مالیگائوں ، ۵؍ ستمبر ، (عبدالحلیم صدیقی ) آج ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء بروز سنیچر کو دوپہر۲ بجے کے شمار میں مالیگائوں کی عظیم عبقری شخصیت ڈاکٹر خلیل احمد انصاری اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے(انا للہ وانا الیہ راجعون ) انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً 98 برس تھی ۔ گذشتہ ایک سال سے موصوف صاحبِ فراش تھے ۔ان کے پوتوں میں ڈاکٹر شحیم اور معاذ احمد اور بہو(ڈاکٹر مقصود خلیل احمد کی اہلیہ) نے ڈاکٹر صاحب کی تیمار داری میں کوئی کسر نہ رکھی تھی ۔ لیکن ان کے سر سے یہ شجر سایہ دار ہمیشہ کیلئے اٹھ گیا۔ آج ہی مغرب کے بعد بڑا قبرستان میں تدفین طئے پائی ہے ۔ ڈاکٹر خلیل احمد انصاری کی رحلت سے ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے ۔ ان کی خدمات نہ صرف طبابت میں جراحت میں معروف تھی بلکہ ڈاکٹر موصوف کی خدمات کے نقوش تعلیمی ، سماجی ، سیاسی و صنعتی و امداد باہمی شعبوں میں بھی اظہر من الشمس ہیں ۔ اللہ مرحوم کو غریق رحمت کرے ، کس بلند پائے کا انسان تھا ۔ وہ اسکالر بھی تھےمفکراور دانشور بھی ، ماہر تعلیم اور ماہر علاج و معالجہ بھی ۔ یقیناً ڈاکٹر خلیل احمد انصاری جیسی عظیم شخصیات صدیوں میں پید اہوا کرتی ہیں ۔ آپ کی پیدائش اسلام پورہ مالیگائوں کے ایک بنکر گھرانے میں ۳ جنوری ۱۹۲۹ کو ہوئی ۔ آپ کے والد قاری محمد حسن قاسمی بیت العلوم سے فارغ تھے۔ ان کا شمار دارالعلوم دیوبند کے اولین مقامی فارغین میں ہوتا ہے ۔ وہ مولوی محمد عثمان ، مولاناعبدالحمید نعمانی کے ہم عصر تھے ۔ڈاکٹر خلیل کی نانی زینب بنت کمال مالیگائوں میونسپلٹی کی پہلی خاتون کونسلر تھیں(۱۹۳۹ سے ۱۹۵۰ -۳ ٹرم) ڈاکٹر خلیل کے نانا کمال جئن 1921 کی خلافت تحریک میں2سال کی جیل کاٹے ہوئے تھے(آرتھر روڈ جیل ممبئی)۔ ایسے علمی ، صنعتی ، سماجی گھرانے کا چشم چراغ تھے ڈاکٹر خلیل ۔ 1946 میں اینگلو اُردو ہائی اسکول سے ساتویں فائنل پاس کرنے کے بعد آپ نے ممبئی کے اسمعیل یوسف کالج کا رُخ کیا ۔ 1949 میں جے جے اسپتال ممبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا اور MBBSکی ڈگری کے بعد ڈپلومہ ان پبلک ہیلتھ کی ڈگری حاصل کی ۔ 1955 میں مالیگائوں آتے ہی میڈیکل آفیسر اور اس کے بعد میونسپلٹی کے ہیلتھ آفیسر بنائے گئے ۔ 1955 سے اپنا ذاتی دواخانہ بھی نیاپورہ میں شروع کردیا ۔ اس وقت تک مالیگائوں میں صرف 3 مسلم ڈاکٹر پریکٹس کرتے تھے ۔ (۱)ڈاکٹر شیخ سلیم (۲) ڈاکٹر رحمانی (۳) ڈاکٹر محمود آپ کی تشخیص اور علاج و آپریشن کی مہارت نے آپ کو بے حد مقبول و محترم بنا یا۔ 