گاؤں میں انٹرنیٹ تک نہیں تھا، انسائیکلوپیڈیا سے خلاء کو سمجھنے والے اویس احمد نے بنا دی سیٹلائٹ کمپنی، ناسا کے ساتھ بھی کام
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 11, 2026
0
share
خبر: UNA NEWS کرناٹک کے چکمگلورو ضلع کے چھوٹے سے گاؤں الڈور سے تعلق رکھنے والے اویس احمد نے خلائی ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ بچپن میں آٹھویں جماعت تک انہیں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں تھی۔ خلاء، سیاروں اور کہکشاؤں کے بارے میں جاننے کے لیے وہ اپنے والد کی لائی ہوئی انسائیکلوپیڈیا اور کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ یہی شوق آگے چل کر ان کے خلائی سفر کی بنیاد بنا۔ آج اویس احمد خلائی ٹیکنالوجی کمپنی "Pixxel" (https://reference-url-citation.invalid/1) کے شریک بانی اور سی ای او ہیں۔ کمپنی جدید ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹس تیار کر رہی ہے، جو زمین کی سطح سے متعلق انتہائی باریک معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کی صحت، آلودگی، میتھین کے اخراج اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ اویس احمد کی کمپنی نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا اور امریکی خلائی ادارے NASA کے ساتھ ارتھ آبزرویشن سے متعلق معاہدہ بھی حاصل کیا۔ Pixxel کے چھ Firefly سیٹلائٹس 2025 میں مدار میں پہنچ چکے ہیں اور کمپنی انہیں زمین کے لیے ایک جدید ’’ہیلتھ مانیٹر‘‘ بنانے کے اپنے مشن کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔ کرناٹک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں کتابوں اور انسائیکلوپیڈیا سے خلاء کو سمجھنے کا سفر شروع کرنے والے اویس احمد کی کامیابی آج ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ایک متاثر کن مثال بن گئی ہے۔