عقیل خان بیاولی کی خصوصی رپورٹ۔
شہر کا نام تو جل گاؤں ہے مگر یہاں جل کی قلت اور تپش کی فراوانی ہمیشہ رہی ہے۔ سال رواں نے گزشتہ آٹھ دہائیوں کی تپش کا ریکارڈ پگھال کر نیا ریکارڈ مرتب کیا ہے ماہ رواں کی اوسط تپش ٤٨ درجہ کو تجاوز کرجانے کی بات محکمہ موسمیات نے کی ہے اس جلتی گرمی میں گزشتہ ٤٨گھنٹوں میں ناتواں لاوارثین فٹ پاتھ و چوراہوں پر گھومنے پھرنے رہنے بسنے والے ٣٥ تا ٧٥ سال کی عمر والے لوگ اس تپش کی تاب نہ لاکر لقمہ اجل بن گۓ ان ٨ میں سے ٤ کی شناخت کرنے میں انتظامیہ و فعال سماجی تنظیمیں کامیاب ہوگئیں ہیں ماندہ ٥ کی آخری رسومات کی ادائیگی شہر کے سماجی خدمت گار اسحاق عبدالحمید باغبان کے ذمہ ہے موصوف گزشتہ ٢٥ برسوں سے لاوارث لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اگر ذیادہ کام ہو تو وہ اپنے لڑکوں کی مدد بھی لے لیتے ہیں تاکہ کام وقت پر ہوجائے آج انہون نے بتاتے ہوۓ شہر کارپوریشن اور سماجی فلاحی اداروں تنطیموں سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ اب لاوارثین لاشوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لۓ جگہ کم پڑ رہی ہے ساتھ ہی جب تک لاش کی قانونی چارہ جوئی مکمل نہیں ہوجاتی تب تک کارپوریشن تحفظی دستہ یعنی گارڈز فراہم کرے مگر کارپوریشن تعاون نہیں کرتی ۔
شدید گرمی سردی بارش میں راستوں پر رہنے والے کمزور بیمار لوگوں کو کھانا پانی اور دیگر سہولتیں فراہم کرے کی اپیل و مطالبہ کیا ہے ۔ان اموات سے متعلق گورنمنٹ میڈیکل کالج جلگاؤں کے ڈاکٹر گریش ٹھاکر نے کہاکہ مہلکن لو لگنے یا تپش سے نہیں دوسرے أمراض اور کمزوری کی وجہ سے فوت ہوےہیں جن میں پرانا مرض اور کمزوری اہم سبب ہے۔
