شہر مالیگاؤں لکھنؤ کے بانکوں کی طرز کا مسکن ہے اس کا احساس ہمیں تو ہو ہی نہیں سکتا البتہ جب کوئی بیرون شہر کا شخص ہمیں اپنی گوناگوں خوبیوں کا احساس نہ کرادے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرون مالیگاؤں کا کوئی بھی شخص جب مالیگاؤں کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر ہوجاتا ہے تو وہ اس کے طلسم سے باہر مشکل ہی آتا ہے۔ آج ہم سلام بن رزاق کو مالیگاؤں کی رفاقت کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ذہن کا کینوس ہمیں ماضی قریب میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔
اہلیانِ مالیگاؤں کے روابط ویسے تو پورے ملک میں استوار نظر آتے ہیں لیکن جب ہم فن کاروں اور قلم کاروں کے زاویئے سے جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں دو گروپ نظر آتے ہیں ایک وہ جو مالیگاؤں کا گرویدہ کہلاتا ہے دوسرا وہ جو محنت کشوں کی اس بستی کے محنت کش فن کاروں کی صلاحیت کو دیکھ کر ایک طرح سے احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنے آپ وہ مالیگاؤں سے ایک طرح سے پرخاش رکھنے لگتا ہے۔ حالاں کہ اس کا اظہار کھلے طور پر نہیں ہوتا بلکہ جب کبھی کوئی علمی بحث یا کسی علمی شخصیت کے تعلق سے بحث کی جاتی ہے تو اس وقت یہ گروپ واضح طور پر مترشح ہوجاتا ہے۔
ماضی قریب میں انجم رومانی، ساجد رشید، م ناگ اور اس میں سلام بن رزاق کو بھی شامل کرلیں تو یہ وہ شخصیات ہیں جو مالیگاؤں کی والہانہ و برادرانہ رمق سے بدرجۂ اتم شناسا تھے اور ان حضرات کا شہر میں ایک بڑا حلقۂ رفاقت تھا۔ یہاں ہم بزرگ محترم ہارون بی اے صاحب کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ آپ ہی کی بدولت یہ نابغۂ روزگار شخصیات مالیگاؤں میں متعارف ہوئیں اور اس کے بعد تادمِ آخر ان کا رشتہ اور اہلیانِ شہر کے اہلیان علم و دانش سے برقرار رہا۔ اس مختصر وقت میں ایک ایک شخصیت کے شہر سے تعلق کی تشریح و تفسیر بیان کریں تو اس کے لئے وقت کے ہمراہ ایک دفتر درکار ہوگا اس لیے ہم جناب سلام بن رزاق پر ہی اپنے آپ کو فوکس کرتے ہیں۔ ویسے راقم الحروف کی متعدد ملاقاتیں مرحوم و موصوف سے رہی ہیں۔ چوں کہ بہ غرض ملازمت پنویل میرا وطن ثانی ہے اور سلام بن رزاق کی پیدائش اور آبائی وطن پنویل ہی ہے۔
اس لیے جب بھی ملاقات ہوتی اپنی پنویل کی یادوں کو وہ تازہ کرتے چوں کہ خاکسار کا تعلق مالیگاؤں سے ہونے کے سبب سلام بن رزاق اپنے جذبات کا اظہار بے ساختگی کے ساتھ کرتے۔
ویسے نئے قلم کاروں کی معلومات کے لیے چند معروضات پیش کرنا ضروری ہے جس سے ان کی مالیگاؤں سے انسیت و تعلق خاطر کو سمجھنے میں سہولت ہوگی۔
محترم ہارون بی اے صاحب اور جناب احمد عثمانی صاحب مرحوم کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ ممبئی عظمیٰ کے اردو کے ادباء و شعراء سے خاص مراسم رکھتے تھے ان کی فہرست کافی طویل تھی لیکن اس میں سلام بن رزاق کا نام سرفہرست تھا۔ سلام بن رزاق اور احمد عثمانی صاحب کے تعلقات کس قدر گہرے تھے اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ جب ان دونوں فن کاروں کی نئی کاوش قرطاس پر ابھر کر آئی تو وہ ایک دوسرے کو نظر ثانی کے لیے پیش کرتے۔
اس بات سے سلام بن رزاق کی مالیگاؤں دوستی بھی بخوبی اُجاگر ہوتی ہے۔ حالاں کہ سلام بن رزاق کے ادبی اثاثے میں مراٹھی کے تراجم زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود ان کی ادبی افاقیت سے یکسر انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے وہ بہت سادہ شخصیت کے مالک تھے۔ تعارف کے بعد ہی لوگ جان پاتے کہ یہ سلام بن رزاق ہیں۔ بالکل سادہ اور عام سی شخصیت کے حامل لیکن جب علمی گفتگو کرتے تو ان کے جوہر کھلتے اور یہاں بھی وہ مالیگاؤں کے ادبی فضا اور ادب نوازی کا تذکرہ کئے بغیر اپنی بات مکمل نہیں کرتے تھے۔
ایسی شخصیت کا اُٹھ کر جانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم نے تو کیا پورے شہر نے اپنا ایک سفیر کھو دیا ہے جو ہمار امونس و دمساز تھا۔ ہمیں نہیں پتہ کہ آج شہر کے فن کاروں کا بیرون کے قلم کاروں سے کس نہج کا رابطہ ہے لیکن سلام بن رزاق کا مالیگاؤں سے رشتہ والہانہ، برادرانہ اور نیاز مندانہ تھا اور اسی تعلق کے چلتے آج میں خاص طور پر اس بات کا احساس ہو رہا ہے جسے میں نے اپنے کشکول کے آخری دانے بھی ہاتھ دھو لیا ہے۔ ؎
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

