قصر ادب میں تابندہ چہرے، اور درخشاں ستاروں کی پروقار مجلس انجمن محبان ادب کی یوم آزادی پر فخریہ پیش کش. ایک افسانوی نشست، بنام تیمور ِ ادب، نقاد زماں سلطان سبحانی کے نام : روشنی کے مقابل میں روشنی رہے __ایک شام روشنی کے نام _شگفتہ سبحانی
Author -
personحاجی شاھد انجم
اگست 28, 2026
0
share
جو اندھیروں کو مات دیتے ہیں،،
ان ستاروں کی کہکشاں میں ہوں..
15, اگست 2026 کو شہر مالیگاؤں کے اردو میڈیا سینٹر پر ایک افسانوی نشست منعقد کی گئی جسے سرزمین ہند کے مایہ ناز افسانہ نگار، نقاد، مصور، شاعر اور بچوں کے ادیب، مرحوم سلطان سبحانی کے نام سے منسوب کیا گیا. اس پروگرام کا آغاز صاحب مرحوم کی اہلیہ، محترمہ کبری شبنم سلطان سبحانی کی صدارت میں ترتیب دیا گیا.
جہاں نمائندہ افسانہ نگاروں نے اپنے ایسے افسانے پیش کئے جسے نہ صرف پسند کیا گیا بلکہ یہ اعتراف کیا گیا یہ چنندہ افسانے جن میں بنام رفتار ِ زندگی، دربان، تھری ڈی، دانش جوہری، ا جیسے سلگتے ہوۓ موضوعات پر بہترین انداز میں افسانے پیش کئے گئے جن پر سامعین کی جانب سے داد اور تبصروں کا سیلاب سا امڈ آیا
یہ صرف افسانے نہیں بلکہ موجودہ حالات کو علامتی اور ثقافتی طرز پر بیان کیا گیا تھا، ساتھ ہی سلطان سبحانی صاحب مرحوم کو بہترین اور انتہائی منفرد انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا ایک جانب نوجوان افسانہ نگاروں میں جہاں قلم کی حُرمت کو پوری ذمہ داری سے سنبھالنے کا جذبہ دیکھا گیا، وہیں دوسری جانب، بزرگ افراد شہر جن میں عالمی شہرت یافتہ مصور، جناب رشید آرٹسٹ صاحب نے اپنے دوست سلطان سبحانی کے حالات اور فن پر نہ صرف روشنی ڈالی بلکہ دوستی، خلوص اور وفاداری کا بہترین نمونہ پیش کیا.
اسی طرح، جناب صوفی شمس الضحٰی اسرائیل صاحب نے بڑے بھلے انداز میں صاحب مرحوم کی سادگی، رواداری، شرافت اور خاندانی رکھ رکھاؤ وتہذیب و فن پر روشنی ڈالی، سامعین غور سے سن رہے تھے دوسری جانب، پروفیسر ڈاکٹر مبین نذیر صاحب نے مرحوم سلطان سبحانی کے فن پر، ان کی تحریر، سوچ اور آفاقی تحریر پر بیانیہ خراج پیش کیا. شکیل بھارتی صاحب جن کے عمیق اور برجستہ مشاہدوں اور تبصروں نے جہاں پروگرام کو رونق بخشی وہیں دوسری سمت جناب صابر گوہر، جناب صادق اسد، جناب شبیر انصاری، جناب عزیز اعجاز و ہارون اختر صاحبان ِ قرطاس و ادب نے انمول پیراۓ میں جہان ِ حاضر کے سلگتے موضوعات سے سامعین کو سوچنے پر مجبور کیا. دختر شگفتہ سبحانی نے اپنے والد سلطان سبحانی کے لئے بڑے انوکھے انداز میں سامعین سے اپنے موبائیل کے ٹارچ لائٹ جلانے کی درخواست کی اور وہ منظر آنکھوں نے قید کیا جب ایک سنجیدہ اور بے انتہا حساس طبقے نے ڈیجیٹل دور میں اپنے موبائل کی سفید روشنی کو جلا کر اندھیروں کو مات دیا، اور روشنی کے مقابل روشنی کے سفر پر مہرلگائی، یہ روشنی شہر مالیگاؤں کے گلی کوچوں اور پاور لوم کی دھڑکنوں پہ تھرکتے ان قلم کاروں کے نام کی گئی جن میں وہ تمام قلم کار شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں بلا کسی مفاد کے ادب کی خدمت کی ہے، صدر موصوفہ نے مرحوم سلطان سبحانی کیلئے قلبی لگاؤ کے ساتھ ان کی بہترین خدمات کے عوض ان کے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی اور ادبی گروپ بندی کے خلاف محاذ کھڑا کیا اور یہ ظاہر کیا کہ ان کی حیات مکمل طور پر ایک بے مثال نمونہ رہی لیکن ان کی پزیرائی نہیں کی گئی، انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ سلطان سبحانی کی ادبی خدمات کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ایسا کرنا بھی نہیں چاہئے ساتھ ہی انہوں نے آپ کے چنندہ اشعار کو رقت آمیز انداز میں پیش کیا اور ان سے اپنی وفاداری اور ایک بہترین بیوی ہونے کا ثبوت اس صورت میں دیا کہ اس دفعہ انہوں نے وہ اسٹیج تھاما _جو سلطان سبحانی کا تھا، انہوں نے ان موضوعات پر دو ٹوک بات کی جو سلطان سبحانی کے دل کی آواز رہی __وہ اس جگہ موجود تھیں جہاں سلطان سبحانی تھے یہ آسمانی اور روحانی رشتے ہوتے ہیں اور ان کی کشش تاحیات محفوظ رہتی ہے، دعاگو ہیں اللہ رب کریم، قلم کے سپاہی اور اس شہنشاہ کے ادبی کاوشات کو قبول فرماۓ جن میں انہوں نے حق کی جیت، سچ کی فتح اور باطل کی پہچان کو واضح رکھا ہے، اللہ غریق رحمت فرمائے آمین __ایک بہترین انسان ایک پورا ادبی عہد رہا ہے جس نے سر پر تاج پہننے کی جگہ لوگوں کے دلوں پر راج کرنے کو فوقیت دی.. ہمیں نہ مانو، مگر کل ہمیں کو ڈھونڈو گے ہمارے قدموں کے نیچے نئے جہان ہیں سب