ایک دن تمام دنیا، انسان ،حیوان، جن،فرشتے، زمین ،آسمان اور جو کچھ ان میں ہیں سب فنا ہو جائیں گے۔اللہ کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا اسی کو قیامت آنا کہتے ہیں قیامت آنے سے پہلے کچھ نشانیاں ظاہر ہوں گی ۔جیسا کہ صادق ومصدوق رسول ﷺ کی احادیث اس پر شاہد ہیں ان قیامت کی نشانیوں اور علامتوں میں سے امام مہدی رضی اللہ عنہ کا ظاہر ہونا بھی ہے ۔افسوس کہ آج بعض ناعاقبت اندیش افراد اپنے آپ کو مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں جب کے اللہ کے رسول ﷺ نے امام مہدی رضی اللہ عنہ کی تمام نشانیا ں بتادی ہیں ۔اس مقالے میں امام مہدی رضی اللہ عنہ سے رسول ﷺ کے فرامین ہدیۂ ناظرین ہیں۔
حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ،حضور ﷺکی اولاد میں حسنی سید ہوں گے آپ امام ومجتہد ہوں گے۔قیامت کے قریب جب تمام دنیا میں کفر پھیل جائے گا اور اسلام صرف حرمین شریفین میں ہی رہ جائے گااولیا ابدال سب وہیں ہجرت کر جائیں گے۔رمضان شریف کا مہینہ ہو گا ابدال خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہوں گے حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود ہوں گےاولیا انھیں پہچانیں گےان سے بیعت لینے کو عرض کریں گے وہ انکار کریں گےغیب سے آواز آے گی۔"ھذا خلیفۃاللہ المھدی فاسمعوالہ واطیعوا۔"یہ اللہ کا خلیفہ مہدی رضی اللہ عنہ ہےاس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔تمام لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اورپھر حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ سب کو اپنے ساتھ لے کرملک شام میں آ جائیں گے۔(مرقاۃ المفاتیح،ج۹،ص۳۵۳)
ماضی قریب کی عظیم الشان دینی وعلمی اور اسلامی وروحانی شخصیت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ امام مہدی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے تحریر فرماتے ہیں:"حضرت مہدی وعیسیٰ کے بارے میں احادیث حدِ تواتر کوپہنچی ہے یہاں تک کہ ائمۂ دین نے ان کا نزول اور ظہور عقائد میں داخل فرمایا ہے ۔"(فتاویٰ رضویہ شریف مترجم ،ج۲۹،ص۲۲۶)
اور ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں کہ:"اسی نوع سے ہے وہ حدیث کہ صدر الکلام میں امام خاتم الحفاظ سے گزری کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ خلافت جب بنی عباس کو پہنچے گی ظہور مہدی تک اور کو نہ ملے گی ۔ظاہر ہوا کہ ۱۳۳۱سے آج تک اور آج سے ظہور حضرت مہدی تک کوئی غیر عباسی خلیفہ نہ ہوا ہے نہ ہو گاجو دوسرے کو خلیفہ مانے حدیث کی تکذیب کرتا ہے یہ حدیث اپنے طرق عدیدہ سے حسن ہے اسے طبرانی نے معجم کبیر میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا،اور دیلمی نے مسند الفردوس میں انہیں سے بسند دیگر اور دار قطنی نے افراد میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سےمرفوعااورخطیب نے بسندخلفاءحضرت حبرالامہ سے موقوفا اور حاکم نے حضرت عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے،حدیث طبرانی میں ہے کہ ہاں خلافت میرے چچا میرے باپ کہ جگہ عباس کی اولاد میں ہے یہاں تک کہ اسے سپرد دجال کریں گے۔"(المعجم الکبیر ،حدیث ۱۰۱۶،ج۲۳،ص۴۲۰)
