از : شکیل مصطفی، مالیگاؤں
عتیق احمد عتیقؔ مالیگاؤں، ڈاکٹر ہارون فرازؔ اور ڈاکٹر الیاس وسیمؔ صدیقی صاحبان کو مرحوم لکھتے ہوئے پتھر کا کلیجہ بھی پانی پانی ہوتا نظر آتا ہے۔
ڈاکٹر الیاس صدیقی اپنی ذات میں ایک انجمن، وہ بھی ہم سے آج رخصت ہوگئے۔ ویسے تو موت و حیات کا ایک لامتناہی سلسلہ اس دنیا کے باقی رہنے تک جاری و ساری رہے گا۔ اس کے باوجود جب کوئی ایسے صاحبِ کمال کی موت ہوتی ہے تو بہر حال ایک زمانہ اس کی رخصتِ ابدی پر آنسو بہاتا ہے۔
ڈاکٹر الیاس صدیقی کافی عرصہ سے بیمار چل رہے تھے۔ اُس کے باوجود مضبوط قوتِ ارادی کے چلتے وہ زیادہ دنوں تک صاحبِ فراش نہیں رہے۔ طاقت بھر چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ زیادہ تر وہ پیدل چلنے کو ترجیح دیتے تھے۔ لیکن آج جب آپ کی رحلت کی خبر ملی تو دل خون کے آنسو رودیا۔
اُستاد الاساتذہ محترم المقام جناب الیاس صدیقی صاحب مرحوم ایم اے، بی ایڈ، پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی (وکالت) کی تعلیم حاصل کی تھی۔ بہ حیثیت استاد اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا پھر مزاجِ قلندرانہ نے انہیں بیٹھنے نہیں دیا۔ سیاست کے خار زار میں بھی چند برس اپنے دامن کو شامل کیا لیکن قدرت کو ان سے کوئی اور ہی کام لینا تھا۔ چناں چہ وہ شا عری پھر اس کے بعد تصنیف و تالیف کے میدان میں طبع آزمائی کی اور بلا مبالغہ یہاں وہ شہ سوار ثابت ہوئے۔ علم عروض پر جناب الیاس صدیقی صاحب کو ملکہ حاصل تھا۔ ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب جنھیں مرحوم لکھنے کو ابھی بھی طبیعت مائل نہیں ہوتی لیکن موت اپنی تمام تر ہولناکیوں کے باوجود دنیا کی اٹل حقیقت ہے۔ آج وہ بھی دائمی طور پر ہم سے جدا ہوگئے۔ یقینی طور پر یہ ایک ایسا خلاء ہے جو باآسانی تو پُر ہونے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ شروع میں ہم نے عرض کیا کہ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ واقعی یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک استاد تھے۔ اس کے ساتھ ہی فنونِ لطیفہ سے انھیں گہرا شغف حاصل تھا۔ اس کا مظاہرہ اکثر مشاعروں میں ان کی ترنم ریز کاوشوں سے بخوبی ہوتا تھا۔کئی اسکولوں کو انھوں نے استقبالیہ گیت تک لکھ کر دیا جو طلباء اور اساتذہ دونوں میںمقبول ہے۔ اللہ نے انہیں حج بیت اللہ سے بھی شرف یاب کیا۔ حج سے واپسی کے بعد ہمیں الحاج الیاس صدیقی کی شکل میں وہ صاحبِ قرطاس و قلم شخصیت ملی جس نے لبیک کی صورت میں خدائے لم یزل کی وہ حمد وثناء بیان کی کہ شہر و بیرونِ شہر کے علمائے کرام نے بھی آپ کی ستائش فرمائی اور اسے ان کے لیے ذخیرۂ آخرت قرار دیا تھا۔ شہر و بیرونِ شہر کے سیاسی،سماجی، تعلیمی، صنعتی، ادبی اور صحافتی ہر سطح پر اللہ رب العزت نے انھیں عزت و مقام عطا فرمایا تھا۔
فسادات کے دنوں میں وہ بلا لحاظ سب سے مخاطب ہوتے تھے اور تمام اقوام میں مقبول تھے۔ ادب کے ایسے پُرستار تھے کہ ادب کی تمام انجمنوں میں اُن کا والہانہ استقبال ہوتا تھا۔ اُن میں جلن، حسد، رنجش اور بغض کسی کے لیے نہیں تھی۔ وہ مسلمانوں میں دانشورانِ قوم کے نمائندہ تھے۔ نہایت دور اندیش تھے۔ حساس طبیعت کے بے لوث انسان تھے۔ جو ایک بار ان سے ملتا تھا بار بار ملاقات کا متمنی تھا۔ کاروانِ علم و ادب کی محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ روزنامہ ’’شامنامہ‘‘ میں کالم ’’جاگ میرے شہر‘‘ کے لیے اردو قارئین جمعرات ایڈیشن کے لیے منتظر رہا کرتے تھے۔ مرحوم بیرون شہر بحیثیت ناقد کے مشہور تھے ان سے اصلاح لینے کے لیے دور دور سے لوگ آتے رہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ماتحت ہونے والے کتاب میلے کی اوّل میٹنگ میں شریک تھے اور فروغِ اردو کی آبیاری کی مکمل یقین دہانی کروائی تھی۔ نیز نثر نگار ہویا نظم نگار ہر کوئی ان سے مستفیض ہوتا رہا۔
ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب کی کئی تصانیف کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہوچکے تھے جو عوام و خواص میں بے حد مقبول تھے۔ لبیک (رب اغفر وارحم) (سفرِحج کے تاثرات)، مالیگائوں میں اردو نثر نگاری، مالیگائوں کی سیاسی اور سماجی تاریخ، مالیگائوں کی سیاسی اور سماجی تاریخ (مراٹھی ایڈیشن)، جاگ میرے شہر (مزاحیہ اصلاحی مضامین) ، شعر فہمی اور فن شاعری ، قندیل حرف (شعری مجموعہ)، ظرافت آمیز (انشائیے و مضامین)، ادبی تبصرات و تعارف وغیرہ تصانیف ہیں۔
مرحوم آخر عمر تک اپنے طلبہ کو تعلیم و تربیت کی نہ صرف تلقین کرتے تھے بلکہ ہمیشہ طالبِ علم بنے رہنے کی صلاح بھی دیا کرتے تھے۔ ایسی گوناگوں صفات کی حامل شخصیت کا ہم سے جُدا ہوجانا بہت ہی بڑ اسانحہ ہے۔ انہوں نے اپنا ایک شعر اپنی موت سے کئی دہائی قبل تحریر کیا تھا۔ ؎
الجھن ِتفکرات غم ذات
موت اپنے ساتھ سارے سوالات لے گئی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر الیاس صدیقی کی علمی، ادبی، قلمی کاوشوں کو قبول فرمائے ، بہ حیثیت انسان کے جو بشری غلطیاں ہوں ان کو معاف فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام مرحمت فرمائے۔ آمین۔
ایں دعا از من واز جہاں آمین باد