کیسے میں کہوں تم سے نیا سال مبارک
خوش ہو کے کہوں کیسے کہ یہ حال مبارک
بے ڈھنگی سی رفتار، وہی چال مبارک
منظور ہو پھر بھی تو نیا سال مبارک
تم کو میرے ہم وطنو، نیا سال مبارک
نفرت جو میرے ملک کو پھر چاٹ رہی ہے
پانی کے ذخیروں کو بھی جو پاٹ رہی ہے
جس پیڑ پہ بیٹھی ہے، اسے کاٹ رہی ہے
اس پیڑ کی تم کو بھی ہر اک ڈال مبارک
تم کو میرے ہم وطنو، نیا سال مبارک
جو کچھ بھی ہوا اپنا وہی حال مبارک
جو ملک سے باہر گیا وہ مال مبارک
مظلوموں کے خوں سے ہے َزمیں لال، مبارک
پھینکے ہے شکاری جو نیا جال، مبارک
تم کو میرے ہم وطنو، نیا سال مبارک
جس وقت کو آنا ہے وہ آکر ہی رہے گا
امید تو رکھتے ہیں کہ بہتر ہی رہے گا
جو کچھ بھی ہوا حد کے وہ اندر ہی رہے گا
یہ خام خیالی بھی بہرحال مبارک
تم کو میرے ہم وطنو، نیا سال مبارک
