Etv bharat
ریاست اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں ایک کالج میں منعقدہ فیشن شو میں برقعہ پہن کر کیے گئے کیٹ واک پر جمعیت علمائے ہند اور دیگر مسلم تنظیموں نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور کہا کہ برقعہ کو فیشن سے جوڑ کر نہ دیکھا جائے یہ فیشن کا حصہ نہیں ہے۔ Jamiat e Ulema on wearing burqas in fashion show
burqas in fashion showمظفر نگر: ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے مشہور شری رام گروپ آف کالج میں تین روزہ چلنے والے فیشن اسپیشل 2023 پروگرام اتوار کی دیر رات اختتام پذیر ہوا۔ اس فیشن شو کے پروگرام میں روس یوکرین کی ماڈلز کے ساتھ ساتھ مشہور فلم اداکارہ منداکنی نے بھی شرکت کی تھی۔ اس پروگرام میں کالج کے بچوں نے بھی بہت سے دلکش پروگرام پیش کیے اس فیشن شو میں سبھی ماڈلز نے ریمپ پر کیٹ واک کر اپنے جلوے بکھیرے۔
فیشن شو کے اس پروگرام میں برقعہ پہن کر کیٹ واک بھی کیا گیا۔ فیشن شو میں برقعہ پہن کر کیٹ واک کرنے پر جمعیت علمائے ہند نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے اور اس کی سخت مذمت کی ہے۔ جمعیت علمائے ہند مظفر نگر کے کنوینر مولانا مکرم قاسمی نے کہا کہ برقعہ کو فیشن سے جوڑ کر نہیں دیکھا جائے برقعہ فیشن کا حصہ نہیں ہے، یہ پروگرام بچوں سے کروایا گیا ہے، یہ ایک مذہب کو ٹارگٹ کرنے والی بات ہے۔ ایسا کرکے مسلم کمیونٹی اور ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کام کیا گیا ہے۔
جمعیت علمائے ہند اس کی مذمت کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کالج انتظامیہ اس پر اپنا رخ صاف کرے اور آئندہ اس طرح کے پروگرام سے بچے جس سے کی کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو، برقعہ کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دوبارہ ایسے پروگرام کرتا ہے تو جمیعت علماء اس کے خلاف قانونی جنگ لڑے گی۔ چاہے اس کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ بھی جانا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برقعہ ایک لباس ہے۔ عورت جب بھی گھر سے باہر جاتی ہے تو اسے پہنتی ہے، برقعہ کو پردے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پردے کا ذکر قران پاک میں بھی صاف طور سے کیا گیا ہے۔




