عبد الستار سر: ایک عہدِ تدریس از قلم محمد عارفین راحیل ابن محمد ثقلین
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 29, 2026
0
share
شہر ناندورہ اپنی ادبی، علمی اور سماجی شناخت کے سبب ہمیشہ سے ایک منفرد مقام رکھتا آیا ہے۔ یہاں کی قدیم ادبی روایت، جدید تعلیم و تربیت اور انسانی اقدار نے اس شہر کو صرف جغرافیائی اعتبار سے نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی اعتبار سے بھی ممتاز بنایا ہے۔ کسی بھی معاشرے، شہر یا ادارے کی ترقی کے پیچھے اگر کسی ایک طبقے کا سب سے زیادہ کردار ہوتا ہے تو وہ اساتذۂ کرام کا ہوتا ہے۔ استاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ نسلوں کی فکر، کردار اور مستقبل کی تعمیر بھی کرتا ہے۔ وہ معاشرے کی وہ بنیاد ہے جس پر آنے والی نسلوں کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر شہر ناندورہ کے قدیم اور معتبر تعلیمی ادارے مولانا آزاد اردو پرائمری و ہائی اسکول کا ذکر کیا جائے تو یہ ادارہ اپنے مخلص، محنتی اور باکردار اساتذہ کی وجہ سے ہمیشہ قابلِ فخر رہا ہے۔ اسی ادارے نے بے شمار ایسے طلبہ معاشرے کو دیے ہیں جو آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور اپنے شہر و ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہی عظیم اساتذہ میں ایک نہایت محترم اور قابلِ احترام نام جناب عبد الستار سر کا ہے، جو برسوں سے اپنے علم، اخلاص، محبت اور محنت کے ذریعے ہزاروں طلبہ کی شخصیت سازی میں مصروف ہیں، اور اب 31 جولائی 2026 کو اپنی تدریسی خدمات سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ مجھے یہ سبکدوشی محض ایک سرکاری رسم محسوس ہورہی ہے۔ ایسے لوگ کبھی اپنی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں ہوتے جن کے لیے خدمت ایک بوجھ نہیں بلکہ عبادت ہو، جن کے لیے تعلیم صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک مشن ہو، اور جنہیں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں قلبی مسرت حاصل ہوتی ہو۔ ایسے اساتذہ ریٹائر تو ہو جاتے ہیں، مگر ان کی تعلیم، ان کی تربیت اور ان کے اثرات کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔ میرا اپنا رشتہ بھی مولانا آزاد اسکول سے محض ایک طالب علم کا نہیں بلکہ جذبات اور یادوں کا رشتہ ہے۔ اسی ادارے میں میری ابتدائی تعلیم کا آغاز ہوا۔ اس وقت یہاں صرف پرائمری جماعتیں تھیں، پھر آہستہ آہستہ مڈل اور بعد ازاں ہمارے دورِ تعلیم تک دسویں جماعت تک کا سفر طے ہوا۔ میری زندگی کے دس قیمتی سال اسی ادارے میں گزرے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ "ان دس برسوں کو قیمتی بھی اسی ادارے نے بنایا"۔ عبد الستار سر نے پہلی جماعت سے چوتھی جماعت تک ہمیں وہ بنیادی تعلیم دی جس کی مضبوطی آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ آج ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں، جب لوگ ہر تحریر کے لیے مختلف تکنیکی ذرائع کے محتاج ہوتے جا رہے ہیں، تب بھی "اگر میں بغیر کسی تکنیکی مدد کے اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنا سکتا ہوں تو اس کی بنیاد انہی ابتدائی اسباق میں پوشیدہ ہے جو عبد الستار سر نے ہمیں سکھائے تھے"۔ عبد الستار سر کے حوالے سے ایک بات ہمیشہ میرے دل میں محفوظ رہے گی کہ میرے والدِ محترم اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ: "عبد الستار سر نے بڑی مشقتوں اور بے شمار دشواریوں کے بعد اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔" شاید یہی وجہ ہے کہ وہ تعلیم کی حقیقی قدر و قیمت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ "جس شخص نے خود حصولِ علم کی سختیاں برداشت کی ہوں، وہی علم کی روشنی دوسروں تک پہنچانے کا درد بھی رکھتا ہے۔" مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ والدِ محترم اور عبد الستار سر کی گھنٹوں نشستیں ہوا کرتی تھیں، (جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے) میں نے کئی مرتبہ انہیں ادب، تعلیم، سماجی اقدار اور نئی نسل کی تربیت جیسے موضوعات پر نہایت سنجیدگی، وقار اور محبت کے ساتھ گفتگو کرتے دیکھا اور سنا ہے۔ ان محفلوں سے یہ احساس ہوتا تھا کہ: "ایک سچا استاد صرف جماعت کی چار دیواری تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔" آج جب ان یادوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ عبد الستار سر کی تدریس کے پیچھے صرف ایک ملازمت نہیں تھی بلکہ ایک ایسا درد، ایک ایسا جذبہ اور ایک ایسا اخلاص تھا جو انہوں نے اپنی جدوجہد سے حاصل کیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہر طالب علم کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، اور یہی وصف انہیں ایک عام استاد سے بڑھ کر ایک مربی، ایک محسن اور ایک ایسی شخصیت بناتا ہے جس کا اثر برسوں بعد بھی شاگردوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ سر کی شخصیت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ درمیانہ قد، سانولا چہرہ، بالوں کو ایک مخصوص انداز سے سنوارنا، لبوں پر ہمیشہ مسکراہٹ، اور ہر چھوٹے بڑے سے خلوص اور شفقت کے ساتھ ملنا، یہ سب ان کی شخصیت کا مستقل حصہ ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی، انکساری اور سادہ مزاجی ہر ملنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ ان کی خوش خطی تو گویا اپنی مثال آپ ہے۔ یومِ جمہوریہ ہو، یومِ آزادی ہو یا کوئی بھی قومی و ملی تقریب، اسکول کے باہر نصب تختۂ سیاہ پر ان کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے خوبصورت الفاظ نہ صرف تقریب کی رونق بڑھا دیتے ہیں بلکہ دیکھنے والوں کے دلوں پر بھی خوشگوار نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا قلم صرف لکھتا ہی نہیں بلکہ حسن، سلیقہ اور محبت بھی بکھیرتا ہے۔ اسی مناسبت سے ایک شعر بے اختیار یاد آتا ہے: میرے مرشد! یقیناً تو چھڑی جادو کی رکھتا ہے ترے شاگرد سارے ہو گئے استاد، زندہ باد یہ شعر یقیناً عبد الستار سر جیسے معلم پر صادق آتا ہے، کیونکہ ان کے بے شمار شاگرد آج مختلف محکموں، اداروں اور شعبوں میں اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ لیکن ان کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی ہے کہ کامیابی کے بلند ترین مقام پر پہنچ جانے والے اپنے سابقہ شاگرد سے بھی وہ اسی محبت، شفقت اور اپنائیت سے ملتے ہیں، جیسے وہ آج بھی ان کی کلاس کا ایک طالب علم ہو۔ اپنے شاگردوں کی کامیابی دیکھ کر ان کی آنکھوں میں جو خوشی جھلکتی ہے، وہ کسی بھی استاد کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے ہمیں صرف حروف کی پہچان ہی نہیں کرائی بلکہ کردار کی بلندی، اخلاق کی پاکیزگی، بڑوں کے احترام، وقت کی پابندی، دیانت داری اور ایک اچھا انسان بننے کا سبق بھی دیا۔ یہی وہ تعلیم ہے جو کتابوں کے صفحات سے آگے بڑھ کر پوری زندگی کا سرمایہ بن جاتی ہے۔ آج ادارہ یقیناً اپنے ایک اہم ستون سے بظاہر محروم ہو رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عبد الستار سر کا تعلق اس ادارے سے کبھی ختم نہیں ہو گا، کیونکہ بعض رشتے تقرری اور ریٹائرمنٹ کے کاغذات کے محتاج نہیں ہوتے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب آمد و رفت کم ہو جاتی ہے تو بہت سی رونقیں خود بخود ماند پڑنے لگتی ہیں، اور کچھ آوازیں، کچھ مسکراہٹیں اور کچھ دعائیں یادوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ میں اپنی جانب سے اور اپنے تمام سابقہ ہم جماعتوں اور شاگردوں کی طرف سے دل کی گہرائیوں سے عبد الستار سر کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمیشہ انتہائی اخلاص، محبت، صبر اور محنت کے ساتھ ہماری تعلیم و تربیت فرمائی۔ جو کچھ آج ہم ہیں، اس میں یقیناً ہمارے والدین کی دعاؤں کے بعد ہمارے اساتذہ، خصوصاً عبد الستار سر کی محنت شامل ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ سر کو صحت، عافیت، خوشیوں، سکون اور درازیٔ عمر سے نوازے۔ ان کی آئندہ زندگی پہلے سے زیادہ پُرسکون، بابرکت اور خوشیوں سے بھرپور ہو۔ ایک تدریسی دور کا اختتام ضرور ہو رہا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ آپ نے جن ننھے ننھے اذہان کو علم کا زیور پہنایا، جن کرداروں کی آبیاری کی، اور جن دلوں میں اخلاق، محبت اور انسانیت کے چراغ روشن کیے، وہ سب آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔ اِن شاء اللہ، ان بے شمار شاگردوں کی کامیابیاں ہمیشہ آپ کے نامۂ اعمال میں اجر و ثواب کا سبب بنتی رہیں گی۔ استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، وہ اپنے شاگردوں کی کامیابیوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے محترم استاد، جناب عبد الستار سر کی ہر خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں صحت، عافیت اور سکونِ قلب عطا فرمائے، اور ان کی بقیہ زندگی کو خیر و برکت، عزت و احترام اور خوشیوں سے بھر دے۔ آمین یا رب العالمین۔