" لزی ڈپارٹمنٹل اسٹور " کے سامنے ایک اسکوٹی آکر رکی۔ یہ سول ڈریس میں انسپکٹریس ریکھا تھی۔ کاونٹر پر ایک یوریشن لڑکی وہیل چیئر پر بیٹھی تھی۔ وہی اس ڈپارٹمنٹل اسٹور کی مالکہ تھی۔ "مجھے ایک کیمیکل فری میک اپ بکس درکار ہے۔ " ریکھا نے کہا۔ " کوئی بھی میک اپ بکس کیمیکل فری نہیں ہوتا۔ اشتہاری باتوں میں نہ آئیں۔ " کاؤنٹر والی بولی تھینک یو مس لزی۔ " ریکھا نے کہا۔ " بس کیا کہوں عادت سی ہو گئی ہے۔ " جیسی آپ کی مرضی۔ " لزی نے کہا اور اسے بیوٹی بکس نکال کر دیا۔ " "ویسے میں کیا آپ کو ایک مشورہ دے سکتی ہوں؟ " ریکھا نے اثبات میں سر ہلایا۔ قدرتی حسن سب سے بہتر ہے " لزی بولی" گاڈ نے سب کو حسین بنایا ہے۔ صرف دن میں چار پانچ مرتبہ ہاتھ پاؤں اور چہرہ ٹھنڈے پانی سے دھوئیں۔ میں میک اپ نہیں کرتی۔ کیا بد صورت دکھائی دیتی ہوں؟ یہ اور بات ہے بچپن سے اپاہج ہوں۔ "جواب میں ریکھا نے مسکرا کر کہا" ایسا کہنے میں اسٹور کی سیلنگ میں متاثر ہو سکتی ہے۔ " سچ سے کبھی نقصان نہیں ہوتا" وہ بولی۔ ریکھا نے بل پے کیا اور ہاتھ ملا کر چلی گئی۔
کچھ دیر بعد- لزی بورڈن اپنا اسٹور بند کرکے اپنے الیکٹرانک اور ریموٹ کنٹرول وہیل چیئر لئے روڈ کے کنارے کنارے چل پڑی۔ اس کا گھر زیادہ دور نہیں تھا اس لئے وہ ٹیکسی نہیں کرتی تھی۔ گھر آکر وہ کپڑے بدل کر فریش ہوئی۔ وہ اپنے موبائل پر سینڈ کئے ویڈیو دیکھ رہی تھی۔ اس نے پھر کسی کو فون کیا" الماس- غور سے سنو- ارشاد بار سے ساڑھے بارہ بجے نکلتا ہے نشے میں ہوتا ہے۔ تم بس بار کے سامنے والی زیرو گلی میں لے آؤ۔ بس یہ آخری ہو گا۔ معاوضہ دہرا ملے گا۔ "
انسپکٹر ریکھا کو نہیں لگتا تھا کہ ایک اپاہج لڑکی قاتل بھی ہو سکتی ہے، لیکن شک کرنل فریدی کا تھا تو یقین کرنا ہی پڑے گا۔ دراصل ریکھا
نے فریدی سے درخواست کی تھی اسے ذاتی طور پر کوئی کیس دیا جائے ۔ آخر کب تک انگلی پکڑ کر چلتی رہے گی؟ وہ اپنی صلاحیتیں ثابت کرنا چاہتی تھی۔ فریدی نے اسے ایک نظر دیکھا تھا اور کہا تھا۔ " تمہارے موبائل پر ایک مرڈر کیس کا فائل سینڈ کر رہا ہوں، مجرم کو زندہ پکڑنا ہے بس " حمید اپنے ٹیبل پر بیٹھا سب سن رہا تھا اس نے استہزائیہ انداز میں کہا " ڈاکٹر اقبال کی " پہاڑ اور گلہری" والی نظم پڑھی ہے؟ " ریکھا دانت پیس کر رہ گئ۔ چار قتل ،چاروں دوست ،ایک ہی طریقہ کار سے قتل۔ ناف میں کسی نوکیلا ہتھیار گھسیڑ کر قتل کیا گیا۔ بہت زیادہ خون بہ جانے سے ڈیتھ۔ سارے مقتول کہیں نہ کہیں ہاوس گلی میں خون سے لت پت ملے۔ ایک اپاہج لڑکی مشبہ قرار پائی۔ کیو نکہ جائے واردات پر اپاہج لڑکی اپنی وہیل پر سی سی ٹی وی کیمرے میں کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئی۔ جس وقت لزی بورڈن اپنی وہیل چیئر سے گھر جا رہی تھی، ریکھا نے اسے اوورٹیک کرتے ہوئے اسکی چیئر پر ایک میگنیٹک مائیکروچپ چپکادی تھی۔ وہ اپنے موبائیل پر اس کی لوکیشن فالو کر رہی رتھی۔
ریڈ روز بار سے ارشاد لڑکھڑاتے قدموں سے پارکنگ میں آیا۔ اچانک اسے کسی لڑکے کے رونے کی آواز آئی۔ ایک سات آٹھ سال کا لڑکا اپنی داہنی ہتھیلی دبائے سسک رہا تھا۔ ہتھیلی سے خون ٹپک رہا تھا۔ ارشاد کا نشہ ہرن ہوگیا۔ " کس نے کیا ہے یہ؟ " ارشاد نے لڑکے سے پوچھا۔ " انکل- بچہ رو رو کر کہنے لگا۔ " خون - خون " اور اپنی ہتھیلی اس کے سامنے کردی۔ ارشاد کے اندر ایک بچہ جاگ اٹھا۔ لڑکے نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک طرف لے چلا۔ ارشاد ایک معمول کی طرح اس کے پیچھے چل پڑا۔ لڑکا جونہی زیرو گلی میں داخل ہوا، ارشاد نے وہیل چیئر پر بیٹھی ایک اپاہج لڑکی کو دیکھا۔ وہ اس طرح چونکا جیسے ابھی نیند سے بیدار ہوا ہو۔ " ارشاد - باسٹرڈ - " لزی چلائی۔ " آخر میں نے تمہیں ڈھونڈ لیا۔ اس نے کرسی کا دستہ کھینچ کر ایک
