کھام گاؤں (واثق نوید) مہاراشٹرا کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے کو جلگاؤں جامود کے مسلمانوں کی جانب سے حال ہی میں پیش کیے گئے میمورنڈم میں، کولہاپور کے وشالگڑھ اور گازاپور میں ہوئے تشدد کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ میمورنڈم جلگاؤں جامود پولیس اسٹیشن انچارج کے ذریعے وزیر اعلیٰ مہاراشٹر کو دیا گیا ہے ، جس میں مسلمانوں اور مسجدوں پر ہوئے حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ اس میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ تجاوزات ہٹانے کے نام پر کئی شرپسندوں نے چھترپتی سنبھاجی راجے کی قیادت میں بغیر کسی اجازت کے مارچ نکالا تھا۔ اس مارچ کے دوران مسلم سماج پر دل دہلا دینے والے حملے کیے گئے ہیں۔
کولہاپور میں مارچ نکلنے سے پہلے، مقامی مسلم سماج نے انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے، اس لیے انہیں سیکورٹی فراہم کی جائے۔ تاہم، انتظامیہ نے اس درخواست کو نظر انداز کیا اور مناسب سیکورٹی فراہم نہیں کی۔ نتیجتاً، مارچ میں شامل شر پسند نوجوانوں نے مسلم سماج پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں مسجد، درگاہ، موٹرسائیکل، گاڑیوں اور گھروں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا اور بچوں اور خواتین کو پیٹا گیا۔
میمورنڈم میں مارچ میں شامل تمام غنڈوں کے غیر انسانی رویے کی مذمت کرتے ہوئے چھترپتی سنبھاجی راجے اور شر ہسند غنڈوں پر فوری اور سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔
شرپسندوں پر سخت کارروائی کی جائے اور مسلم سماج کو انصاف دلایا جائے، ایسا مطالبہ جلگاؤں جامود مسلم سماج کی طرف سے کیا گیا ہے۔ مقامی پولس اسٹیشن انچارج کے معرفتِ وزیر اعلیٰ کو روانہ کئے گئے میمورنڈم پر عبدالکریم (بابو جمعدار)، ڈاکٹر شاکر خان، شیخ ظہیر، عرفان شیٹی، شعیب مسرت، شاکر خان میڈیکل، سمیر آرئن، ایم ڈی۔ صابر، سید افروز، افسر خان، سید حسین،
محمد نعیم، اکبر شاہ، ارباز خان ، ڈاکٹر تنویرریحان احمد، اعجاز خان، اور دیگر شخصیا ت کی دستخط موجود ہیں -

.jpg)