" ابے- او غ - " قاسم کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا۔ اس پر کسی نے غلیل چلائی تھی۔ وہ تلملا گیا تھا۔ پتھر پیٹ پر بڑی زور سے لگا تھا۔ وہ گھوما دو تین پتھر سینے اور پیٹ پر بھی لگے تھے۔ "ابے سالے" وہ دہاڈا۔ بنگلے کی چھت سے کئ لڑکیاں اس پر غلیل چلا رہی تھی۔ ارے چھوہاوے کی اولادو۔ ابھی آتا ہوں۔ وہ آہنی گیٹ ہلانے لگا۔ اچانک ایک کار آکر رکی۔ اس میں حمید تھا۔ اس نے کہا " قاسم جلدی بیٹھو ورنہ جاسوسی بھاری پڑ جائے گی" " بھاڑ بھی گئ سالی جاسوسی۔ " قاسم چلا کر بولا" جاسوسی میں گولیاں چلتی ہیں غلیل نہیں۔
" ابے تو کیا مفت میں جاسوس بنوگے؟ حمید نے ہنس پوچھا۔ " ذرا یہ غلیل کرنل صاحب کھائیں ساری جاسوسی پانی پینے لگے۔ سالیوں نے پیٹ پھاڑ دیا۔ " قاسم کار میں بیٹھتا ہوا بولا۔۔۔۔ وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔
قصہ یہ تھا کہ کرنل فریدی نے آٹھ ٹین ایجر وں کے برسرار قتل کا کیس حمید کے سپرد کرکے لندن کام سے نکل گیا تھا۔ کیس کے حل کی مدت صرف ایک ہفتے مقرر کی۔ حمید کی کھوپڑی پر چھپکلی رینگنے لگی۔ اسنے قاسم کو جاسوسی کی لالچ دی۔ ابتدائی تحقیق سے پتہ چلا کہ آٹھوں مقتول کہیں نہ کہیں بے نظیر چنگیزی کے ارد گرد پائے جاتے تھے۔ یا فون کالز کی ہسٹری میں نظر آئے۔ قاسم کی ڈیوٹی بے نظیر چنگیزی کی نگرانی تھی۔ قاسم روزانہ اس کے گیٹ پر کھڑا ہو کر تاک جھانک کرتا۔ کیمروں میں دیکھ لیا گیا ہوگا۔ کسی دیوزاد کو دیکھ کر لڑکیوں نے غلیلیں چلائی ۔ بے نظیر ایک نوجوان لڑکی، جونیئر کالج کی اسٹوڈنٹس، حمید ان دنوں بے نظیر کے آڈیوز ویڈیوز کا پوسٹ مارٹم کر رہا تھا۔ اسنے بےنظیر کے سم کارڈ کمپنی سے اس کے فیس بک اکاؤنٹ اور ڈیٹا طلب کیے تھے۔ " قاسم کہہ رہا تھا " امے یار حمید بھائی یہ چنگیزی کا پب جی کا چکر
وکر لگتا ہے
۔ " نہیں پیارے جیمزجیمس بانڈ، " حمید مسکرایا۔ سارے مقتول اپنے اپنے گروپس کے ایڈمن تھے۔ کوئی تو خاص بات ہے جو ان کے قتل کا باعث بنی۔ جواب میں قاسم نے کہا " ہوگی وہی سالی بلیو فلموں کا چکر۔ " نہیں مجھے اس میں انتقام کا چکر لگتا ہے۔ قاسم نے جھٹ گرفتار کا عندیہ دے ڈالا۔ مگر حمید دوسرے زاویے سے سوچ رہا تھا۔
دوسرے دن حمید اور قاسم سائبر روم میں بے نظیر فون کے ڈاٹا کھنگال رہے تھے۔ قاسم نے بھاڑ سہ منہ پھاڑ کر جماہی لیں اور منہ چلاتا ہوا بولا۔ " سالی یہ چنگیز خان کی نواسی ہوگی۔ " غیر ارادی طور پر حمید نے چنگیز خان کی نواسی انٹر کر دیا۔ پاس ورڈز اوپن ہو گیا۔ حمید قاسم کی پیٹھ تھپتپانے لگا۔ "چنگیزی لوگ خون ہی بہاتے ہیں۔" قاسم دانت نکال کر بولا۔
وہ رات صرف ڈیٹا جمع کرتے فیس بک اکاؤنٹ اور یوٹیوب پیجس کے میٹر سیو کرنے میں گزر گئی۔ دوسرے دن حمید مقتولین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ان کی ہسٹری کی اسٹڈی کر رہا تھا۔ " نہیں حمید - تم بے نظیر چنگیزی کو گرفتار نہیں کرو گے۔ " حمید اور قاسم نکل ہی رہے تھے کہ فریدی کی کال آگئی۔ " مگر کیوں " - حمید نے جھلا پوچھا۔ " عجلت میں تم کئ اور قتل کروا بیٹھو گے۔ " جواب میں فریدی نے کہا۔ تو پھر کیس میرے حوالے کیوں کیا؟ فریدی کی جاندار ہنسی سنائی دی۔ " تمہیں ریچارج کرنے کے لیے آج کل تم بڑے کاہل ہو چکے تھے۔ حمید تلملا گیا۔ " تو میری دم میں پٹاخے باندھ دیتے۔ " دھیرج فرزند - دھیرج - کیس اب بھی تمہارے پاس ہے۔ اسے ختم بھی تم ہی کرو گے۔ بس ایک بار سارے ثبوت اکٹھے کرو۔ پھر بے نظیر سے سرکاری ملاقات کرو۔ دیکھنا میڈیا حمید اور قاسم کے گن گائے گا۔
