ماہم کا قلعہ: سمندر کی ایک خاموش تاریخ (قمر صدیقی، ممبئی)
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 02, 2026
0
share
ممبئی کی تاریخ دراصل سمندر کی تاریخ ہے. اس شہر کی تجارت، سیاست، معیشت اور تہذیب سب پر سمندر کی مہر ثبت ہے. یہی وجہ ہے کہ جس نے سمندر پر نگاہ رکھی، اس نے ممبئی پر بھی نگاہ رکھی. ماہم کا قلعہ اسی نگاہ کا استعارہ ہے.
ایک ایسی نگاہ جو صدیوں تک آنے جانے والے جہازوں، بدلتی ہوئی سلطنتوں اور سمندر کے مزاج پر نظر رکھتی رہی. ممبئی کے قدیم مقامات میں ماہم کا قلعہ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے. بعض روایات کے مطابق اس کی بنیاد 1140 میں راجپوت حکمراں راجا پرتاپ بمب نے رکھی تھی.
اگر یہ روایت درست ہے تو ماہم کا قلعہ ممبئی کی قدیم ترین عسکری یادگاروں میں شمار کیا جا سکتا ہے. اس وقت نہ بمبئی کا نام عالمی تجارتی نقشے پر تھا، نہ فلک بوس عمارتوں کا کوئی وجود تھا، نہ سی لنک کا تصور اور نہ ہی لوکل ٹرینوں کا شور. صرف سمندر تھا، ساحلی بستیاں تھیں اور ان پر نگاہ رکھنے کے لیے ایک قلعہ تعمیر کیا جا رہا تھا. وقت گزرتا گیا اور ماہم کی اہمیت بڑھتی چلی گئی. پندرہویں صدی میں یہ علاقہ ایک اہم تجارتی اور عسکری مرکز بن چکا تھا. اس زمانے میں گجرات سلطنت کی عملداری یہاں قائم تھی. بعض تاریخ داں اسی عہد کو قلعے کی اصل تعمیر کا زمانہ قرار دیتے ہیں. ماہم اس وقت آج کے کسی مضافاتی علاقے کی طرح نہیں تھا بلکہ ایک فعال بندرگاہی بستی تھا جہاں عرب دنیا سے تجارتی تعلقات قائم تھے، کشتیاں آتی جاتی تھیں اور سمندر زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا تھا. قلعے کی فصیلوں پر کھڑے ہو کر آج بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کی جگہ کتنی حکمت کے ساتھ منتخب کی گئی ہوگی. ایک طرف ماہم کی کھاڑی، دوسری جانب بحیرہ عرب اور سامنے دور تک پھیلا ہوا پانی. سمندر سے آنے والی ہر کشتی اس کی نگاہ میں ہوتی تھی. دشمن کی کوئی بھی حرکت ہو، قلعے کے سپاہی دور ہی سے بھانپ لیتے تھے. اپنے عروج کے زمانے میں ماہم کا قلعہ محض چند فصیلوں اور برجوں کا مجموعہ نہیں تھا. اس پر تیس توپیں نصب تھیں اور تقریباً سو سپاہیوں پر مشتمل ایک دستہ یہاں تعینات رہتا تھا. یہ قلعہ دراصل ماہم کی کھاڑی کا نگہبان تھا. اس کا کام ساحلوں کی حفاظت کرنا، دشمن جہازوں پر نظر رکھنا اور سمندری راستوں کو محفوظ بنانا تھا. آج جب کھاڑی میں لہریں خاموشی سے بہتی ہیں تو اندازہ کرنا مشکل ہے کہ کبھی یہی پانی جنگی حکمت عملی کا مرکز رہا ہوگا. پھر تاریخ نے ایک اور کروٹ لی. پرتگیزی آئے. سولہویں صدی میں انہوں نے ماہم اور اس کے اطراف کے علاقوں پر قبضہ کر لیا. ممبئی کی تاریخ کا یہ ایک اہم موڑ تھا. پرتگیزیوں نے ساحلی علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی اور ماہم کا قلعہ بھی ان کی عسکری حکمت عملی کا حصہ بن گیا. ان دنوں بحیرہ عرب صرف تجارت کا راستہ نہیں تھا بلکہ اقتدار کی جنگ کا میدان بھی تھا. بعد میں 1661ء میں پرتگال کی شہزادی کیتھرین آف براگانزا کی شادی انگلستان کے بادشاہ چارلس دوم سے ہوئی اور بمبئی کے جزائر جہیز کے طور پر انگریزوں کے حوالے کر دیے گئے. ماہم کا قلعہ بھی اس تاریخی انتقالِ اقتدار کا خاموش گواہ بنا. سلطنتیں بدلتی رہیں، پرچم بدلتے رہے، مگر قلعہ اپنی جگہ قائم رہا. وقت کے ساتھ ممبئی کا جغرافیہ بھی بدلنے لگا. نئے قلعے بنے، نئی بندرگاہیں وجود میں آئیں اور سیاسی و عسکری اہمیت کے مراکز دوسری طرف منتقل ہو گئے. ماہم کا قلعہ آہستہ آہستہ اپنی سابقہ اہمیت کھونے لگا. جو قلعہ کبھی سمندر پر نگاہ رکھتا تھا، وقت نے اسے تاریخ کے حوالے کر دیا. کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ممبئی کے قدیم قلعے کسی داستان کے کردار نہیں بلکہ اس کے آخری راوی ہیں. باندرہ کا قلعہ ہو، سائن کا قلعہ ہو یا ماہم