فریدی ٹہلتا ہوا دیوار پر لگی پینٹنگ کے پاس رکا۔ پینٹنگ ایک بھیڑیے کی تھی جو ایک میمنے پر جھپٹ رہا تھا۔ فریدی نے پینٹنگ چھونی چاہی اچانک پیچھے سے میری کاٹن کی آواز آئی " فریدی سر - کافی حاضر ہے۔" فریدی پلٹا تو میری کاٹن نے کافی کا کپ پکڑا دیا۔ " ایک خطرناک بھیڑیے کی پینٹنگ لگانا حیرت انگیز ہے۔ " فریدی بولا "لوگ فطری مناظر کی پینٹنگ آویزاں کرتے ہیں" جواب میں میری کاٹن نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا " بچپن میں میری سوتیلی ماں نے مجھے ایک یتیم خانے میں ڈال دیا تھا۔ وہاں کے نگران کسی بھیڑیے سے کم نہ تھے۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں یتیم لڑکے لڑکیوں کو بند کرکے رکھا جاتا تھا۔ وہ جگہ کسی گندی نالی سے کم نہ تھی۔ بلکہ کتوں کے باندھنے کی جگہ تھی۔ ہم گھاس پھونس بچھا کر بھوکے سو رہتے۔ ایسی دردناک جگہ پر لمبا عرصہ گزارنا پڑا۔ وہاں کے بھیڑیے صفت نگراں اکثر کم عمر لڑکیوں پر ہاتھ صاف کر دیتے۔
جب کبھی کھانہ دیا جاتا تو کھانے کے لئے بچے کتوں کی طرح پنجے مار کر جھپٹتے۔ ان کی روحیں کتوں جیسی ہو گئی تھی۔ وہاں بچوں کے جھنڈ کے جھنڈ تھے۔ کتوں کی طرح ٹیاؤں ٹیاؤں کرتے تھے" فریدی کپ لئے اسے دیکھ رہا تھا اور کیا بتاؤں فریدی صاحب؟ باپ سخت گیر تھا بات بات پر روئی کی طرح دھنک ڈالتا تھا۔ ہم بھائی بہن اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے تھے۔ سب نے ایک ایک کر کے باپ کا گھر چھوڑ دیا۔ ماں نے مجھے محتاح خانے میں ڈال کر پنڈ چھڑا لیا۔ " افسوس کی بات ہے" فریدی بولا " اگر تم صبر کرتیں اور قناعت اختیار کرتیں تو بڑا صلہ پاتیں۔ " زندہ رہنے کے لیے بہت اسٹرگل
کی ہے فریدی صاحب۔ آپ کبھی چوبیس گھنٹے بھوکے رہے ہیں؟ مگر آپ تو قتل کا الزام میرے سر تھوپنے آئے ہیں۔ وہ روہانسی ہو کر بولی۔ " یہ چوتھا شوہر تھا" فریدی بولا " تم نے جس سے شادی کی سال دو سال میں پیٹ کے مرض میں مر گیا۔ طرہ یہ کہ انہوں نے انشورنس پالیسی لے رکھی تھی۔ شک تو تم پر ہی جائے گا" ۔ " آپ بھول رہے ہیں کرنل صاحب۔ " میری بولی میرے پاس ڈاکٹروں کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہے۔ وجہ موت بے پناہ دست وقے" " یہی تحقیق کرنی ہے۔ سب کو ایک جیسے مرض کیوں لاحق ہوئے" فریدی نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔ " تو کرلیجئے گرفتار۔ وہ پھیکی کی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ " کورٹ میں ثابت کر پائیں گے"؟ " ہم پھر ملیں گے" فریدی نے ہاتھ ملایا اور واپس چل دیا۔ فریدی اس پیچیدہ کیس پر کام کر رہا تھا۔
میری کاٹن ملک کے مختلف شہروں میں رہی کروڑ پتیوں سے شادی کرتی۔ بلا کی خوبصورت تھی مرد بہت جلد اس کی طرف مائل ہو جاتے تھے۔ ہر شوہر پیٹ کے امراض میں مرا۔ لائف انشورنس والوں نے تحقیق بھی کی تھی، کوئی السر، کوئی ہیضہ، کوئی دست قہے کی وجہ سے مرا۔ پوسٹ مارٹم میں بھی کوئی ایسی رپورٹ نہ آئی تھی جو شک کے دائرے میں آتی۔ مگر فریدی زہروں کا ماہر تھا وہ جانتا تھا انہیں زہر دیا جا رہا تھا۔ جو چند گھنٹوں بعد اپنا نشان کھو دیتا ہے۔ ابھی تک کوئی کلیؤ ہاتھ نہ آیا تھا اس چوتھے شوہر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی نارمل آئی تھی۔ میری کاٹن ایک جہاندیدہ، دلیر اور ڈھیٹ عورت تھی۔ عمر تیس اور چالیس کے درمیان تھی۔
