کھام گاؤں (واثق نوید) ریاست مہاراشٹر میں اقلیتوں کی پسماندگی کو دور کرنے اور ان کی مجموعی ترقی کے لیے بارتی خطوط پر مارتی کے لیے کابینہ کی منظوری ریاستی کابینہ نے اقلیتی تحقیق اور تربیتی انسٹی ٹیوٹ یعنی 'ایم آر ٹی آئی' قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اقلیتیں تیز رفتاری سے کام کریں گی۔
ریاست مہاراشٹر میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کمیونٹی لیڈر سابق راجیہ سبھا میمبرحسین دلوائی کی مسلسل کوشیش اور نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ اجیت پوار مسلسل کوششیں کر رہے تھے۔
بجٹ میں مولانا آزاد اقلیتی اقتصادی ترقی کارپوریشن کی جانب سے نافذ کردہ اسکیموں کے لیے قرضوں پر حکومتی ضمانت کی حد کو 30 کروڑ سے بڑھا کر 500 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ بجٹ میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لیے 2024-25 سے غیر ملکی تعلیم کے لیے اسکالرشپ اسکیم متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
قبل ازیں اس سال کابینہ کی میٹنگ میں ضلع سطح پر اقلیتی کمشنریٹ کے ساتھ ساتھ اقلیتی سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اب اقلیتی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ 'ایم آر ٹی آئی' قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے
مولانا آزاد اقلیتی اقتصادی ترقی کارپوریشن کو ریاستی حکومت سے شیئر کیپیٹل کی شکل میں ملنے والے فنڈز سے مسلم اقلیتی برادری کے افراد کی پسماندگی کا مطالعہ کرنے اور ان کی ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے کے لیے آزاد تعلیمی قرضہ اسکیم کو مدت کے ساتھ ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔
لون اسکیم، مائیکرو کریڈٹ اسکیم اور ڈاکٹر اے پی جی عبدالکلام ایجوکیشن اسکیم لون اسکیم کو نیشنل مینارٹی ڈیولپمنٹ اینڈ فائنانس کارپوریشن نئی دہلی سے قرض کی شکل میں حاصل ہونے والی رقم سے لاگو کیا جارہا ہے، چونکہ اسکیم کے تحت نئی درخواستیں قبول کی جارہی ہیں۔
21 ستمبر سے 5 اکتوبر تک مولانا آزاد اقلیتی اقتصادی ترقی کارپوریشن کے ضلع دفتر میں ٹرم لون اسکیم اور مائیکرو کریڈٹ اسکیم کے تحت درخواستیں قبول کی جارہی ہیں۔ مولانا آزاد وچار منچ ضلع صدر حاجی مزمل علی خان نے ضلع دفتر سے رابطہ قائم کرنے اور اپنی درخواستیں جمع کروا کے لیے عوام سے اپیل کی ہے۔
