کھام گاؤں (واثق نوید) شمال مشرقی ریاست تری پورہ میں مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات پر مسلسل ہورہے حملوں کو فوراً روکنے اور صوبے میں صدر راج نافذ کرنے رضا اکیڈمی ضلع بلڈانہ کی جانب سے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بلڈانہ رضا اکیڈمی کے ضلع صدر شیخ سکندر و سکریٹری قاضی رئیس الدین کی قیادت میں تنظیم کے ایک نمائندہ وفد نے ضلع کلکٹر سے ملاقات کرتے ہوئے ایک میمورنڈم پیش کیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی شمال مشرقی ریاست تری پورہ میں پچھلے کئی دنوں سے ہندو انتہا پسند و فرقہ پرست عناصر کی جانب سے مسلمانوں, ان کے گھروں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں ان فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت کی جارہی ہے اور انہیں روکنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اسی سلسلہ میں آج ملک کی معروف تنظیم رضا اکیڈمی ضلع بلڈانہ شاخ کے ایک نمائندہ وفد نے ضلع کلکٹر سے ملاقات کرتے ہوئے صدر جمہوریہ کو ایک میمورنڈم روانہ کیا۔ اس میمورنڈم میں بیان کیا گیا ہے کہ ملک میں مسلمانوں اور مذہب اسلام کے خلاف پروپیگنڈا مہم عروج پر ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، خواتین کا تحفظ، کرپشن، نوٹ بندی اور کورونا سے نپٹنے میں حکومت کی ناکامی جیسے سلگتے مسائل سے ملکی عوام کی توجہ ہٹانے کے مقصد سے آر ایس ایس اور وی ایچ پی کی جانب سے ملک بھر میں منظم طریقے سے فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے جارہے ہیں تاکہ ایک مخصوص سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی شمال مشرقی ریاست تری پورہ ہے۔ بی جے پی کی اقتدار والی اس ریاست میں پچھلے دس دنوں سے مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے.اسی پربس نہیں۔ وی ایچ پی کے کارکنان ریلیاں نکال کر اور عوامی مقامات پر جلسے لے کر اسلام اور پیغمبر اسلام کی شان میں سرعام گستاخیاں کررہے ہیں۔
فسادیوں نے سولہ مسجدوں میں تخریب کاری کی ہے جن میں سے تین مسجدیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔ مسلمانوں کی مقدس مذہبی کتاب کے نسخوں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ کیا غریب، کیا امیر، فرقہ پرست سبھی مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنارہے ہیں۔ تری پورہ کے ہزاروں مسلمان بے گھر ہوچکے ہیں۔ بھاری پیمانے پر مالی اور جانی نقصان ہوا ہے۔ تری پورہ کے فسادات ساری دنیا میں بھارت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود ریاستی پولیس کی جانب سے اب تک فسادیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کے برخلاف پولیس الٹا مظلوم مسلمانوں کو ہی پر امن رہنے اور قانون اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کررہی ہے۔ دوسری طرف گودی میڈیا ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ و تاراج کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ میمورنڈم کے اخیر میں رضا اکیڈمی کی جانب سے صدر جمہوریہ ہند سے درخواست کی گئی ہے کہ تری پورہ کی ریاستی حکومت کو فوراً برخاست کیا جائے اور وہاں صدر راج نافذ کردیا جائے۔
فسادات روکنے کے لئے تری پورہ میں فوج کو تعینات کیا جائے۔ میمورنڈم میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی سمیت تمام پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی جان و مال اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
مذکورہ وفد میں ضلع صدرسکندر رضا ،ضلعی سیکریٹری رئیس الدیں قاضی، تعلقہ صدر سیّد سمیر،سمیر پٹھان،الیاس میمن،عمادقاضی،کلیم رضا، زبیررضا،سنی یوتھ فورس کے یوسف آزاد،بامسیف ضلعی صدر اِنگلے سر کے علاوہ رضا اکیڈمی ،ایم ڈی پی،بہوجن کرانتی مورچہ کے ذمہ داران موجود تھے۔