محترم اساتذہ کرام: ہمارے کلاس روم میں کوئی 'عمائرہ' تو نہیں؟ از قلم: آصف جلیل احمد( معاون معلّم) مالیگاؤں 9225747141
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 16, 2026
0
share
جئے پور کے ایک اسکول کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک نو سالہ بچی 'عمائرہ'، جو زندگی کی رعنائیوں میں کھونے کی عمر میں تھی، وہ اپنے ہی اسکول کی چوتھی منزل سے زمین پر کُود پڑی۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، یہ ایک نو عمر بچی کی 'بے بسی کی انتہا' کا دلخراش منظر تھا۔ جب اس نے زمین کا رخ کیا، تو اس کے پیچھے درحقیقت وہ تمام اساتذہ، وہ انتظامیہ اور وہ نظامِ تعلیم کھڑا تھا جس نے اس کے معصوم فریادی لہجے کو اپنی 'مصروفیت' کی نذر کر دیا تھا۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ عمائرہ کو کلاس کے چند ہم جماعتوں کے رویوں نے شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ وہ مسلسل غیر مہذب جملوں کا نشانہ بن رہی تھی۔ اس نے ہمت نہیں ہاری تھی اس نے اپنی ٹیچر سے رجوع کیا، ایک بار نہیں، چار سے پانچ بار! لیکن جس جگہ اسے پناہ اور تسلی ملنی تھی، وہاں سے اسے صرف 'سنا ان سنا' کر دیا گیا۔ بار بار بچّی شکایت کرتی رہی اور ٹیچر نے کوئی توجہ نہ دی، وہ بچی جو اونچائی سے ڈرتی تھی، اس نے زندگی اور موت کا انتخاب کرتے وقت اونچائی کے خوف کو اس 'ذہنی اذیت' سے کم تر پایا جو اسے کلاس روم میں مل رہی تھی۔ آج کا معلّم ایک عجیب کشمکش میں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم پر دفتری کاموں، آن لائن رپورٹس، نصابی منصوبہ بندی، روزانہ کی معلومات، اور غیر تدریسی سرگرمیوں کا اتنا بوجھ ہے کہ ہمارا ذہن مسلسل ایک 'مشینی حالت' میں رہتا ہے۔ ہماری دوڑ دھوپ اس بات پر مرکوز ہے کہ ہمارے کمرہ جماعت کی فائلیں مکمل ہو جائیں، وقت پر معلومات ارسال ہوجائے اور دفتری تقاضے پورے ہوں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اس مصروفیت میں ہم کیا کھو رہے ہیں؟ ہم اپنی ہی کلاس کے تمام طلباء کی وہ 'انفرادی توجہ' کھو رہے ہیں جو ایک استاد کی اصل روح ہے۔ جب ہم بچوں کو محض 'طالب علموں کی ایک بھیڑ' یا 'رجسٹر کے ناموں' تک محدود کر دیتے ہیں، تو ہم ان کی انفرادی کیفیت اور جذبات سے اپنا رشتہ توڑ بیٹھتے ہیں۔ ایک حساس بچہ جب اپنی پریشانی اپنے کلاس ٹیچر کے پاس لے کر آتا ہے، تو وہ اپنا اعتماد آپ کے سپرد کر رہا ہوتا ہے۔ اسے نظر انداز کرنا اس کے اعتماد کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ نظام کا دباؤ ہمیں چڑچڑا اور ذہنی طور پر منتشر کر رہا ہے۔ لیکن یاد رکھیے، آپ کے سامنے بیٹھا ہر بچہ ایک قیمتی امانت ہے۔ کلاس روم میں بچوں کا ایک دوسرے کو تنگ کرنا یا چھیڑنا محض ایک بچگانہ حرکت ہوسکتی ہے، لیکن اگر اسے بروقت نہ سمجھا جائے تو یہ بچے کے دل و دماغ پر گہرے منفی اثرات چھوڑ سکتی ہے۔ ایک استاد کا کام یہ ہے کہ وہ بچوں کی ان نادانیاں بھری حرکتوں کے پیچھے چھپے ہوئے ان کے جذباتی کرب کو پہچانے۔ اگر ہم اس وقت نرمی اور بصیرت حکمت سے کام نہیں لیتے تو بچہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے، اور یہ تنہائی ہی اکثر بڑی پریشانیوں کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ ہمیں کیا کرنا ہوگا؟؟ ہماری تدریس کا مقصد صرف نصاب مکمل کرنا نہیں ہے۔ اگر ہم نے بچے کے دل میں اپنا مقام نہ بنایا، اگر ہم نے اسے کلاس روم میں 'محبت اور تحفظ' کا احساس نہ دیا، تو ہماری تمام ڈگریاں اور منصوبہ بندیاں بے معنی ہیں۔ ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ جب ایک بچہ کلاس میں داخل ہو، تو اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہاں ایک ایسا 'مسیحا' موجود ہے جو اس کی خاموش چیخوں کو بھی سن سکتا ہے۔ عمائرہ کی موت صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں، یہ ہم سب کے 'استاد ہونے' پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کاش کہ اس دن اس بچی کی بات سنی جاتی، کاش کہ اس کے آنسوؤں کو 'معمولی شرارت' سمجھنے کے بجائے اس کی پکار سمجھا جاتا۔ آئیے، اس واقعے کو ایک سبق بنائیں۔ اپنی کلاس رومز کو صرف معلومات کی منتقلی کا مرکز نہ بنائیں، بلکہ اسے ایک ایسی پناہ گاہ بنائیں جہاں ہر بچہ محفوظ محسوس کرے۔ کیونکہ ایک استاد کی اصل کامیابی نصاب مکمل کرنا نہیں، بلکہ بچے کی الجھی ہوئی شخصیت کو سنوار کر اسے زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور سمجھ بوجھ عطا کرنا ہے۔۔ عمائرہ اب واپس نہیں آئے گی، لیکن کیا ہم اگلی عمائرہ کو بچانے کے لیے تیار ہیں؟