آنجہانی اجیت دادا پوار کی 67ویںجینتی پر مہاآروگیہ کیمپ کا کامیاب انعقاد،ہزاروں مریض مستفید آپ جیسے لوگ اجیت دادا پوار کوفلاحی کاموں سے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں‘‘ سنیترا پوار آنجہانی اجیت دادا پوار کی عوام دوستی اور خدمت کے جذبے کو آگے بڑھانا ہی ہمارا مقصد ہے: ادریس نائیکواڑی
Author -
personحاجی شاھد انجم
اگست 11, 2026
0
share
میرج :آنجہانی لوک نیتا اجیت دادا پوار کی 67ویں جینتی کے موقع پر میرج میں رکن قانون ساز کونسل ادریس نائیکواڑی کی جانب سے مہاآروگیہ کیمپ منعقد کیا گیا تھا۔عظیم الشان مہاآروگیہ طبی کیمپ عوامی خدمت کی ایک مثالی اور کامیاب کوشش ثابت ہوا۔ اس کیمپ سے میرج اور اطراف کے علاقوں کے ہزاروں مریضوں نے استفادہ کیا جنہیں مختلف امراض کی مفت جانچ، طبی تشخیص، ادویات، سرجری اور دیگر ضروری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ کیمپ کی کامیابی کے بعد رکنِ قانون ساز کونسل ادریس نائیکواڑی نے نائب وزیرِ اعلیٰ مہاراشٹر محترمہ سنیترا پوار سے ملاقات کرکے انہیں مہاآروگیہ کیمپ کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے کیمپ کے انعقاد، فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، مستفید ہونے والے مریضوں اور مختلف شعبۂ طب میں انجام دی جانے والی خدمات کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ادریس نائیکواڑی نے کہا کہ عوام کی خدمت ہی کسی بھی عوامی نمائندے کی اصل ذمہ داری ہے اور آنجہانی اجیت دادا پوار نے اپنی زندگی میں اسی اصول کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جینتی کے موقع پر ہزاروں افراد کو طبی سہولت فراہم کرنا ان کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک بامقصد طریقہ ہے۔ ادریس نائیکواڑی نے مزید کہا کہ آنجہانی اجیت دادا پوار نے اپنی پوری سیاسی زندگی عوامی خدمت اور سماج کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کی۔ ان کی 67ویں جینتی کے موقع پر عوام کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ اسی جذبۂ خدمت کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی اجیت دادا پوار عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ صحت عامہ ایک ایسا شعبہ ہے جس کا براہِ راست تعلق عام آدمی کی زندگی سے ہے، اسی لیے ان کی جینتی کے موقع پر کسی رسمی تقریب کے بجائے ایسا طبی کیمپ منعقد کرنے کو ترجیح دی گئی جس سے براہِ راست ہزاروں ضرورت مند افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔ادریس نائیکواڑی نے بتایا کہ مہاآروگیہ کیمپ میں بچوں، خواتین، بزرگوں، معذور افراد اور معاشرے کے دیگر طبقات کے لیے خصوصی طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ مختلف بیماریوں کے معائنے کے ساتھ ساتھ ضرورت مند مریضوں کے لیے علاج، ادویات اور سرجری کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ کی غیر معمولی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی خدمت کے کاموں کو لوگ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ رکنِ قانون ساز کونسل ادریس نائیکواڑی کی جانب سے پیش کی گئ اس کامیاب کیمپ رپورٹ پر نائب وزیرِ اعلیٰ سنیترا پوار نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور مہاآروگیہ کیمپ کی کامیابی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی اجیت دادا پوار سے سچی اور پکی محبت کرنے والے آپ جیسے لوگ انہیں ہمیشہ اس طرح کے عوامی خدمت کے کاموں سے لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جینتی کے موقع پر عوام کے لیے صحت اور علاج کی سہولیات فراہم کرنا آنجہانی اجیت دادا پوار کی عوام دوست سوچ اور خدمت کے جذبے کو بہترین خراجِ عقیدت ہے۔سنیترا پوار نے اس امر پر بھی مسرت کا اظہار کیا کہ ادریس نائیکواڑی نے آنجہانی اجیت دادا پوار کی جینتی کو محض ایک تقریب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے خدمتِ خلق اور صحتِ عامہ کے لیے وقف کیا اور ہزاروں شہریوں کو اس کا فائدہ پہنچایا۔ واضح رہے کہ میرج ہائی اسکول میں منعقدہ مہاآروگیہ کیمپ میں مختلف شعبۂ طب کے ماہر ڈاکٹروں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ کیمپ میں بچوں کے امراضِ قلب، ہڈیوں اور جوڑوں کے امراض، مختلف اقسام کی سرجری، آنکھوں کے امراض، خواتین کے طبی مسائل، کان اور سماعت، گردوں کے امراض، جلدی بیماریوں، کینسر اور دیگر امراض کی مفت جانچ اور علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ خواتین کے لیے خصوصی ڈاکٹر کی موجودگی میں طبی معائنہ کیا گیا اور خون میں ہیموگلوبن، وٹامن بی 12 اور کیلشیم سمیت مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔ بزرگ شہریوں کے لیے آنکھوں کا معائنہ، چشموں کی فراہمی اور ضرورت کے مطابق آپریشن کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ ضرورت مند مریضوں کو آیوشمان بھارت کارڈ، وزیراعظم جن آروگیہ یوجنا اور دیگر سرکاری صحت اسکیموں سے متعلق بھی رہنمائی فراہم کی گئی۔ معذور افراد کے لیے مصنوعی اعضا اور دیگر ضروری سہولیات کا انتظام کیا گیا، جبکہ تعمیراتی مزدوروں کے لیے بھی صحت سے متعلق خصوصی سہولیات فراہم کی گئیں۔ کیمپ کے دوران عظیم الشان خون عطیہ کیمپ کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے انسانی خدمت کے جذبے کا اظہار کیا۔ مہاآروگیہ کیمپ میں میرج اور اطراف کے علاقوں سے بڑی تعداد میں مریض پہنچے۔ مختلف معروف اسپتالوں اور طبی اداروں کے ماہر ڈاکٹروں نے مریضوں کا معائنہ کیا اور ضرورت کے مطابق انہیں مزید علاج اور آپریشن کے لیے رہنمائی فراہم کی۔ کیمپ میں بعض پیچیدہ امراض کے لیے بھی علاج اور سرجری کی سہولیات دستیاب رہیں۔ ادریس نائیکواڑی نے کیمپ کی کامیابی میں تعاون کرنے والے تمام ڈاکٹروں، اسپتال انتظامیہ، طبی عملے، سماجی کارکنوں، رضاکاروں اور مختلف تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔یوں آنجہانی اجیت دادا پوار کی جینتی کے موقع پر منعقدہ یہ مہاآروگیہ کیمپ نہ صرف طبی اعتبار سے کامیاب رہا بلکہ عوام کے درمیان رہنے والے ایک مقبول رہنما کی یاد کو عملی خدمت کے ذریعے زندہ رکھنے کی ایک خوب صورت اور قابلِ تقلید مثال بھی بن گیا۔