ڈاکٹر علامہ اقبال اُردو ہائی اسکول و جونیئر کالج، ریسوڑ میں ہفتۂ سیرت النبی ﷺ کا اہتمام واشم (محمد شاکر ہمدرد کی رپورٹ)
Author -
personحاجی شاھد انجم
اگست 26, 2026
0
share
اسکول ہذا میں سیرت النبی ﷺ کی مناسبت سے ایک ہفتہ قبل ہی سے ہفتۂ سیرت النبی ﷺ کا اہتمام کیا گیا۔ اس دوران اساتذۂ کرام نے سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں مختلف اہم، اصلاحی اور تربیتی موضوعات پر طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے انہیں حضور اکرم ﷺ کی پاکیزہ زندگی، اخلاقِ حسنہ اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مفتی کلیم رحمانی صاحب کی شہرِ عزیز میں آمد کو غنیمت جانتے ہوئے آج بروز ہفتہ، 9 ربیع الاول کو ادارے میں ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت ادارے کے بانی و صدر الحاج محمد کبیر محسن نے فرمائی، جبکہ استاذِ محترم سعید احمد خان نے بحیثیتِ ناظم اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی اور حسنِ انتظام کے ساتھ انجام دیے۔
پروگرام کے خصوصی مقرر مفتی کلیم رحمانی صاحب، بانی و مہتمم دارالعلوم اشاعت القرآن، کوپرا پھاٹہ، پوسد، ضلع ایوت محل، کا تعارف جونیئر لیکچرار محمد ابوالاعلیٰ نے پیش کیا۔
مفتی کلیم رحمانی صاحب نے طلبہ و طالبات سے ’’اذان، نماز اور سورۂ فاتحہ کے پیغام و اہمیت‘‘ کے موضوع پر نہایت جامع، مدلل، مؤثر اور فکر انگیز خطاب فرمایا۔ انہوں نے اذان کے پیغام، نماز کی اہمیت اور سورۂ فاتحہ کے بنیادی مضامین کو نہایت آسان اور دل نشیں انداز میں بیان کرتے ہوئے طلبہ و طالبات کو نماز کی پابندی، اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق اور قرآنِ کریم کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب دی۔
اپنے خطاب کے دوران مفتی صاحب نے علم و عمل اور معلوم و معمول کے باہمی تعلق کو نہایت خوبصورت اور فکر انگیز انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’علم و عمل میں صرف ترتیب کا فرق ہے۔ علم کی تکمیل عمل سے اور معلوم کی تکمیل معمول سے ہوتی ہے۔ جب علم، عمل بن جائے اور معلوم، معمول بن جائے تو انسان کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہمیں نماز کی فرضیت معلوم ہے تو نماز ہمارے معمول کا حصہ بننی چاہیے؛ اگر ہمیں سچ بولنے کی اہمیت معلوم ہے تو سچائی ہمارے کردار اور معمولات میں نظر آنی چاہیے؛ اور اگر ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کے کسی وصف کا علم ہے تو اس وصف کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مفتی صاحب نے طلبہ و طالبات کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ محض معلومات حاصل کر لینا کافی نہیں، بلکہ علم کی اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب وہ انسان کے عمل، کردار اور معمولات میں نمایاں ہو۔ ہمیں صرف اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ چیزیں معلوم ہوں، بلکہ یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ جو کچھ ہمیں معلوم ہے، اسے اپنی زندگی کا معمول بنایا جائے۔ مفتی کلیم رحمانی صاحب کا یہ فکر انگیز اور اصلاحی خطاب طلبہ و طالبات کے لیے نہایت مفید، معلومات افزا اور تربیتی ثابت ہوا۔ پروگرام کے ذریعے انہیں یہ اہم پیغام ملا کہ سیرتِ طیبہ ﷺ کو جاننا ہی کافی نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ اس بابرکت پروگرام کو کامیاب بنانے میں ادارے کے پرنسپل جناب ضمیر احمد خان کی رہنمائی و سرپرستی نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی مؤثر رہنمائی اور تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف کے بھرپور تعاون سے پروگرام کے تمام مراحل کو نہایت منظم اور احسن انداز میں مکمل کیا گیا۔ آخر میں مفتی کلیم رحمانی صاحب نے مختصر مگر جامع دعا فرمائی۔ دعا کے ساتھ ہی یہ بابرکت، اصلاحی اور تربیتی پروگرام اختتام پذیر ہوا۔