از: اسمٰعیل وفاؔ، مالیگاو ں
اس خبر پر یقین کرنا نہایت مشکل ہے کہ (2نومبر 2021) ڈاکٹر الیاس صدیقی ہمارے درمیان نہیں رہے۔
ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ کسی شخصیت کے انتقال پر ہم انہیں رسمی طور پر ایک انجمن کہتے ہیں لیکن الیاس حضرت حقیقی طور پر ایک انجمن تھے۔ انہوں نے جو کام کیا وہ تنہا تو کیا کسی ادارے یا گر وہ کیلئے بھی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے نہ صرف درس و تدریس اور علم و فن میں نام کمایا بلکہ فنونِ لطیفہ کی مختلف جہتوں میں کام کرنے کےساتھ سماجی، معاشرتی اورسیاسی طور پر بھی متحرک رہے۔
ابتدائی کوائف
یکم مارچ 1945کو محمد الیاس محمد حنیف المعروف الیاس صدیقی بیلباغ میں پیدا ہوئے۔آبائی پیشہ پارچه بافی تھا ۔ انہوں نے 1963میں مالیگائوں ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1969میں بی اے ہوئے۔اور 1972 میں مراٹھواڑ ہ کالج آف انجوکیشن اورنگ آباد سے بی ایڈ کیا۔ ان کی تعلیمی کامیابیاں اس بات کی غماز ہیں کہ انہوں نے مختلف جہت میں کوششیں کیں اور جہدِ مسلسل کی بدولت کامیابی نے ان کا گھر دیکھ لیا۔ 1973میں ایم اے، 1985 میں ایل ایل بی ، 1989 میں ایل ایل ایم، 2000 میں پی ایچ ڈی کے علاوہ شاستریہ سنگیت میں کامیابی اس بات کو ثابت کرتی ہے۔
ادبی خدمات:
ڈاکٹر الیاس صدیقی نے نظم و نثردونوں میں نام کمایا۔ نثر میں جہاں سفرنامۂ حج تحریر کیا وہیں ماہنامہ شگوفہ کیلئے طنزیہ ومزاحیہ مضامین تحریر کئے ۔ انہوں نے شاعری کی تو وسیمؔ تخلص اختیار کیا اور شعری مجموعہ ’قندیلِ حرف‘دنیائے ادب کے حوالے کر دیا۔ ’مالیگاؤں میں اردو نثر نگاری‘ ان کی پی ایچ ڈی تھیسیس ہے جو نا صرف مالیگاؤں کے ادبی منظر نامے کا احاطہ کرتی ہے بلکہ ڈاکٹر صدیقی کو بہتر ین محقق کے طور پر پیش کرتی ہے ۔
صحافتی خدمات:
ان کی صحافتی تحریریں روزنامہ ’شامنامہ‘ میں ’جاگ میرے شہر‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آئیں۔ مختلف سماجی، معاشرتی، اصلاحی، ادبی، صنعتی اور سیاسی عنوانات کے تحت ان کے 258 مضامین شائع ہوئے۔ ان مضامین کا قاری کو بے صبری سے انتظار رہتا تھا۔علاوہ ازیں ان کے فرزنداعجاز صدیقی نے اخبار ’گلشنِ روزگار‘ جاری کیا تو اس کے ادارئیےموصوف ہی تحریر کرتے رہے۔ ان اداریوں میں وہ ماہرِ تعلیم نظر آتے ہیں جو سماج کی تعلیمی اصلاح چاہتا ہے اور نو جوان نسل کو برسرِ روزگار اور مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔
مالیگاؤں کی تاریخ سے متعلق خدمات:
ڈاکٹر الیاس نے نہ صرف ’مالیگاؤں میں اردو نثر نگاری‘ تحریر کی بلکہ ’مالیگاؤں کی سیاسی اور سماجی تاریخ‘ کے علاوہ راجہ ناروشنکر سے متعلق بھی کتاب تحریر کی جو مراٹھی زبان میں بھی شائع ہوئی۔ ان کتابوں کے پیشِ نظر مقامی تاریخ میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔مستقبل کا مؤرخ ان کتابوں کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔
سیاسی و سماجی خدمات:
یوں تو ڈاکٹر الیاس صدیقی ساتھی نہال احمد کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے تھے اور وہ سیاسی جلسوں میں اسٹار مقرر کے طور پر شریک بھی ہوتے رہے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو کسی پارٹی تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ سماجی خدمات میں مسلسل کوشاں رہے۔ انجمنِ تعلیمِ جمہور کے زیر اہتمام آئی ٹی آئی کا قیام ہوا تو اس میں انہوں نے بھی دوڑ دھوپ کی۔ طلباء کو آئی ٹی آئی کی جانب راغب کیا اور کوشش کی کہ طالبانِ علم اس انسٹی ٹیوٹ سے کماحقہٗ استفادہ کریں۔ حالیہ برسوں میں جب مرکزی حکومت کی جانب سے این آر سی کو لاگو کرنے کی بات خبروں میں گشت کرنے لگی تو انہوں نے اپنے قانونی علم کو استعمال کرتے ہوئے عوام الناس کی رہنمائی کی اور ’این آر سی گائیڈ‘ تحریر کردیا جس کی بدولت عوام الناس کا بڑا طبقہ این آر سی سے آگاہ ہوسکا۔
ڈاکٹر الیاس صدیقی کی مطبوعہ کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے۔
(1) مالیگاؤں میں اردو نثر نگاری 2001
(2) ربِّ غْفِر وَارْحَم (سفرِ حج کے تأثرات) 2001
(3) مالیگاؤں کی سیاسی اور سماجی تاریخ 2005
(4) مالیگائوں کی سیاسی اور سماجی تاریخ (مراٹھی) 2008
(5) جاگ میرے شہر (مزاحیہ اصلاحی مضامین) 2008
(6) شعر فہمی اورفنِ شاعری 2009
(7) قندیلِ حرف (شعری مجموعہ) 2013
(8) ظرافت آمیز (انشائیے، طنزیہ و مزاحیہ مضامین) 2015
(9) ادبی تبصرات و تعارف 2017
(10) این آر سی گائیڈ یعنی شہریت کیسے ثابت کریں؟ 2019