1955 سے 2018 تک مسلسل 63 سال وہ اپنے دواخانہ مشاورت چوک میں پابندی سے بیٹھتے رہے ۔ اور علاج و معالجہ کے ساتھ چھوٹے موٹے آپریشن بھی خوب کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو درد مند دل اور دست شفا سے نوزا تھا ۔ مالیگائوں ہائی اسکول جب 1956 میں شروع ہوا تو آپ اسی تعلیمی کاررواں کی صف اول میں شامل تھے ۔ انجمن معین الطلباء کے قدیم ممبر تھے ۔ آپ نے ہی مالیگائوں کا سب سے پہلا KGاسکول بنام تربیتی مرکز 1963 میں (دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڈ میں ) شروع میں کیا تھا ۔ 1965 سے 1978 تک آپ انڈسٹریل سوسائٹی کے ڈائریکٹر اور چیئرمن بھی رہے ۔ 1973 میں جنتا بینک قائم کی،1970 سے اسپننگ مل کے قیام کی کوششیں شروع کیں اور بالآخر 1980 میں ہندوستان کے مسلم بنکروں کا پہلا کو آپریٹیو اسپننگ مل شروع ہوا تو اس کےھ قائدین ہارون انصاری اور شبیر سیٹھ نے بجا طور پر اعتراف کیا کہ روز اول سے اسپننفگ مل کے قیام کی کاغذی دستاویزی و قانونی کوششیں ڈاکٹر خلیل نے ہی کیں ۔ آپ کی تعلیمی کاوشوں میں بچوں کے باغ کا بھی ذکر آتا ہے جو نور اسپتال کے پاس شروع ہوا تھا ۔ یہ بھی ایک KGاسکول تھا ۔ جے اے ٹی کیمپس شروع کرانے میں ہارون انصاری کے شانہ بشانہ رہے ۔ اور اپنے صدر بلدیہ کے دور میں جے اے ٹی کیمپس کیلئے موجودہ جگہ میونسپلٹی سے منظور کروا کرد ی ۔ آپ کا سیاسی سفر بھی نہایت شاندار رہا ۔ ان دنوں مالیگائوں میں صرف دو پارٹیوں کا راج تھا ۔ نہال، احمد کی سوشلسٹ پارٹی اور ہارون انصاری و شبیر سیٹھ کی کانگریس پارٹی ۔ ڈاکٹر خلیل نے پہلی بار تھرڈ فرنٹ اور تیسرا محاذ کا تصور دیا ۔ اور عوامی محاذ کے نام سے الیکشن لڑ کر میونسپلٹی کی 42 میں سے 18 سیٹ جیت کر صدر بلدیہ چنے گئے ۔ ایک سال کے اپنے صدارتی دور میں آپ نے ان گنت معیاری و یادگار تعمیری کارنامے انجام دیئے ۔ قدوائی روڈ کی قدیم شہیدوں کی ایدگار عزیز کلو کرکٹ ، کبڈی اسٹیڈیم کیلئے قطعہ اراضی کی خریدی ۔ جے اے ٹی کیمپس کو جگہ دینا اور پہلی بار گائوں میں سیمنٹ کانکریٹ سڑکوں کی تعمیر کا آغاز اس کے ساتھ انھو ں نے ہی مالیگائوں میں فلٹر پلانٹ کا تصو ر دیا ۔ او راس کیلئے کاغذی کوششوں کا آغاز کیا ۔ چونکہ ان کی معیاد صدارت قلیل تھی ۔ اس لئے فلٹر پلانٹ کی تعمیر و تکمیل کا سہرا عائشہ حکیم کو ملا آپ ہی کی سیاسی حکمت عملی سے 1972 میں عائشہ حکیم نے MLAالیکشن جیتا۔ آپ کے ہی دور میں امن چوک والی کھنڈیل وال اسکول کی تعمیری منظوری ہوئی ۔ 1977 میں آپ کی کوششوں سے پاورلوم سروس سینٹرقدوائی روڈ مرکزی حکومت کی منظوری سے شروع ہوا۔ صدر بلدیہ رہتے آپ نے جامعۃ الصالحات روڈ پر بھی ایک اسکول قائم کیا تھا ۔ بحیثیت ڈاکٹر آپ نے 1965 میں مشاورت چوک میں سٹی ہاسپٹل کی بنیاد ڈالی ۔ جہاں ڈاکٹر سید بھی اپنی خدمات انجام دیتے تھے ۔ یہ مالیگائوں کا پہلا پرائیوٹ اسپتال تھا ۔آپ نے اسی کی توسیع کیلئے موجودہ نور اسپتال بلڈنگ تعمیر کی تھی ۔ لیکن بحرانی حالات میں اس عمارت کو خلیل سیٹھ کے ہاتھوں فروخت کرنا پڑا ۔ ڈاکٹر خلیل احمد انصاری اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے ۔ بیحد مصروف بھی تھے اس کے باوجود وہ دینی ملی مذہبی کاموں میں پیش پیش رہتے ۔ مولانا عبدالحمید نعمانی کی قیادت میں آپ نے 1960 سے 2000 تک کی تمام ملی تحریکات میں قائدانہ کرادار ادا کیا ۔ وہ معہد ملت کے ٹرسٹی بھی رہے ، مسلم مجلس مشاورت کے پلیٹ فارم پر بھی گئے ۔ اور جب جب پاورلوم صنعت پر پابندی اور بحرانکی کیفیت آتی حکومت کے ساتھ خط و کتابت کرتے اور نمائندہ وفد کا ایک حصہ رہے ۔ لیڈران سے آفیسران سے بات کرنے کی ذمہ دار ی ان ہی کی ہوا کرتی تھی ۔ آپ نے صنعتی تحفظ کیلئے پاورلوم اونرس ایسوسی ایشن بھی قائم کی ۔ پیڈکسل Pedxilکے قیام میں ریاستی سطح پر قیادت کی ۔ مالیگائوں سوسائٹی آف ایجوکیشن ممبئی سے بھی مربوط رہے ۔ مالیگائوں میں بڑی بڑی شخصیات کی آمد کے وقت جیسے اندرا گاندھی، دلیپ کمار ، محمد رفیع ، جارج فرنانڈیس ، دیوی گوڑا، شنکر رائو چوہان یا بڑے بڑے علمائے کرام کی آمد پر آپ ہمیشہ صفد اول کے قائدانہ کلیدی کردا رمیں رہے اور اس شہر کی ، یہاں کے بنکروں کی ، یہاں کے مزدوروں کی ، فساد متاثرین کی ہر ممکن ہر محاذ پر مدد کرتے رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لیٹر ڈرافٹنگ کے بہترین ہنر سے آراستہ کیا تھا ۔ چنانچہ آپ نے اپنی اس صلاحیت سے بھی قوم ملت کو ہمیشہ فیض پہنچایا ۔ آج ایسا عبقری انسان ہم سے بچھڑ گیا۔ جس نے اپنی ذات سے ہمیشہ اس شہر کو اور ملت کو فیض ہی پہنچایا ۔ اپنے اثر و رسوخ ، اپنے تعلقات ، اپنی پوسٹ اور اپنے عہدے و منصب کا کبھی ناجائز تو چھوڑیئے جائز فائدہ بھی نہ اُٹھایا۔ اقرباء پروری ، بدعنوانی ،تعصب ،کینہ کپٹ سے کوسوں دور تھے ڈاکٹر خلیل۔ اب ایسی ہمہ گیر شخصیت کہاں سے لائیں گے مالیگائوں والے ۔ یغفر اللہ لنا ولکم۔۔۔۔
حیات خلیل بہ یک نظر نام : ڈاکٹر خلیل احمد قاری محمد حسن رمضان پیدائش : ۳ جنوری ۱۹۲۹ وفات : ۵ ستمبر ۲۰۲۶ MBBS: ۱۹۵۴ میڈیکل و ہیلتھ آفیسر : ۱۹۵۵ سے ۱۹۷۳ صدر بلدیہ : ۱۹۶۷(ایک سال) بانی و شریک بانی : مالیگائوں ہائی اسکول تربیتی مرکز KGاسکول پاورلوم اونرس ایسوسی ایشن جنتا بینک :۱۹۷۳ سے ۱۹۷۹ اسپننگ مل : ۱۹۷۰ سے ۱۹۸۵ انڈسٹریل سوسائٹی : ۱۹۶۵سے ۱۹۷۸ اہم کارنامہ: عزیز کلو اسٹیڈیم کا میدان میونسپلٹی کیلئے خریدا