کھام گاؤں (واثق نوید) گذشتہ دنوں ایک خود ساختہ مذہبی رہنما ، ملعون رام گیری مہاراج نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر نازیبا کلمات کہے کر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کیا تھا ۔ جس سے عالم اسلام کے مسلمانوں میں بے چینی پائی جارہی ہے ۔
بالخصوص مہاراشٹر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ مہاراشٹر میں اس گستاخ کے خلاف کئی شہروں میں گناہ درج کیا گیا ۔ سیکڑوں جگہ احتجاجی میمورنڈم دیکر مذمت کی گئی ۔ لیکن آج تک اس شیطان کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔ کھام گاؤں شہر اور اطراف کے دیہاتوں میں مختلف تنظیموں اور نمائندوں کی جانب سے متعلقہ افسران کو میمورنڈم دیکر کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔
حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ اس بات کو محسوس کرتے ہوئے کھام گاؤں شہر کی معتبر اور فعال تنظیم کل جماعتی تنظیم نے اس ملعون کے گرفتاری کے لیے کھام گاؤں بند کا اعلان کیا تھا ۔ جس کی رو سے جمعہ 23 اگست کو فجر سے دوپہر 3 بجے تک مسلمانوں نے اپنا مکمل کاروبار بند رکھ کر اپنا احتجاج درج کروایا ۔ مسلم محلوں اور مین مارکیٹ میں مسلمانوں کے تمام کاروبار بند دیکھائی دیئے ۔ سبزی ، کرانہ ، گوشت ، کپڑے ،فروٹ، آٹو ، گیریج الغرض مسلمانوں کے چھوٹے بڑے تمام کاروبار صد فیصد بند تھے خاص بات یہ رہی کہ عوام نے خود سے بند رکھا ۔کل جماعتی تنظیم نے صرف شوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا ۔ دو پہر 3 بجے کل جماعتی تنظیم اور عمائدین شہر کے ایک وفد نے مقامی ایس ڈی او کو میمورنڈم دیکر مطالبہ کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی مسلمان کیسی بھی حال میں برداشت نہیں کرسکتے ۔ ہماری جان مال اولاد اور والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان لہذا مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ملعون رامگیری مہاراج کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت کارروائی کی جائے ۔