کا قلعہ، سب کے چہروں پر ایک سی تھکن اور ایک سی اداسی دکھائی دیتی ہے. شاید اس لیے کہ انہوں نے اپنے سامنے ایک چھوٹی سی بندرگاہی بستی کو دنیا کے بڑے شہروں میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے. ماہم کا قلعہ تو خاص طور پر ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے. ایک طرف باندرہ ورلی سی لنک اپنی جدید انجینئرنگ کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے، دوسری طرف قلعے کی قدیم فصیلیں وقت کے زخم اپنے اوپر لیے کھڑی ہیں. ایک طرف اکیسویں صدی ہے، دوسری طرف پندرہویں صدی. ایک طرف رفتار ہے، دوسری طرف ٹھہراؤ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں ایک ہی فریم میں، ایک دوسرے کے روبرو موجود ہیں. شام کے وقت جب سورج سمندر میں اترنے لگتا ہے تو قلعے کے اردگرد کا ماحول اور بھی دلکش ہو جاتا ہے. سمندر کی لہریں پتھروں سے ٹکراتی ہیں، پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹتے ہیں اور فصیلوں پر کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت اچانک سست پڑ گیا ہو. کچھ فاصلے پر ماہم کی درگاہ کا علاقہ نظر آتا ہے، کھاڑی کا پانی دکھائی دیتا ہے اور ممبئی کا شور کہیں پیچھے رہ جاتا ہے. ماہم کا قلعہ صرف فوجی تاریخ کا باب نہیں بلکہ ممبئی کی تہذیبی تاریخ کا بھی حصہ ہے. اس کے آس پاس وہی ماہم آباد ہے جس نے حضرت مخدوم علی ماہمی کو دیکھا، ماہی گیروں کی بستیاں پروان چڑھتے دیکھیں، پرتگیزی جہازوں کو ساحل پر لنگر انداز ہوتے دیکھا اور بعد میں انگریزوں کے دور میں ایک جدید شہر کی بنیادیں بنتی دیکھیں. ممبئی میں لاکھوں لوگ روزانہ ماہم سے گزرتے ہیں. گاڑیاں دوڑتی ہیں، لوکل ٹرینیں گزرتی ہیں، سی لنک پر رفتار کا سیلاب رواں رہتا ہے، مگر ان میں سے کتنے لوگ ہیں جو چند قدم ہٹ کر اس قلعے تک پہنچتے ہیں؟ اس شہر کی بے تحاشا بھاگ دوڑ میں آخر کسے فرصت ہے کہ وہ تاریخ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چند لمحے اس کے ساتھ بیٹھے؟ لیکن جو شخص ایک بار اس قلعے کی فصیلوں تک پہنچ جائے، وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ محض پتھروں کا خاموش ڈھانچہ نہیں بلکہ ممبئی کی اجتماعی یادداشت کا ایک زندہ استعارہ ہے. یہاں ماضی عجائب گھر کی چیز نہیں ہے بلکہ سمندر کی ہوا کے ساتھ سانس لیتا محسوس ہوتا ہے. وقت کا سمندر دھیرے دھیرے ہر چیز کو بدل دیتا ہے. انگریزوں کے دور میں اس کی فوجی اہمیت کم ہوئی، شہر دوسرے رخ پر پھیلنے لگا اور قلعہ آہستہ آہستہ تاریخ کے حاشیے پر چلا گیا. اس کے اطراف غیر منظم آبادیاں بس گئیں، جھونپڑیاں اگ آئیں اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ تاریخی ورثہ نظروں سے اوجھل ہونے لگا. مگر تاریخ مکمل طور پر کبھی نہیں مرتی. گزشتہ برسوں میں جب سے ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ آثارِ قدیمہ نے اس علاقے کو تجاوزات سے پاک کر کے قلعے کی بحالی کا کام شروع کیا ہے. یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں پرانا یہ سپاہی، جو مدتوں گرد و غبار میں گم تھا، ایک بار پھر سمندر کے کنارے کھڑا اپنی شناخت واپس حاصل کر رہا ہو. ممبئی شہر آج جس شان سے سمندر کے کنارے آباد ہے، اس کے پس منظر میں کتنی ہی ایسی عمارتیں، بستیاں اور کردار ہیں جو وقت کی دھند میں گم ہو چکے ہیں. ماہم کا قلعہ انہی گم شدہ آوازوں کی ایک بازگشت ہے. اس کی فصیلوں پر کھڑے ہو کر سمندر کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے لہریں صرف پانی نہیں لاتیں، اپنے ساتھ گزری ہوئی صدیوں کے قصے بھی بہا لاتی ہیں اور تب احساس ہوتا ہے کہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتے، یادوں سے بھی بنتے ہیں. ماہم کا قلعہ انہی یادوں کا ایک قدیم محافظ ہے، جو آج بھی سمندر کے کنارے کھڑا ممبئی کے گزرے ہوئے زمانوں کی نگہبانی کر رہا ہے.