نیز حدیث ابن مسعود میں ہے کہ:"شب وروز گزرنے کے بعد وہ خلافت کو میرے اہلبیت سے ایک مرد کے سپرد کریں گے جس کا نام میر انام ہو گا اور اس کے باپ کا نام میرا نام ہو گا وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گاجس طرح ظلم وستم سے بھر گئ تھی یعنی حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ۔"(المستدرک للحاکم ،کتاب الفتن والملاحم ،ج۴،ص۴۴۲)
علامہ عالم فقری اپنی کتاب " آثار قیامت " میں امام مہدی کے تعلق سے تحریر فرماتے ہیں کہ "حضرت امام مہدی کی خلافت کااظہار اس وقت ہو گاجب ان کی عمر۴۰سال ہو گی آپ کی خلافت کے بارے میں یوں کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کی علامات صغری واقع ہو چکی ہوں گی عیسائیوں کا غلبہ ہو گا مکہ اور مدینہ کے علاوہ تمام علاقوں پرکفر کاتسلط ہو گا۔ اس وقت تمام اولیا ءاللہ بالخصوص ابدال حضرات سب جگہوں سے سمٹ کرمکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہجرت کر جائیں گےکیونکہ انھیں دو مقامات پراسلام رہے گاساری دنیا کفرستان بن جائے گی ۔رمضان شریف کا مہینہ ہو گاتمام ابدال اور اولیاء اللہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے اور اسی مجمع میں حضرت امام مہدی بھی ہوں گے۔اولیائے کرام ان کو پہچان کر ان سے بیعت کی درخواست کریں گے اور ان کی خلافت کا اعلان ہو جائے گا۔عرب کے تمام مسلمان امام مہدی کی قیادت میں اکٹھے ہوجائیں گے اور ایک عظیم لشکر عیسائیوں کے مقابلہ میں ملک شام میں جمع ہوں گے لشکر کفار کے۸۰جھنڈے ہوں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہ ہوں گےحضرت امام مہدی مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی زیارت کرنے کے بعد لشکر اسلام کو لے کا ملک شام میں پہنچ جائیں گے جہاں دونوں کا مقابلہ ہوگا۔سخت خونر یز جنگ ہو گی ۔لشکر اسلام کا ایک تہائی حصہ بھاگ جائے گا ان کی موت کفر پر ہو گی ایک تہائی لشکر شہید ہو جائے گا اور باقی بچ جانے والے ایک تہائی لشکر کو چوتھے روزجا کر کفار پر فتح حاصل ہو گی لیکن اس فتح کی کسی کو خوشی نہ ہو گی کیونکہ مسلمانوں کا اس جنگ میں کافی نقصان ہو گا اور سو میں سے ایک مسلمان بچا ہو گا۔فتح یابی کے بعدآپ کو جتنا بھی عرصہ حکومت کرنے کا موقعہ ملے گاآپ اس میں عدل وانصاف قائم کریں گے۔آپ بڑے سخی ہوں گے اور اللہ کی راہ میں بے پناہ سخاوت کریں گے"۔ (اس کا ذکر نیچے آرہا ہے)(آثار قیامت،علامہ عالم فقری،ص۱۸۲،۱۸۳)
امام مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو احادیث کتب احادیث میں ذکر ہیں ،نظر نشیں فرمائیں:
ترمذی شریف میں ہے کہ:"حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک میرے اہل بیت سے ایک شخص جو میرا ہم نام ہو گا ،بادشاہ نہ بن جائےاس باب میں حضرت علی ،ابو سعید ،ام سلمہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں ۔یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔"(ترمذی شریف ،حدیث ۱۱۱)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشادفرمایا کہ :"میرے اہل بیت سے ایک شخص جس کا نام میرے نام جیسا ہو گا حکمراں ہو گا "عاصم ،ابو صالح کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا:"اگر دنیا میں سے ایک دن ہی رہ جائےتو اللہ اس کو طویل کر دے گا یہاں تک کہ امام مہدی حکمراں ہو جائیں "۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(ترمذی شریف ،حدیث ۱۱۲)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں حضور ﷺ کے بعد نئی باتیں نہ پیدا ہو جائیں اس لئے ہم نے حضو رﷺ سے اس بارے میں پوچھا،آپ نے فرمایا:"میری امت میں ایک مہدی ظاہر ہو گا جو پانچ یا سات یا نو سال زندہ رہے گا ،ان کی طرف ایک شخص آئے گا اورکہے گا اے مہدی!مجھے عطا کیجیے مجھے عطا کیجیے،پس امام مہدی اس کے دامن کو اس طرح بھر دیں گے جتنا وہ اٹھا سکتا ہو گا"یہ حدیث حسن ہے اور بواسطہ ابوسعید حضور ﷺ سے کئی طرق کے ساتھ مروی ہے ۔(ترمذ ی شریف،حدیث ۱۱۳)
