( پریس ریلز) آج سے کیٔ دہایٔ قبل کا قصہ ہے یہ۔۔۔
غالباً ١٩٧٢ کا زمانۂ تھا جب مہاراشٹر ہولناک قحط سے متأثر تھا اور مرے پر سو درے کے مصداق مرکزی حکومت کے حکم پر ریاستی سرکار نے پاورلوم رنگین ساڑی بننے پر کڑی پابندی لاگو عاید کردی تھی جس سے خاندیس' بھر کے بنکر،جلاہے،مومناور انصاری برادری شدید پریشان ہوگیے تھے۔انکے روزی روٹی کے لالے پڑگیے تھے بھکمری سے بچنے کے لیے دھولیہ شھر کے بنکروں کو پاورلوم اوراس سے متعلق محنت مزدوری کے متبادل راستے تلاش کرنا پڑے تھے بنکروں کی بڑی تعداد( جسمیں پردہ دار عورتیں بھی شامل تھیں) ریاستی روزگار ضمانت اسکیم کے تحت نالہ بنڈنگ، راستے اور گوندور ایر پورٹ کے تعمیراتی کام میں یومیہ مزدوری پر حمالی،بیگاری اور مٹی کام میں جٹ گیے تھے۔ ارزاں نرخ پر روٹی سالن کی تقسیم کی جاتی تھی۔کچھ نے لوم چلانے اور محنت مزدوری کے لیے مالیگاؤں،بھیونڈی اور احمدآباد کی راہ لی۔ جو کہیں نہ جاسکے انھوں نے ٹھیلے اٹھا لیے اور حمالی کرنے لگے تھے ، پھل فروٹ اور سبزی ترکاری کی ریڑھی لگالیے تھے۔ ان حالات میں ایک نوجوان بنکر نے قلب شھر، آگرہ روڈ پر واقع اور بند پڑی واحد سات منزلہ عمارت پرتی بلڈنگ کے نیچےاردو- ہندی کے چھوٹی موٹی کتابوں کی فروخت کے لیے ٹھیلا لگا لیا تھا. اسکا نام محمودانصاری تھا۔ اور اس نے اپنے اس چھوٹے سے کاروبار کا نام شبنم بک اسٹال رکھا تھا۔
اس زمانے میں اس ٹھیلے پر پانچ پیسے اور دس پیسے میں کسی ہندی فلم کے تمام گانے دیوناگری/اردو میں چھپے ملتے تھے اردو اور ہندی کی چند چھوٹی موٹی کتابیں،ناول اور رسالے بھی رکھے رہتےتھے۔
اسوقت تک شھر میں پایٔ جانے والی اردو کتابوں کی دکانیں تقریباً بند ہونے کو تھی۔ مصطفے کمال پاشا روڈ جسے آج بھی لوگ چرنی روڈ کہتے ہیں وہاں اپنے زمانے کا مشہور تاج ہوٹل ہوا کرتا تھا جسکے باہر صدیق بک سیلر کی دکان ہوا کرتی تھی۔
اکبر چوک میں کچھ دنوں پنچایتی مسجد کے امام حافظ بختیار صاحب نے اطفال بکڈپو شروع رکھا تھا پھرلے دے کر ممبیٔ سے شایع ہونے والے اردو اخبارات مثلا اردو ٹایمز،ہندستان،کہکشاں اور انقلاب وغیرہ کی ایجنسی تھی جو باغبان شیخ سکندر راہی (مدیر دھولیہ پیپلز ویکلی) چلاتے تھے پھر انصاری نیوز ایجنسی شروع ہویٔ تھی جسے الیاس جوہر نے قایم کیا تھا حاجی حسین گروجی،حافظ عمر انصاری، اور دیگر افراد بھی مختلف اخبارات اور پرچے ممبیٔ،دہلی سے منگوا کر تقسیم کرتے تھے ۔