برما نکالا، ریموٹ کنٹرول سے کرسی کی اسپیڈ بڑھائی وہ برق رفتاری سے ارشاد کی طرف بڑھی۔ اس سے پہلے کہ وہ برما اس کے پیٹ میں گھسیڑ دیتی اچانک وہیل چیئر ہوا میں معلق ہو گئی۔ کرسی سمیت لزی کو اٹھانے والا کرنل فریدی تھا۔ وہ فریدی کی گرفت سے نکلنے کے لیے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ فریدی زیرو گلی میں پہلے سے موجود تھا۔ اس دوران ریکھا ارشاد کو ریوالور سے کور کر رکھا تھا۔ فریدی کی غیر متوقع موجودگی سے وہ خود بھی حیران تھی۔ لزی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ پست پڑ چکی تھی۔ "ریکھا - ارشاد کو ہتھکڑیاں لگا دو اور کوتوالی فون کرو۔ " فریدی نے کہا۔ " میرا باپ میری مالدار ماں کی جائیداد پر قابض ہو گیا تھا۔ ماں پر بہت ظلم کرتا وہ صدمے سے مر گئی پھر باپ نے دوسری شادی کر لی۔ سوتیلی ماں مجھ پر تشدد کرتی۔ باپ میری پٹائی پر خاموش تماشائی بنا رہتا۔ ایک دن ماں نے لوہے کی راڈ سے میرے پنڈلیوں پر وار کیا۔ میں زندگی بھر کے لئے اپاہج ہوگئ۔ ایک دن جب میرا باپ اور ماں میٹھی نیند سو رہے تھے میں نے کلہاڑی سے دونوں کا قتل کیا اور فرار ہو گئی۔ وہ سسکنے لگی۔ فریدی ، ریکھا اور حمید کوتوالی کے سائبر روم میں اس کا بیان ریکارڈ کر رہے تھے۔ " وہیل چیئر سے دوبارہ زندگی شروع کی۔ بڑی محنت سے میں نے اپنا ڈپارٹمنٹل اسٹور کھولا۔
میری پرسکون زندگی میں اس وقت زلزلہ آ گیا جب وہ پانچ امیر زادوں نے میرے بنگلے میں گھس کر میرا ریپ کیا۔ سنا آپ نے؟ ایک معذور اپاہج لڑکی کا ریپ۔ یہ بھیڑیئے کسی لنگڑی لڑکی کو بھی نہیں بخشتے۔ کیا شیطان نے چھٹی لے رکھی ہے؟ یہ زخم بھی بھر جاتے لیکن انہوں نے دوسری بار بھی یہی کیا۔ " وہ پھر سسکنے لگی۔ " وہ بچہ کون تھا؟ ہم نے اسے چلڈرن ہوم میں رکھا ہے۔ " " ریکھا نے سوال کیا۔ " ایک پختہ عمر آدمی ایک بچے کے ہاتھوں کیسے بے بس ہو گیا؟ " " اس کا جواب میں دے دیتا ہوں " فریدی نے بیچ میں مداخلت کی۔ ہر شخص کے اندر تین شخصیتں بیک وقت موجود ہوتی ہیں۔ بچہ، جوان اور بوڑھے کی۔ جب ہم کسی بچے پر ظلم ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر کا بچہ بیدار ہوجاتا ہے، کسی نوجوان پر پولیس لاٹھیاں برسا رہی ہو تو ہے تو اندر کا نوجوان جاگ اٹھتا ہے، اور کسی ضعیف کے ساتھ بد سلوکی ہو رہی تو ہمارے اندر کا بوڑھا جاگ جاتا ہے۔ اسے نفسیاتی لمحے کا مس لزی بورڈن خوب استعمال کرتی رہی۔ کیوں سچ ہے نا مس لزی؟ " مگر بچہ زخمی تھا۔ ہتھیلی سے خون بہہ رہا تھا۔ ریکھا بولی۔ نقلی خون تھا جسے دیکھ کر ارشاد جیسے غنڈے نے اپنے بچپن میں چھلانگ لگا دی۔ یہ سچویشن ایسی ہوتی ہے کہ دماغ ایک طرح سے ہیک ہوجاتا ہے۔ لزی اسی نفسیاتی لمحے کا خوب استعمال کرتی رہی۔ مگر اس نے خوب انتقام لیا ۔اور مس ریکھا تم نے میرے سینڈ کئے فوٹیج غور سے نہیں دیکھے ہر فوٹیج میں ایک نہ ایک جھلک کسی بچے کی بھی ہوتی تھی۔ وہ بچہ اس کا پڑوسی ہے۔ اسے لزی اس کام کیلئے بھاری رقم دیتی تھی۔ " " تو اب میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ " لزی نے آبدیدہ نظروں سے فریدی کی طرف دیکھا۔ " قانون اپنا کام کرے گا۔ " فریدی کا جواب تھا۔ " تو دیکھا تم نے انسپکڑیس ریکھا " حمید نے چٹکی لی۔ " پہاڑ - پہاڑ ہے اور گلہری گلہری ہے " ریکھا تڑپ کر فریدی کی طرف دیکھنے لگی۔ فریدی نے ہاتھ اٹھا کر اسے تسلی دی۔



