکوز کی.
شکاری نے نشانہ باندھا تبھی اسمان پر بجلی چمکی، شکاری کا نشانہ چوکا اور تیر شیر کو جا لگا، تیز برسات برسی، جنگل کی آگ یکدم بجھ گئی۔ ہرنی کو اس کے خالق نے بچا لیا۔ : (۵)
سو لفظی کہانی *خدا کا دوست*
خان نویدالحق انعام الحق ایک بچہ شدید گرمی میں ننگے پاؤں پھول بیچ رہا تھا. ایک خدا ترس شخص نے جوتے خریدے اور کہا بیٹا ! لو، یہ جوتے پہن لو. بچے نے فوراً جوتے پہن لیے اور اس شخص کا ہاتھ تھام کر پوچھا، آپ خدا ہیں؟ اس نے کہا، نہیں بیٹا نہیں، مَیں خدا نہیں ہوٗں. بچہ مسکرا کر بولا، تو پھر ضروٗر خدا کے دوست ہوں گے. مَیں نے کل رات خدا سے جوتے مانگے تھے. وہ شخص مسکرایا، بچے کی پیشانی چوٗمی اور گھر کی طرف چل پڑا۔ اب وہ جان چکا تھا کہ *خدا کا دوست* بننا کتنا آسان ہے. : (٣)
سو لفظی کہانی *آخری دروازہ*
خان نویدالحق انعام الحق ایکـــــــــ نابینا فقیر در در خیرات مانگا کرتا. خیرات مانگتے مانگتے ایکـــــــ روز اس نے ایسے دروازے پر دستک دی، جہاں سے کوئی جواب نہیں آیا.
وہاں سے ایک شخص کا گزر ہوا. اس نے نابینا فقیر سے کہا، اس دروازے کے اندر ایسا کوئی نہیں ہے جو تمھیں کچھ دے سکے. فقیر نے پوچھا، یہ کس کا گھر ہے؟
وہ شخص بولا، یہ مسجد ہے اور اللّٰـہ کا گھر ہے. یہاں کوئی نہیں رہتا. فقیر بولا، مجھے اسی در کی تو تلاش تھی. یہی تو وہ در ہے جہاں سے مجھے سب کچھ ملے گا. میرے لیے آخری دروازہ . : (۷)
سو لفظی کہانی *نہلے پہ دہلا* *پیرانِ پیر*
خان نویدالحق انعام الحق ایک عورت کسی پیر صاحب کے آستانے پر پہنچی ، پیر صاحب نے مسئلہ سننے کے بعد فرمایا، محترمہ! یہ کام بہت مشکل ہے اس کے لیے چلہ کشی کرنی پڑے گی اور کچھ رقم بھی درکار ہوگی. عورت: پیر صاحب! کتنی رقم درکار ہوگی؟
پیر صاحب: زیادہ نہیں ، بس جو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء گزرے ہیں ، ان میں سے ہر ایک کے نام کا ایک ایک روپیہ چاہیے. عورت بھی پہنچی ہوئی تھی، فوراً بولی : کوئی بات نہیں، آپ ہر نبی کا نام پکارتے جائیں، میں ہر نبی کا نام سن کر ایک ایک روپیہ پیش کرتی جاؤں گی.." (۶)
سو لفظی کہانی *فرعون کون*
خان نویدالحق انعام الحق ہم نے تعلیم ساتھ حاصل کی اور ملازمت کے لیے سعودی میں ساتھ رہنے لگے. ساتھ میں مقیم ایکـــــــ دوست نے مجھ سے پوچھا کہ جدہ میں کوئی تمھارا جاننے والا ہے؟
مَیں نے کہا کہ یار تم کام تو بتاؤ ۔۔۔ دوست کہنے لگا کہ تمھاری بھابھی اپنا نام تبدیل کروانے کا کہہ رہی ہے. ایک ہفتے سے بضد ہے کہ مَیں اپنا نام آسیہ رکھنا چاہتی ہوٗں. مَیں دوست سے بولا، تُم اپنا رویہ تبدیل کرو ، انسان بنو اور تمیز کے ساتھ رہنا سیکھو ، بھابھی نام نہیں تبدیل کروانا چاہ رہیں ، تمھیں اشارے کنایے میں فرعون کہہ رہی ہیں. : (٨)
سو لفظی کہانی *ہدایت نامہ خواتین* *پھن* *اظہارِ محبت*
خان نویدالحق انعام الحق پیار سے بڑا کوئی جال نہیں ہے...
آدمی کچھ سمجھ نہیں پاتا تو وہ پیار کا مکر کرتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ "آئی لو یو" ۔۔۔۔ جیسے زہریلے فقرے سے شروٗعات کرتا ہے.
پیار کے زہر سے لیس آدمیوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے.
وہ مقصد چھپ کر حاصل کرنا ہوتا ہے ، مگر کسی سے چھپا نہیں ہے.
ان سے جواب میں پیار کرکے ہی جان چھڑائی جاسکتی ہے .
جوابی اظہار محبت سے ان کے ہوش ٹھکانے آتے ہیں.
بلکہ شادی کی بات کر ڈالنے سے ان کی "میا" ہی مرجاتی ہے.
پھر محبت کا " پھن" سر نہیں اٹھاتا. (٩)
سو لفظی کہانی *سیاست کا چکّا* *میرٹ*
ریاست مہاراشٹر میں نارائن جیسی مہان شخصیت اور” نام چین“ ہستی کے ہوتے ہوئے ۔۔۔
شندے جیسے چھوٹے ملزم اور کم ایف آئی آر والے قدرے غیر معروف ملزم کو نوازنا میرٹ کا قتلِ عام ہے.
اس کے اکاؤنٹ میں اس کے نام سے مجرمانہ کریڈٹ کچھ بھی تو نہیں ہے.
نارائن کے ساتھ ہونے والی بے انصافی کا بھگتان تو عوام کو بھگتنا پڑے گا.
دیکھ لینا۔ ۔۔۔ نارائن بھاؤ کی ہائے تو لگے گی ہی سسٹم اور عوام دونوں کو ۔۔۔۔
اور نہیں تو کیا ۔۔۔۔ اگر سیاست کا چکّا یوں ہی گردش میں رہا تو نَیّا ڈوٗب جائے گی پارٹی کی.