دوحہ: ایک چور نے فلسطینی خاتون کا چوری شدہ بیگ معافی نامہ کے ساتھ واپس کردیا۔
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 28, 2026
0
share
انقلاب دوحہ میں ایک فلسطینی خاتون کا چوری شدہ بیگ چور نے معافی نامہ لکھ کر واپس کردیا،یہ جاننے کے بعد کے خاتون کا تعلق فلسطین سے ہے اور وہ طبی مسائل سے دوچار ہے، چور نے وہ بیگ خاتون کے گھر کے باہر رکھ کر ایک معافی نامہ چھوڑا، جس کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
قطرکے دارالحکومت دوحہ میں ایک عجیب اور دل کو چھو لینے والے واقعے میں، ایک چور نے، یہ جاننے کے بعد کہ وہ خاتون فلسطینی ہے اور اسے ایک طبی مسائل لاحق ہے ایک فلسطینی خاتون کا ہینڈ بیگ اس کے گھر کے باہر رکھ کر واپس کر دیا اور ساتھ میں ہاتھ سے لکھا ہوا معافی نامہ بھی چھوڑا ۔ یہ معاملہسوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جہاں لوگ ضمیر، شناخت اور عرب دنیا میں یکجہتی کے موضوعات پر بحث کر رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، اس خاتون، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کو اگلی صبح اپنا گمشدہ بیگ اپنے گھر کے باہر سلیقے سے رکھا ہوا دیکھ کر حیرت ہوئی۔ جب اس نے اسے کھولا تو بیگ میں اس کی تمام چیزیں موجود تھیں، جن میں ۲۷۵؍ ڈالر نقد، ذاتی شناختی کارڈز اور اہم طبی دستاویزات شامل تھے۔
بظاہر، چور نے بیگ کا معائنہ کیا اورجب سے اس بات کا ادراک ہوا کہ اس بیگ کی وارث ایک فلسطینی ہیں اور اسے کسی بیماری کا باقاعدہ علاج درکار ہے۔اس انکشاف نے چور کو پشیمان کیا اور اس نے بیگ واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں اس نے بیگ کے اندر ایک رقعہ چھوڑا جس پر لکھا تھا، ''مجھے معاف کر دو، مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم فلسطینی ہو، اور اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں تمھارا بیگ کبھی چوری نہ کرتا۔'' اگرچہ الفاظ کی تصدیق نہیں ہو سکی، مگر اس کے جذباتی اثر کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔ یہ کہانی قطری اور علاقائی پلیٹ فارمز پر ٹرینڈنگ ٹاپک بن گئی۔ بہت سے صارفین نے حیرت اور مزاح کے ساتھ ردعمل کا اظہار کیا، اور اس نامعلوم مجرم کو ''اصول پرست چور'' کہا۔جبکہ کچھ نے مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں کے لیے گہری ہمدردی کی طرف اشارہ کیا۔ تاہم مقامی پولیس نے کسی تحقیقات کا اعلان نہیں کیا، اور خاتون نے مبینہ طور پر کوئی شکایت درج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ ۷؍ اکتوبر کے بعد فلسطین پر اسرائیل کی جارحانہ بمباری کے سبب پورا علاقہ کھنڈر میں تبدیل ہوگیا ہے، اس کے علاوہ اس نسل کش حملوں میں ۷۴؍ سے زاید فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ ساتھ ہی شہر کی ۸۰؍ آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں کے تعلق سے پوری دنیا میں ہمدردی کی ایک لہر پیدا ہوئی ہے، اس خاتون کی بطور فلسطینی شناخت نے چور کے دل میں بھی ہمدردی کا جذبہ پیدا کیا ہوگا، جس نے اسے اس بیگ کو لوٹانے پر آمادہ کیا۔