پھر حمید نے سرکاری حیثیت سے بے نظیر چنگیزی سے اس کے بنگلے میں ملاقات کی۔ " ساری قاسم صاحب۔ " ہم سے بڑی بدتمیزی ہوئی۔ میں سمجھی کوئی مجھے اغوا کرنا چاہتا ہے۔ بے نظیر نے دونوں کارڈکارڈز دیکھ کر کہا۔ اس نے قاسم کے بھی جعلی کارڈ بنوالئے تھے۔ ساتھ میں بےنظیر کی دوست بھی موجود تھیں۔ جنہوں نے قاسم پر غلیلیں چلائی تھی۔ جواب میں قاسم نے صرف ہی ہی کرتا رہا۔ لڑکیاں مسکرا رہی تھیں۔
" دیکھئے مس چنگیزی۔ " "حمید نے تحکمانہ لہجے میں کہا " قانون اپنا کام کرے گا۔ سارے قتل ان کے طریقہ کار صرف آپ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آپ خود سے بتانا پسند کریں گی یا پھر سرکاری مہمان خانے میں چند دنوں قیام کرنا پسند کریں گی؟ خاصے ثبوت مہیا ہو چکے ہیں۔ " جرا نرمی سے برتاؤ کرو کیٹیسن۔ قاسم نے جاسوس بننے کی کوشش کی۔ بے نجیر صاحب سب کچھ بتانے کو تیار ہیں۔ " ہے نہ بے نجیر صاحبہ "؟ وہ افسرانہ انداز میں بول رہا تھا۔ بےنظیر چند منٹ حمید کو دیکھتی رہی۔ پھر دھیمے میں لہجے میں پوچھا۔ " کیا میں اکیلے میں بات کر سکتی ہوں؟ " پھر وہ حمید کو لے کر دوسرے کمرے میں چلی آئی۔ قاسم کسمسا کررہ گیا۔ " وہ میرے نیوڈ فوٹوز شوٹ کی پورن انڈسٹری میں مارکیٹنگ کر رہا تھا۔ " تنہائی میں وہ کہہ رہی۔ حمید اسے عقابی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ " تفصیل- مس بے نظیر تفصیل۔ " حمید نے فریدی کے لہجے کی نقل کی۔ " ہائی اسکول میں جہانگیر کوڈیٹ کر رہی تھی۔ اس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ وہ پورن مارکیٹ کا دلال ہے۔ اس کی فرمائش پر میں نے فوٹو شوٹ کروائے تھے۔ اس کی فرمائش پر نیوڈ فوٹوشوٹ۔ بعد میں پتہ چلا میرے لاکھوں کروڑوں فالووز بن چکے ہیں۔ وہ میرے ویڈیوز مہنگے داموں سیل کرتا۔ آپ کو اندازہ بھی ہے کیپٹن صاحب " شریف زادوں" کو پورنو گرافی کا بڑا چسکا ہے۔ بھیڑیے کے منہ کو خون لگ جانے والی بات ہے۔ میں نے ہر ایڈمن کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا جہاں سے میرے پورن ویڈیوز اور فوٹو شوٹ شیئر ہوئے۔ اس میں میری دوست میری معاون رہیں۔ اب تو یہ وائرل ہوچکیں لیکن میں نے ان سورس پر اٹیک کیا جہاں سے شیئرنگ ہوئی تھی۔ کوئی ٹو وہلیر ایکسیڈنٹ میں مرا۔ کوئی سڑک حادثے میں، کوئی ٹرین سے پٹریوں پر گر پڑا۔ کوئی زیادہ ڈرنکس لینے پر اٹیک کا شکار ہوا
" والدین کو معلوم ہے؟ " حمید نے ہونٹ چباتے ہوئے پوچھا۔ " یہ اباحیت کا دور ہے کیپٹن صاحب-" وہ زہر خند کے ساتھ بولی۔ " وہ والدین تو اس وقت کہلاتے جب وہ نکاح کرتے۔ میں تو ریلیشن شپ کی دین ہوں۔ میری جان بھی چلی جاتی تو انہیں کیوں فکر ہوتی؟ ان میں تو کب کا بریک اپ ہو چکا۔ اب وہ اپنے نئے ریلیشن پارٹنر کے ساتھ مزے کر رہے ہوں گے۔ برتن سے وہی نکلے گا نا جو اس میں ہوگا۔ ؟ اب میں نے اپنے طور پر جینا سیکھ لیا ہے۔ " مس چنگیزی " " حمید نے کہا " میں تمہیں آٹھ قتل کے الزام میں گرفتار کر سکتا ہے۔ " ضرور ضرور کیپٹن صاحب " وہ ہنس کر بولی۔ کیا بن بیاہی ماں بننا جرم نہیں؟ کیا بے نکاحی رشتے بنانا جرم نہیں۔ کیا حرامی بچوں کو بے رحمو کے حوالے کر جانا جرم نہیں؟ انہیں قانون کب گرفتار کرے گا -؟ حمید بے بسی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ دوسرے دن فون پر فریدی نے روداد سن کر صرف اتنا ہی کہا تھا۔ کیس کلوز کرو حمید _ پلیز _



