بعد از خرابئ بسیار میونسپل انتظامیہ خواب خرگوش سے بیدار ہوا اور سینڈوے پل کو مسمار کرکے بلند و کشادہ نۓ پل کی تعمیر کی گئ اور غالباً آنے والے یوم آزادی کو اس کا افتتاح عمل میں آنے کی امید ہے ۔ مگر صاحبو پل کی نئ تعمیر کا تو مقصد ہی فوت ہوگیا ۔ پرانے پل ہی کی طرح نۓ پل کے سروں پر بھی سواریوں کیلۓ رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں ۔ انتظامیہ کو سواریوں کیلۓ پل کو کھولنا نہیں تھا اور صرف پیدل چلنے والوں کیلۓ مختص کرنا تھا تو اسے توڑ کر ازسرنو تعمیر ہی نہیں کرنا چاہئے تھا نیز اس فنڈ کا استعمال باغ محمود کے باشندوں کی آمدورفت کیلۓ "مولانا نعمانی پل" کی تعمیر کیلۓ صرف کرنا چاہئے تھا ۔ پیدل شہریان کیلۓ پرانا سینڈوے پل کافی تھا جو درجنوں سیلاب جھیلنے کے بعد بھی اسی شان سے کھڑا تھا ۔
مذکورہ پل کے علاقے کے سابق کاربوریٹر کلیم دلاور ، میونسپل کمشنر صاحب، ایم ایل اے صاحب اور دیگر قائدین شہر سے ناچیز اور شہریان مالیگاؤں کی درخواست ہیکہ پل کے دونوں سروں پر لگائ گئ رکاوٹوں اور بیریکیڈنگ کو ہٹا کر پل کو سواریوں کیلۓ جاری کرنے کی کوشش کی جاۓ تاکہ رام سیتو پل اور امبیڈکر پل کے ٹریفک لوڈ کو کم کیا جاسکے ۔ پل کے ٹریفک کیلۓ جاری ہونے سے قدوائی روڈ، ذاکر حسین روڈ اور جامع مسجد و گڑ بازار کے ہجوم کو کنٹرول کیا جا سکے گا ۔ محمد علی روڈ سے سمکسیر کی سمت جانے والی سواریاں نیز مغربی مالیگاؤں سمکسیر کی سمت سے اندرون شہر آنے والی سواریاں دائیں بائیں نہ مڑتے ہوۓ براہ راست نۓ تعمیر شدہ پل سے گزر جائیں گی ۔
مذکورہ بالا ذمہ داران سے گزارش ہیکہ دیرینہ مطالبے کو مد نظر رکھتے ہوۓ محمد علی روڈ پر پل کے واقع ہونے کی نسبت سے نۓ تعمیر شدہ پل کو " محمد علی جوہر پل " کا نام دینے کی سمت اقدامات اٹھائے جائیں ویسے بھی آجکل انگریزوں اور مغلوں کے دئے گۓ ناموں کی تبدیلی کی ہوڑ لگی ہوئی ہے اور مولانا محمد علی جوہر کا شمار تو صف اول کے مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے ۔ لندن کی گول میز کانفرنس میں انہوں نے تاریخی تقریر کی تھی اور ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہوۓ کہا تھا کہ وہ یہیں مر جانا پسند کریں گے لیکن غلام ملک میں واپس جانا گوارا نہیں کریں گے اور ٹھیک ایسا ہی ہوا وطن واپس ہونے سے قبل ہی انہیں ملک الموت نے آن لیا اور وہ انبیاء کی سرزمین و قبلہ اول بیت المقدس کی خاک میں دفن ہوۓ ۔


.jpg)