سنن ابن ماجہ ،باب ۷۴۵میں امام مہدی کے تعلق سے احادیث اس طرح رقم ہیں ۔عثمان ابن ابی شیبہ،معاویہ ابن ہشام ،علی ابن صالح ،یزید ابن ابی زیاد ابراہیم،علقمہ،عبداللہ نے فرمایا کہ ہم بنی اکرم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں چند ہاشمی جوان آئےانھیں دیکھ کر حضور ﷺ کی آنکھیں بھر آئیں ،ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جس سے ہمیں دکھ ہوتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا:" ہم وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے دنیا کے بدلے آخرت عطا کی ہے بہت جلد ایسا وقت آنے والاہے کہ میرے اہل بیت نہایت تکلیف اور سختی میں مبتلا ہوں گے ان پر بڑی مصیبتیں آئیں گی حتی کہ مشرق اور مغرب سے کچھ لوگ آئیں گے جن کے ہمراہ سیاہ جھنڈے ہوں گے ان کا مقصد دنیا کے خزانوں پر قبضہ کرنا نہ ہو گا لیکن لوگ ان کہ راہ روکیں گے اس لئے وہ لوگوں سے جنگ کریں گے اللہ تعالی انھیں فتح عنایت فرمائے گا اور جس کام کا ارادہ کرتے تھے پورا ہو گا اس وقت یہ لوگ اپنی حکومت کو پسند نہ کریں گے بلکہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو اپنا سردار مقرر کریں گے وہ شخص زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح لوگوں نے ظلم سے بھر دیا تھا لہذاتم میں کا جو شخص اس زمانے کو پائے وہ ان لوگو ں کا شریک ہو اگر چہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے"۔(ابن ماجہ شریف،حدیث۱۸۸۳)
نصر ابن علی الجہضمنی،محمدابن مروان العقیلی،عمارۃابن ابی حفصہ،زیدالعمی،ابو صدیق الناجی ،ابو سعیدخدری کا بیان ہے کہ:" رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ میری امت میں مہدی پیداہوں گے اگر وہ دنیا میں رہے توبہت کم سات برس ورنہ نو برس ضرور رہیں گےان کے زمانے میں میری امت اسقدر خوش ہوگی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی زمین کا ان کے زمانے میں یہ حال ہو گا کہ جس قدر اس میں پھل پیدا کرنے کی صلاحیت ہے سب پیدا کر دے گی۔کچھ حصہ بھی پھل کا باقی نہیں رہیگامال کی اس قدر فراوانی ہو گی کہ ان کے سامنے ڈھیر لگا ہو گا لوگ ان سے کہیں گے مہدی ہمیں دے دو ،جواب دیں گے جتنا جی چاہے لے لو"۔(ابن ماجہ شریف ،حدیث ۱۸۸۴)
محمد ابن یحیی،احمد ابن یوسف ،عبدالرزاق،ثوری ،خالد الحذاء،ابو قلابہ ،ابو اسماءالرحبی ،ثوبان کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:" تمہارے ایک خزانےکے پاس تین خلفاء کے بیٹے قتل کیے جائیں گے لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہو گا اس کے بعد مشرق کی جانب سے سیاہ نشان نمودار ہوں گے وہ تمہیں ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا ،پھر اللہ کا خلیفہ مہدی ظاہر ہو گا جب تم اسے ظاہر ہوتا دیکھوتو گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کربھی جانا ہو تو اس کی بیعت کر لیناکیونکہ وہ مہدی اللہ کا خلیفہ ہو گا"۔(ابن ماجہ شریف،حدیث ۱۸۸۵)