ایک دن فریدی کے واٹس ایپ پر میری کاٹن کی شادی کا دعوت نامہ آیا۔ فریدی مسکرایا" تو وہ پانچویں شادی کر رہی ہے۔؟ مشہور انڈسڑیلسٹ جاوید ہمدانی کے ساتھ۔ یہ میرے لیے چیلنج ہے۔ او - کے میڈم۔ " اسے صرف لندن سے ایک ٹیسٹ رپورٹ کا انتظار تھا۔
شادی کی تقریب تھی۔ ہال مہمانوں سے پر تھا۔ آرکسٹرا فلمی دھن بجا رہا تھا۔ فلور پر کئی جوڑے تھرک رہے تھے۔ ایک طرف بوفے طرز کے کھانوں کا اسٹال لگا تھا۔ دوسری سمت میں مہنگے مشروبات اور عمدہ شراب کی بار تھی۔ ہال میں سریلے قہقہے گونج رہے تھے۔ ایک طرف اسٹیج تھا جو نور میں نہایا ہوا تھا۔ کرتب باز اپنے کرتب دکھا کر ناظرین کو محظوظ کررہے تھے۔ اچانک ایک دراز قد اور کٹریل جوان جس کے چہرے سے جلال ٹپک رہا تھا ہاتھوں میں ایک پینٹنگ لٹکائے اسٹیج پر نمودار ہوا۔ مائک ہاتھ میں لے کر بولا " لیڈیز اینڈ جنٹل مین۔ مجھے افسوس ہے تفریحات میں دخل انداز ہونا پڑا۔ " " کرنل فریدی" میری کاٹن حیرت سے چلائی۔ تم نے میرے گھر چوری کی کرنل فریدی۔ یہ میری نادر پینٹنگ ہے۔ ڈرائینگ روم میں لگی تھی۔
" شکر ہے تم نے قبول کیا۔ " سارے ناظرین ہکا بکا یہ مکالمے سن رہے تھے۔ فریدی مسکرا رہا تھا۔ "اور یہ وہ تازہ رپورٹ ہے جسے لندن سے منگوائی ہے" فریدی نے ایک لفافہ ہوا میں لہرایا۔ میں نے اس پینٹنگ کے رنگ کو تھوڑا سا کھرچ کر اس کا سیمپل لندن کی لیب میں بھیجا تھا۔ یہ اس دن کی بات ہے جب میں تم سے تمہارے گھر ملا تھا۔ میری ناخنوں میں چند ذرات آ گئے تھے۔ تمہیں معلوم بھی نہیں پڑھا تھا"۔ " تم مکار اور جھوٹے ہو۔ " میری چلائی وہ عروس جوڑے میں ملبوس تھی فریدی پر جھپٹنا چاہتی تھی مگر زمین پر عروسی جوڑے کے دامن اسے دوڑتے پر مانع آ رہے تھے۔ " کوئی بھلا رنگ سے مرتا ہے؟ " جواب میں فریدی مسکرانے لگا۔ " تم نے یہ قبول کیا کہ پینٹنگ تمہاری ہے اس کے کلر میں سنکھیا نامی زہر ملا ہے جس میں نہ کوئی ذائقہ، نہ بو نہ رنگ ہوتا ہے۔ چند گھنٹوں میں اس کے اثرات زائل ہو جاتے ہیں۔ اسے آسانی سے کھانے پینے کی چیزوں میں ملایا جا سکتا ہے۔ اس کا شکار دست وقے پنجیس کا شکار ہو جاتا ہے۔
آنتیں ڈیمیج ہوجاتی ہیں۔ " پھر میں کیا کرتی۔ بچپن سے ہی بھوک کا سامنا رہا۔ فاقوں پہ فاتے ہوتے تھے۔ بھیک بھی نہیں ملتی تھی۔ کم سنی میں یتیم خانے کا منہ دیکھا۔ گوگل سے ذہروں کی معلومات حاصل کی۔ میں مالدار بننا چاہتی تھی۔ خوب پیٹ بھر کے کھانا چاہتی تھی۔ ایک جنون تھا روپیہ کمانے کا۔ میں نے ہر قیمت پر مال کمائے گناہ ثواب سوچے بنا۔ سزائے موت دوں گے نا۔ اور کیا ہو سکتا ہے اس کے علاوہ؟ جھول جاؤں گی پھانسی کے تخت پر۔ میری کائن کی کہانی ختم۔ کرنل فریدی چوبیس گھنٹے کسی تیمم خانے میں رہ کر بتاؤ۔ تم ہارڈ اسٹون کہلاتے ہونا؟ نکل جائے گی ساری جاسوسی" ہال میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ میری کاٹن پاگلوں کی طرح قہقہے لگا رہی تھی۔ فریدی موبائل پر کوتوالی فون کررہا تھا۔



