نائب امیرِ شریعت مہاراشٹر حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم کا خطاب — خلاصۂ کلام از: الطاف حسین حسینی خادم: جامعہ اسلامیہ دارالعلوم سونوری
Author -
personحاجی شاھد انجم
اگست 19, 2026
0
share
پروگرام کا تعارف امارتِ شرعیہ جمعیت علماء مہاراشٹر کے زیرِ اہتمام 8 اگست 2026ء، بروز اتوار ایک اہم اجلاسِ عام منعقد ہوا۔ یہ اجلاس جمعیت علماء مہاراشٹر کے ذمہ داران کی صدارت و نگرانی میں منعقد ہوا، جس میں اکابر علماء اور ذمہ داران نے شرکت فرمائی۔
اسی اہم اجلاس کے موقع پر حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم کو نائب امیرِ شریعت مہاراشٹر کی عظیم دینی ذمہ داری پر فائز کیا گیا۔
یہ ذمہ داری نہایت اہم اور حساس نوعیت کی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے مہاراشٹر کے مسلمانوں کے شرعی مسائل، دینی رہنمائی اور شریعت کے اجتماعی نظام کو مضبوط کرنے کی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے اس موقع پر اپنے خطاب میں شریعتِ مطہرہ کی اہمیت، محکمۂ شریعہ اور دارالقضاء کی ضرورت، اس نظام کے قیام کی شرعی حیثیت اور اس عظیم ذمہ داری کے احساس کے حوالے سے نہایت اہم اور فکر انگیز گفتگو فرمائی۔
شریعت کے احکام کی اہمیت حضرت نے اپنی گفتگو کا آغاز شریعتِ مطہرہ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کیا۔ آپ نے اس طرف توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی اور فلاح و کامیابی کے لیے جو احکام نازل فرمائے ہیں، وہ کامل، جامع اور ہر اعتبار سے انسانیت کی بھلائی پر مبنی ہیں۔
قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ شریعت کے احکام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے معاملات، معاشرت، اخلاق، حقوق و فرائض اور باہمی تنازعات تک ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اس لیے ایک مسلمان کے لیے شریعت کے احکام کو اختیار کرنا محض ایک اختیاری معاملہ نہیں بلکہ اس کے ایمان اور دینی زندگی کا بنیادی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نظامِ ہدایت میں انسان کی حقیقی فلاح مضمر ہے، اور مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو حتی الامکان شریعت کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔ محکمۂ شریعہ اور دارالقضاء کا قیام حضرت نے اپنے خطاب میں ایک نہایت اہم ضرورت کی طرف توجہ دلائی کہ موجودہ دور میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر محکمۂ شریعہ اور دارالقضاء کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
مسلمانوں کو اپنی دینی اور شرعی زندگی کے معاملات میں رہنمائی کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ خصوصاً نکاح، طلاق، خلع، وراثت، خاندانی تنازعات اور دیگر شرعی معاملات میں ایسے مراکز کا ہونا ضروری ہے جہاں اہلِ علم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فراہم کر سکیں۔
حضرت نے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا حوالہ دیتے ہوئے اس مسئلے کی حساسیت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ مسلمانوں کے شرعی و قانونی معاملات کو غیر اسلامی نظامِ عدالت میں لے جانے کا معاملہ معمولی نہیں، بلکہ اس کے دینی اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، مسلمانوں کے شرعی معاملات کے لیے باقاعدہ اور معتبر شرعی نظام موجود ہو، تاکہ لوگ اپنے دینی مسائل میں اہلِ علم اور ماہر مفتیانِ کرام سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔
محکمۂ شریعہ کا قیام: فرضِ کفایہ حضرت نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ محکمۂ شریعہ یا دارالقضاء کا قیام محض ایک انتظامی ضرورت نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اسے فرضِ کفایہ کی حیثیت سے سمجھا جانا چاہیے۔