عثمان ابن ابی شیبہ ،ابو داؤد،یا سین ، ابراہیم ابن محمد ابن الحنفیہ ،محمد،حضرت علی کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:" مہدی ہم میں سے یعنی اہل بیت میں سے ہو گا اور اللہ تعالی ایک ہی رات میں ان میں خلافت اور مہددیت کی صلاحیت پیدا فرما دے گا"۔(ابن ماجہ شریف)
مشکوۃ شریف ،کتاب الفتن میں مستدرک کے حوالے سے ایک حدیث نقل ہے کہ۔۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مصیبت کا ذکر فرمایاجو اس امت کو پہنچے گی ۔آدمی کو ظلم سے بچ کر چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی ۔پس اللہ تعالی میری عترت اور میرے اہل بیت سے ایک آدمی کو کھڑا کرے گا جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم وجور سے بھر گئی ہو گی ۔آسمان کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے اس سے خوش ہوں گے ،آسمان اپنی بارش سے ایک قطرہ بھی نہیں چھوڑے گا اور زمین اپنے نباتات سے کوئی چیز نہیں چھوڑے گی مگر اگا دے گی ۔یہاں تک کہ زندہ لوگ مرنے والوں کے زندہ ہوجانے کی تمنا کریں گے ۔وہ اس حالت میں سات یاآٹھ یانو سال رہیں گے ۔روایت کیا اسے حاکم نے مستدرک میں ۔(مشکوۃ شریف،حدیث ۵۲۲۱)
احادیث مبارکہ کے مطابق امام مہدی رضی اللہ عنہ اہل سنت وجماعت کے بہت بڑے بزرگ اور خروج دجال کے وقت امت محمدیہ کی تمناؤں اور امیدوں کا مرکز ہوں گے ۔روافض نے ان کے متعلق جو مضحکہ خیز پروپیگنڈہ کیا ہوا ہے کہ وہ فلاں صدی کے فلاں سن میں پیدا ہوئے تھے ،فلاں کارنامے انجام دینے کے بعد مسلمانوں سے ناراض ہو کرغار سرآمن رائے میں چھپے ہوئے ہیں اور قیامت کے نزدیک ظہور فرمائیں گے ۔یہ من گھڑت فرضی قصہ ہے ۔
امام مہدی رضی اللہ عنہ اور عیسی علیہ السلام کی ملاقات بھی احادیث سے ثابت ہیں... ملاحظہ فرمائیں
عیسٰی علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت نازل ہوں گے، (مسند احمد، مستدرک حاکم، ابن ابی شیبہ)
نزول کے وقت حاضرین کا مجمع اور ان کی کیفیت کا اندازہ کریں.. وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت ہوگی جو دجال سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے ہوں گے، (مسلم)
عیسٰی علیہ السلام کے نزول کے وقت یہ لوگ نماز کے لیے صفیں درست کر رہے ہوں گے، (مسلم)
اس وقت اس جماعت کے امام حضرت مہدی ہوں گے۔ حضرت مہدی حضرت عیسی علیہ السلام کو امامت کے لیے بلائیں گے اور وہ انکار کریں گے، (مسلم، مسند احمد، ابوداود، ابن ماجہ)
جب امام مہدی پیچھے ہٹنے لگیں گے تو عیسی علیہ السلام ان کی پشت پر ہاتھ رکھ کر ان کو امام بنائیں گے۔ (ابوداود، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، ابن خزیمہ) پھر حضرت مہدی نماز پڑھائیں گے۔ (ابونعیم)
موجودہ حالات کو دیکھکر آج ہی لوگ امام مہدی کی آمد کو یقینی سمجھ رہے ہیں... فلسطین اسرائیل جنگ کو لے کر لوگ یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ امام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمد وظہور کا وقت ہو چکا ہے.. کچھ لوگ تو باقاعدہ آوازیں بھی دے رہے ہیں ...یاد رکھو مسلمانوں ہمیں ابھی بہت امتحان دینا ہے... قربانیاں دینی ہیں .... بے شمار قیامت کی نشانیوں کا ظہور باقی ہے... تب حقیقی امام مہدی کی ولادت ہو گی ...
razamarkazi@gmail.com




