سوشل میڈیا کہ اس دور میں نئی ٹیکنالوجی نے جنم تو لے لیا ہے مگر شرم و حیاء کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے.سوشل میڈیا سے لوگوں کو انفارمیشن بہت اسانی سے دستیاب ہوجاتی ہے لیکن اس کے نقصان کا اندازہ نہ آج ہمیں ہے نہ ہمارے نام و نہاد مہذب سماج کو نہ ان بے فکر والدین کو جن کے جگر گوشے اپنا سارا وقت سوشل میڈیا پر صرف کررہے ہیں. سوشل میڈیا کو سماج و معاشرہ کے لئے خدمت خلق کا پلیٹ فارم بنانے کی بجائے ہم نے اسے پیسے کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے.
حیرت کی بات جن علمائے کرام, مدرسین, شعراء و ادباء اور سیاست دانوں کو اس طوفان بلا خیز کو روکنے کا کارنامہ انجام دینا تھا افسوس وہ عظیم المرتبت شخصیات بھی اس خرافات کا حصہ بن کر یوٹیوب سے آمدنی کرنے میں شب و روز مشغول ہیں. آج ملت کے نوجوانوں میں موبائل استعمال کرنے کا جنون سرایت کر گیا ہے. ہمارے نوجوان موبائل پر ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں جو یہاں ناقابل بیان ہیں.
آن لائن گیم سے آج نوجوان نسل تباہ و برباد ہو رہی ہے. کوئی لاٹری میں اپنی قسمت آزماتا ہے، تا کہ اپنے دیکھے ہوئے سپنوں کو، جن میں وہ سیٹھ اور لکھ پتی بن جائے کوئی مختلف پروگراموں میں حصہ لے کر کروڑ پتی بننا چاہتا ہے۔ کروڑ پتی تو ہر ایک نہیں بنتا، ہاں مگر مرد، پتی پرمیشور کے سنگھاسن پر ضرور بیٹھ جاتے ہیں۔لوگوں کو لگتا ہے امیر بننے کا سب سے اسان طریقہ یہی ہے جبکہ یہ ایک ایسی بری لت ہے جو لوگوں کو تباہ و برباد کر رہی ہے اپنی قسمت ازمانے کے ساتھ ساتھ یہ اپنی پراپرٹی بھی بیچ دیتے ہیں کہ شاید ہم امیر ہو جائیں اس گیم کے ذریعے حتی کہ ایسا تو ہوتا نہیں ہے پر لوگ بار بار پیسے لگا کر اپنی قسمت کو ازما رہے ہیں انہیں لگتا ہے یہ شارٹ کٹ ذریعہ ہے پیسے کمانے کا۔
چوری، اسمگلنگ اور اس قبیل کی دیگر واردات کو انجام دینے سے بھی ایسے بشر گریز نہیں کرتے۔ تیز رفتاری سے امیر بننے کے لیے پہلے سٹے کا سہارا لیا جاتا تھا، اب یہ ذمہ داری ڈریم ایلون نامی اپلیکیشن نے اٹھائی ہے۔ اس اپلیکیشن نے سٹے کو مباح کا لبادہ پہنایا ہے۔ اس کے ذریعے ہر عمر کا فرد گھر بیٹھے دو ٹیموں میں سے اپنی ایک ٹیم کا انتخاب کر کے زر جتنے اور مدت قلیل میں امیر بننے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ جیتنے کے شوق میں کام کاج سے منہ موڑ لیتا ہے.اس اپلیکیشن کے ساتھ مصروف رہ کر جیتنے کی آرزو میں اپنے پیسے، وقت اور دماغ لگا دیتا ہے۔
ہر وقت اسی میں کھویا رہتا ہے۔ بار بار اپنی پوزیشن کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ خود کو جیت کی طرف بڑھتا دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتا ہے اور ہار کا ہار اپنے گلے میں دیکھ کر کبیدہ خاطر ہو جاتا ہے۔ ہر دن امید کا ہاتھ پکڑ کر اسی خیال سے ٹیم کا انتخاب کرتا ہے کہ کبھی نہ کبھی سوئی ہوئی قسمت جاگ جائے گی اور وہ جیت جائے گا۔ ہر روز کوشش کرتا رہتا ہے تا کہ وہ سپنے پورے ہوں، جو ابھی تک ادھورے رہے ہیں۔
جب زندہ قوموں پر زوال آتا ہے تو وہ یوں خرافات میں کھو جاتی ہے کہ انھیں نہ تو آغاز کی کوئی پرواہ ہوتی نے ہی انجام کی. آج ملت کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں وہ جادوئی ڈبہ آن لائن پڑھائی کے نام پر یوں تھما دیا گیا ہے کہ وہ حواس باختہ اسی میں یوں سرگرم عمل ہیں کہ کب دن نکلا کب رات ہوئی کچھ پتہ ہی نہیں چلتا. لہو لعاب میں ڈوبا دینے والا یہ جادوئی ڈبہ جب اپنی تابکار شعائیں بکھیرتا ہے تو نہ صرف سماعتوں سے محروم کر جاتا ہے بلکہ بصارتیں بھی مفقود ہوجاتی ہیں.
اسمارٹ فون نامی یہ جادوئی ڈبہ طلسمات کی وہ عجیب و غریب بھول بھلیاں ہے جس کا راہی اس سے باہر نکلنا بھی چاہے تو نہ نکل پائے. اسی کی وجہ سے آج ملت کے نوجوانوں میں یاس کے جھومر لٹک رہے ہیں. اس اسمارٹ فون نے ملت ید بیضا کو اپاہج بنا کر رکھ دیا ہے. سرد موسم میں ملت کے یہ شہسوار گرم لحاف اوڑھے عصمت چغتائی کے گرم لحاف کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتے ہیں. یہودیت کی مرضی و منشاء یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو جدید ترین مواصلاتی نظام سے اس طرح آشنا کیا جائے کہ وہ اس کی غلامی پر مجبور ہو جائیں.ملت اسلامیہ کو اپنا مجبور بنا دینے والی اس وادئی خرافات کا ناظم اعلیٰ ایسا شیطان ہوا کرتا ہے جو ہمیشہ ہی ہاتھ باندھے یہ کہتا نظر آتا ہے کہ کیا حکم ہے میرے آقا. یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قوم کے ان بچوں کو موبائل سے بچائے گا. ان مستقبل کون تابناک کرے گا. کوئی ہے جو آگے آ کر ان سے ان مستقبل پر سوال کرے. ؟
Khan Habiba
@highlight