جس طرح امت کے بعض اجتماعی فرائض کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کو آگے بڑھنا ہوتا ہے، اسی طرح شرعی معاملات کے حل اور دینی رہنمائی کے لیے دارالقضاء اور محکمۂ شریعہ کا انتظام بھی مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ بہت سے علاقوں میں ابھی تک اس نوعیت کا باقاعدہ نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے مسلمان اپنے شرعی معاملات میں مناسب رہنمائی سے محروم رہ جاتے ہیں یا بعض اوقات ایسے راستے اختیار کر لیتے ہیں جو ان کے دینی مزاج اور شرعی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ علماء، دینی تنظیمیں، اہلِ خیر اور ملت کے ذمہ دار افراد اس ضرورت کو محسوس کریں اور اپنے اپنے علاقوں میں محکمۂ شریعہ اور دارالقضاء کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔ دینی قیادت کی ذمہ داری اس گفتگو سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ دینی منصب محض اعزاز نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری اور امانت ہے۔ جو شخص کسی دینی منصب پر فائز ہوتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے منصب کو اخلاص، تقویٰ، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نبھائے۔
نائب امیرِ شریعت کی ذمہ داری بھی اسی نوعیت کی ایک اہم دینی ذمہ داری ہے۔ اس منصب کے ذریعے مسلمانوں کی رہنمائی، شرعی مسائل کے حل، دینی نظام کے فروغ اور امت کے اجتماعی معاملات میں رہنمائی کا ایک بڑا میدان سامنے آتا ہے۔ ذمہ داری کے موقع پر حضرت کی عاجزی اپنی تقرری اور اس عظیم ذمہ داری کے حوالے سے حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے نہایت عاجزی اور انکساری کا اظہار فرمایا۔
آپ نے اپنے بارے میں یہ احساس ظاہر کیا کہ وہ اپنے آپ کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے، لیکن قیادت کی طرف سے حکم اور تنظیم کے رفقاء و ذمہ داران کے اعتماد کی بنا پر اس ذمہ داری کو قبول کیا۔
یہ طرزِ گفتگو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اہلِ علم کے نزدیک دینی منصب باعثِ فخر سے زیادہ باعثِ جواب دہی ہوتا ہے۔ جتنا بڑا منصب ہو، اتنی ہی بڑی ذمہ داری اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہونا چاہیے۔
حضرت نے اس موقع پر تمام شرکاء، علماء اور رفقاء سے دعاؤں اور سرپرستی کی درخواست بھی کی، تاکہ وہ اس ذمہ داری کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔
خلاصۂ کلام حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم کے خطاب کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ مکمل اور جامع رہنمائی ہے، اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اس کی روشنی میں اپنے معاملات کو درست کرنا ضروری ہے۔
محکمۂ شریعہ اور دارالقضاء کا قیام اسی ضرورت کو پورا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ضلع اور تحصیل کی سطح پر ایسے مراکز قائم کیے جائیں جہاں مسلمان اپنے شرعی معاملات میں معتبر علماء اور مفتیانِ کرام سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ امت کے ذمہ دار افراد کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ دینی نظام کی حفاظت اور اس کے فروغ کی ذمہ داری صرف علماء تک محدود نہیں، بلکہ پوری امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہر شخص اپنی استطاعت اور اپنے دائرۂ کار کے مطابق اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ حضرت کی عاجزی اور دعاؤں کی درخواست اس بات کا سبق دیتی ہے کہ دینی خدمت میں کامیابی اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اہلِ خیر کی دعاؤں و تعاون سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم کو اس عظیم ذمہ داری کو اخلاص، حکمت، استقامت اور حسنِ تدبیر کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے، مہاراشٹر کے مسلمانوں کے لیے محکمۂ شریعہ اور دارالقضاء کے نظام کو مضبوط اور مؤثر بنائے، آپ کا سایۂ عاطفت تادیر ہمارے سروں پر سلامت رکھے، اور پوری امت کو شریعتِ مطہرہ کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