کھام گاؤں (واثق نوید)تری پورہ میں مسلمانوں پر ہوئے مظالم کے خلاف اور تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف رضا اکیڈمی کے اعلان پر بند کو کھام گاؤں شہر میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ۔ شہر کے مسلمانوں نے صد فی صد کاروبار و مزدوری بند کرکے تری پورہ مظالم و اہانت رسول کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا۔
معلوم رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے تری پورہ کے مسلمانوں کے غلاف فرقہ پرستوں نے انسانیت سوز مظالم ڈھائے ۔ جس کو مقامی حکومت اور انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔ مساجد کو شہید کیا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی گئی۔ جس کی وجہ سے ملک ہی نہیں عالم اسلام کے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے خلاف رضا اکیڈمی نے 12 نومبر بروز جمعہ مہاراشٹر بند کا اعلان کیا تھا۔ اس پر لبیک کہتے ہوئے شہر کے ہر مکتبہ فکر کے افراد ، مختلف تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے اپنی حمایت دی ۔ شہر کے مسلمانوں نے اپنا کاروبار بند رکھ کر تری پورہ کے مظالم کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا۔ یہ ہی نہیں مزدور پیشہ افراد نے بھی کام کی چھٹی رکھ کر عشق رسول اور ملی بیداری کا ثبوت پیش کیا۔ شہر کے تمام مسلم علاقوں میں صد فی صد کاروبار بند رہا۔ اس موقع پر رضا اکیڈمی، مجلسِ اتحاد المسلمین اور نوجوانان کھام گاؤں کی جانب سے مقامی ایس ڈی او کی معرفت صدر جمہوریہ ہند کو ممورنڈم پیش کیا گیا۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ تری پورہ کے مسلمانوں پر ظلم کرنے والے فرقہ پرستوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، گستاخ رسول کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، مسلمانوں کے نقصانات کی بھر پائی کی جائے۔ مساجد کے نقصان کی بھی بھرپائی کی جائے ۔ تری پورہ کی موجودہ حکومت کو برخاست کر کے صدر راج نافذ کیا جائے۔
کھام گاؤں کے علاؤہ بھی اطراف کے شہروں اور قصبوں میں مسلمانوں نے اپنے اپنے کاروبار بند رکھ کر ملی بیداری و آپسی اتحاد کا ثبوت پیش کیا۔ بند کے دوران کہیں سے بھی کوئی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ مجلس اتحاد المسلمین کے کھام گاؤں شہر صدر محمد عارف پہلوان کو کوویڈ کے حوالے سے 149 کی نوٹس دی گئی۔