کھام گاؤں:29/نومبر (واثق نوید) سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی کی قیادت میں مولانا آزاد وچار منچ کے ایک وفد نے مہاراشٹر کے گورنر، محترم رمیش بائیس سے ملاقات کی اور یادداشت پیش کیا، جس میں مسلمانون کی تعلیم، ریزرویشن، اور تحفظ کے مسائل پر بات چیت کی گئی۔ اس میٹنگ کے دوران، سابق رکن پارلیمان حسین دلوائی نے مسلمانوں کو انصاف اور مساوات کی فراہمی میں امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا، حالانکہ بھارتی آئین کو نافذ ہوئے 74 سال گزر چکے ہیں۔
حسین دلوائی نے تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مسلمانوں کی صورتحال کی طرف اشارہ کیا، مسلمانوں کی سرکاری اور نجی ملازمتوں میں کم نمائندگی اور ریزرویشن کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے گوپال سنگھ کمیشن، سچر کمیٹی، رنگناتھ مشرا کمیشن، اور ڈاکٹر محمود الرحمان کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیکر اسکے نفاذ پر زور دیا۔
وفد نے کئی مطالبات پر بات کی، جن میں 15 نکاتی پروگرام کا مؤثر نفاذ، مولانا آزاد ریسرچ اور ٹریننگ سینٹرز کا بارٹی-مہاجیوتی کے طرز پر مسلم کمیونٹی کے لیے قیام، تعلیم میں اسکالرشپس کی فراہمی، ریاستی بجٹ میں آبادی کے تناسب سے بجٹ کا الاٹمنٹ، ضلعی سطح پر ہاسٹلز کا قیام، وقف جائیدادوں کا مسلم تعلیم کے لیے استعمال، مسلم او بی سی ذاتوں کی ذات بنیاد پر مردم شماری میں علیحدہ شماریات، اور ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے سروے میں مسلم کمیونٹی کی شمولیت۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مسلمانوں کے خلاف عوامی تشدد اور فسادات کے خلاف اقدامات، متاثرین کی بحالی اور مالی مدد، اور متاثرہ خاندانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر مولانا آزاد وچار منچ کے نائب صدر حسیب نداف، نائب صدر عینل عطار، مسلم ریزرویشن سنگھرش کمیٹی کے صدر عزیز پٹھان، ڈویژنل صدر ڈاکٹر دانش لامبے، ممبئی کے صدر فیض اللہ خان، مسلم ریزرویشن فرنٹ کے ارکان اجمل خان، مزمل خان، شکیل صدیقی، جنرل سیکریٹری خلیل سیّد، محمد ایوب شیخ عرف بابو جمعدار، رفیق صابر، اختر شیخ، اور سیف ہاشمی نے شرکت کی۔






