موصوف گزشتہ روز اس نمائندے سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے نانا پٹولے سے حالات پر گفتگو کرنے پہلے سے کوئی پروگرام نہیں تھا بس غیر متوقع ملاقات ہوگئ اور دو چار منٹ حالات پر بات چیت بھی ہوگئ ہم نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو کاغذ کا ایک ورق مل گیا اور پٹولے سے موجودہ حالات پر گفتگو ہوگئ نمائندے سے انہوں نے خندہ پیشانی سے ملاقات کرتے ہوئے گفتگو کی اور اپنی گفتگو میں کہا کہ ملک میں نفرت کی انتہا ہو رہی ہے اور نفرت کا یہ پھیلایا گیا زہر ملک کے سب سے بڑے ایوان یعنی لوک سبھا تک پہنچ گیا ہے۔
اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کنور دانش علی کے ساتھ کس طرح کی زبان استعمال کی گئی دنیا کو پتہ چل گیا افسوس تو یہ ہیکہ اس سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہورہی ہے لیکن حکمراں جماعت نفرت پر قدغن لگانے تیار نہیں ملک میں تبدیلی کی لہر کا اشارہ دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ گزشتہ تقریبا نو سالوں سے ملک کی عوام وقفے وقفے سے گھٹن محسوس کر رہے ہیں اور یقینا ائندہ سال ملک کی عوام کو اس گھٹن سے نجات مل جائے گی سال 2024 ملک میں تبدیلی کا سال ہوگا اور موجودہ حکومت کو ملک کی عوام اکھاڑ پھینکے گی۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ حکومت اس وقت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوچکی ہے اقتدار حاصل کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے جتنے بھی وعدے کیے تھے اس میں سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا ہاں جب کبھی حکومت کو اس کے وعدے یاد دلاےء گیےء ناکامی بتائی گئ تو ملک میں ہندو اور مسلمان کا کارڈ کھیلا گیا۔
بدقسمتی سے جمہوریت کا چوتھا ستون یعنی میڈیا بھی حکومت کا آلہء کار بن گیا ہے لیکن یہ زیادہ دن تک چلنے والا نہیں ہے اس ملک کی گھٹی میں ہندو مسلم اتحاد ہے ایک سوال کے جواب میں نانا پٹولے نے کہا کہ کانگرس سب کو ساتھ لے کر چلنے والی پارٹی ہے اس ملک میں کانگریس ہی فرقہ پرستی اور نفرت کا مقابلہ کر سکتی ہے حکمراں جماعت کی جانب سے نفرت کا جو زہر گھولا جارہا ہے اور گزرے نو سالوں سے صرف یہی کیا گیا ۔
اس کا جواب دینے کے لیے کانگریس نے بھی اب محبت کی دکان کھول لی ہے راہل گاندھی نے چار ہزار کلو میٹر کا سفر کرکے ہندو مسلم اتحاد کو وسیع کرنے محبت کی دکان کو عام کرنے اور نفرت کو مٹانے کا کام کیا ہے ایسے میں موجودہ حالات میں مسلمان سمیت دیگر اقلیتیں کانگرس سے پہلے کی طرح جڑ رہی ہیں اور انہیں سمجھ رہا ہے کہ کانگریس ہی اس ملک کو ترقی کی راہ پر لے جا سکتی ہے۔
بہت دنوں تک نفرت کا کھیل نہیں کھیلا جا سکتا عوام پریشان ہو چکی ہے مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں حکومت چند دھنا سیٹھوں کی آلہ کار بن چکی ہے ۔لہذا انے والے دنوں میں عوام کو بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا مالیگاؤں کی سیاسی صورتحال (جنتادل قیادت کے مستعفی ہونے کے بارے میں) پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔
یہ پارٹی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی پارٹی ہے کانگریس پارٹی ایک بڑی پارٹی ہے اس کے باوجود ریاست میں مھا اگھاڑی اور ملک میں انڈیا اتحاد کے ذریعے ہم بی جے پی کا مقابلہ کررہے ہیں پانچ ریاستوں راجستھان مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ تلنگانہ میزورم کے اسمبلی چناو میں کانگریس کرناٹک کی طرح کامیابی حاصل کرے گی۔
اتنا ہی نہیں سال 2024 کے عام چناو میں بھی بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا بی جے پی کی زمین کھسک رہی ہے اس لیےء اپوزیشن لیڈران کو سرکاری ایجنسیوں سے ڈرانے کا جو کھیل شروع ہوا ہے وہ اب بھی جاری ہے مرکزی حکومت اور وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ان کی نوٹنکی شروع ہوگئ ہے پھر سے سبز باغ دکھانے اور وعدوں کی خیرات شروع کردی گئی ہے ۔
لیکن اب کی بار عوام بی جے پی کے جھانسے میں آنے والی نہیں ہے ریاست کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست کے بڑے شھروں کے سرکاری اسپتالوں میں عوام کی صحت سے کھلواڑ جاری ہے کسان خودکشی کررہے ہیں بنکر پریشان ہیں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کام نہیں ہورہا ہے موجودہ حکومت بھی بس چند مہینوں کی مہمان ہے



