کھام گاؤں :14/نومبر (واثق نوید) ضلع پریشد اور نگر پریشد اسکولوں کی عمارتیں بالخصوص اردو اسکولوں کی عمارتیں اپنی شکستہ حالی ، بے رنگ و روغن ، ٹوٹ پھوٹ، رکھ رکھاؤ کی وجہ سے ہمیشہ سماج میں موضوع بحث بنی رہتی ہیں ۔ لیکں الحمد اب ان اسکولوں کی بھی کایا پلٹ رہی ہیں ۔
ضلع پریشد اور نگر پریشد کے اساتذہ بھی حکومت کی مدد یا عطیہ دہندگان کے تعاون سے اپنی اسکولوں کے لک کو بدل رہے ہیں ۔ حال ہی میں اس کی ایک مثال بلڈھانہ ضلع کے جلگاؤں جامود پنچایت سمیتی کے پیپل گاؤں کاڑے کی ضلع پریشد اردو مڈل اسکول میں دیکھنے میں آئی ۔ اسکول کے صدر مدرس سید مبین نے اپنے اساتذہ اور گاؤں کے عطیہ دہندگان کی مدد سے اسکول کو نقشہ ہی بدل دیا ہے ۔ جس کی ہر طرف ستائش کی جارہی ہے ۔
گاؤں کی معزز شخصیت شیخ بشیر شیخ اسامہ قریشی نے اپنے جیب خاص سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے تخمینے سے اسکول کا داخلی دروازہ بناکر دیا ہے ۔ اسکول انتظامیہ کمیٹی اسکول کے اساتذہ اور گاؤں کے معزز شخصیات و محکمہ تعلیم کے افسران کی موجودگی میں اس عظیم الشان داخلی دروازے کا افتتاح عمل میں آیا ۔
اس موقع پر گاؤں کے سرپنچ شیخ ہارون شیخ یونس ، نائب سرپنچ محترمہ بھارتی تائی میندربنگر ، اسکول انتظامیہ کمیٹی کے صدر شیخ رفیق شیخ کریم ، نائب صدر شیخ انیس شیخ رفیق ، صدر مدرس سید مبین ، معاون معلیمین سید رحمن ، سید صلاح الدین ، زبیدہ میڈم ، اعجاز اللہ خان ، وسیم احمد خان ، افضال حسین ، محمد سرفراز ،و اسکول کے طلباء و سرپرست حضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔ حاضرین نے عطیہ دہندگان شیخ بشیر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں دعاؤں سے نوازا ۔
اسکول کا ماحول دیکھ کر گاؤں کی معزز شخصیات اور اسکول انتظامیہ کمیٹی کے عہدیداران و ارکین نے اساتذہ کو یقین دلایا کہ اسکول کی ترقی و بہتر معیار تعلیم کے لئے ہم لوگ ہمیشہ آپکے ساتھ ہیں ۔ شیخ بشیر قریشی جیسے سخی عطیہ دہندگان گر ہر گاؤں میں کھڑے ہوگئے تو اردو اسکولوں کی بھی ہر جگہ کایا پلٹ ہوسکتی ہیں ۔ موصوف کا یہ کارنامہ قابلِ ستائش و قابل تقلید بھی ہے ۔





