قانون ساز کونسل میں اقلیتی مسائل پر ایم ایل سی ادریس نائیکواڑی کی مؤثر آواز، آنجہانی اجیت دادا پوار کی دوراندیشی ایک بار پھر ثابت
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 11, 2026
0
share
ممبئی/ پریس ریلیز: مہاراشٹر قانون ساز کونسل میں اقلیتی سماج کے بنیادی مسائل ایک بار پھر زور و شور سے گونج اٹھے، جب رکنِ قانون ساز کونسل ادریس نائیکواڑی نے توجہ طلب نوٹس (لکش ویدھی) کے ذریعے اقلیتی ترقیات کے محکمے کی کارکردگی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
انہوں نے اقلیتی اکثریتی علاقوں کے لیے بنیادی سہولیات، اقلیتی تعلیمی اداروں کی امداد، مدارس کی جدیدکاری، طلبہ کی اسکالرشپ اور فنڈز کے استعمال سے متعلق متعدد اہم سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت سے واضح جواب طلب کیا۔
ایوان میں اپنی مدلل تقریر کے دوران ادریس نائیکواڑی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ تحریری جواب ادھورا اور غیر تسلی بخش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہری و دیہی علاقوں کے لیے مختص کروڑوں روپے کے فنڈز کی ضلع وار تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ رقم کہاں اور کس مقصد کے لیے خرچ کی گئی ہے۔
انہوں نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے ہر سال دس لاکھ روپے کی امداد دینے کے سابقہ حکومتی وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ گزشتہ برس یہ رقم کیوں جاری نہیں کی گئی، اور کیا اب بقیہ (بیک لاگ) رقم بھی فراہم کی جائے گی؟ انہوں نے ڈاکٹر ذاکر حسین مدرسہ جدیدکاری اسکیم کے اساتذہ کے بقایہ اعزازیہ اور اقلیتی طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ میں تاخیر کا معاملہ بھی شدت سے اٹھایا۔ حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے متعلقہ وزیر نے اعتراف کیا کہ بعض اسکیموں میں مطلوبہ رفتار سے عمل درآمد نہیں ہوسکا اور فنڈز کے اجراء، تجاویز میں خامیوں اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے کئی مستحق ادارے اور طلبہ فوائد سے محروم رہ گئے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سیاسی و سماجی حلقوں میں ادریس نائیکواڑی کی اس مؤثر مداخلت کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مرحوم اجیت دادا پوار نے اقلیتی سماج کے مسائل کو مؤثر انداز میں ایوان تک پہنچانے کے لیے جس اعتماد کے ساتھ ادریس نائیکواڑی کو ذمہ داری دی تھی، آج ان کی دوراندیشی ایک بار پھر درست ثابت ہوئی ہے۔ اقلیتی سماج کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ادریس نائیکواڑی نے ایوان میں نہ صرف اقلیتوں کے سلگتے ہوئے مسائل کو پوری قوت کے ساتھ پیش کیا بلکہ حکومت کو حقیقی صورتِ حال واضح کرنے پر بھی مجبور کیا۔ ان کی یہ جرأت مندانہ نمائندگی اقلیتی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی جدوجہد میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