بعد میں ریٹایرڈ پولس والے شیخ حولدار نے اخبارات کی تقسیموکافی عرصہ تک انجامدی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی شیخ محبوب بھایٔ صاحب اردو اخبارات کی تقسیم میں مصروف بتاۓ جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ مولوی گنج میں مدینہ بک ڈپو، صدیقیہ بکڈپو،وڑجیٔ روڈ پر محمد سر واصف کا نسرینبکڈپو،آشیانہ کالونی میں کامیاب کتاب گھر اور مسلم نگرمیں موظف انجینیٔر عبدالحمید انصاری صاحب کا کتب خانہ وغیرہ کے ذریعہ اردو اسکولوں کی درسی کتابیں، تعلیمی لوازمات اورمختلف موضوعات کی اردو کتابوں کی ترسیل جاری ہے۔
اس پس منظر میں محمود بھایٔ نے روزآنہ لب سڑک اپنی کتابوں کی دکان لگاتے انھیں اردو کتابوں کے ساتھ ہندی ناولوں اور کتابوں کی فروخت سے بڑا سپورٹ ملا تھا۔دھیرے دھیرے انھوں نے چند اردو اخبارات مثلا نشیمن، عوام،نیٔ دنیا وغیرہ کی ایجنسی شروع کر لی۔اور اردو ،/ہندی کے مختلف ماہنامے،پرچے اور ڈایجسٹ گھر گھر پہنچانے لگے تھے۔
اب شبنم بک اسٹال کافی مشہور ہوگیا ،محمود بھایٔ نے ہمت کرکے مچھلی بازار میں مسجد قصاب بارہ کے شاپنگ میں کرایے سے دکان لےلی اور شبنم بک اسٹال کی باقاعدہ دکان میں اردو کی ادبی،معلوماتی ،شاعری اور دوسری کتابوں کے ساتھ اسٹیشنری وغیرہ بھی مہیا کی جانے لگی تھی اور الحمداللہ ابھی بھی شبنمبک اسٹال اپنی روایتی آب و تاب سے جاری و ساری ہے اور وہاں محمود بھایٔ کے صاحبزادے اپنی خدمات انجامدے رہے ہیں۔
محمود بھایٔ روزآنہ اپنی سایکل پر گھر گھر کتابیں،کلینڈر،ڈایری اور رسایل کی تقسیم بھی کرتے تھے۔ان کی اس خدمت سے صحیح معنوں میں اردو زبان و ادب نیز مطالعہ کا شوق رکھنے والوں کو بڑی راحت ملتی تھی
محمود بھایٔ بچوں کے لیے بچوں کی دنیا،امنگ،پیامتعلیم، بزماطفال، ساینس کی دنیا،وغیرہ خواتین کے لیے پاکیزہ آنچل،رضیہ کا دستر خوان، مہندی کے دلکش ڈیزاین، کشیدہ کاری و سلایٔ کے ہنر،کپڑے رنگنےکا فن، خواتینڈایجسٹ، وغیرہ اور سبھی کےلیے ابن صفی ڈایجسٹ، شعری مجموعے،فکر صحت،آروگیہ دھام،اسپورٹس جرنل،جی کے،وغیرہ گھر گھر پہنچاتے، فرمایش پر مطلوبہ کتابیں بھی منگوا کر فراہم کرتے تھے۔ ایک صاحب کہتے ہیں کہ انھوں نے محمود بھایٔ کی وجہ سے اردو سیکھ لی تھی۔
اتنی محنت اور جانفشانی سے اپنی راہ نکالنے اور اردو کی آبیاری میں تمامعمر گذارنے والے انصاری محمود بھایٔ کتاب والے کا (,شبنم بک اسٹال کے مالک ) ٢٨ستمبر ٢٠٢٣ء بروز جمعرات کو اپنے رہایشی مکان واقع نزد قصاب باڑہ مسجد میں
انتقال پر ملال ہوگیا۔
اناللہ واناالیہ راجعون
اسی روز بعد نماز عصر مومنقبرستان،(چالیس گاؤں روڈ ) میں تدفین میں ہویٔ تھی
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ہم متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین



