جس میں اسٹیج پر تقریبا 20 سے زائد علماء جلوہ افروز تھے۔ ان تمام کا شال دے کر استقبال کیا گیا۔ علاقہ کے رفاحی و فلاحی سرگرمیوں کا فعاّل نام محترم مفتی محمد اخلاق لامبے صاحب نےاس تقریب کی صدارت فرمائی۔ موصوف نے جمیع حضرات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکاح ایک عظیم عبادت ہے اور جس کی مذہب اسلام میں بڑی فضیلت ہے لیکن افسوس کم علمی کی بناء پر امت نے عبادات میں رسومات اور من گھڑت باتوں کو ڈال کر آسان عبادات کو مشکل بنا دیا ہے.
جس کے چلتے عبادات ادا کرنا بھی مشکل ہو چکا۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں عبادات کو رسومات سے پاک کریں، دین آسان ہے اسے آسان ہی رہنے دینے کی ضرورت ہے۔ تقریب کی تلاوت کلام پاک سے جماعت ہشتم کے طالب علم علقمہ (دلہن کے چچا زاد بھائی) اور جحش قاضی (دلہن کے بھائی) نے پیش کی اس کے بعد عائشہ مولانا سرفراز گھارے (جماعت ہفتم) نے حمد پاک پیش کر کے محفل کو مزید معطر کیا۔ جماعت دہم کے طالب علم اسجد نے نعت پاک پیش کیے۔
یہاں موجود جمیع احباب نے انعامی رقومات سے بچوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ ڈاکٹر چندرکانت موکل ( سابق ایم ایل اے داپولی) نے خاص شرکت کر اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے حاضرین کو تعلیم کی جانب رغبت دلائی۔ اسی طرح حذیفہ ٹھاکر جن کو حال ہی میں گوا نیشنل گیمس میں کراٹے مقابلہ میں تیسرا نمبر حاصل ہونے پر حذیفہ کا ایک شال اور گل دے کربہ دست حسین قاضی استقبال کیا گیا۔
پروگرام کی غرض و غایت صابر میاں صالح نے پیش کیں۔ چپلون مرکز کے امام و خطیب حضرت مولانا معظم گھارے نے دعا فرمائی۔ تقریب کی نظامت اور اظہار تشکر مولانا مفتی محمد مدثر مقادم نے پیش کیے۔ دلہن کے عقد مسنون کا خطبہ 13 سالہ بھائی جحش قاضی نے پڑھا جو 21 پاروں کے حافظ اور جماعت ہشتم سیمی انگریزی کے طالب علم ہے۔ یہ عمل رتنا گیری ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے مشعل راہ بنا۔



