شہر مالیگاؤں میں یوں تو بے شمار مکاتب و مدارسِ دینیہ موجود ہیں لیکن بہت کم مدراس و مکاتب ایسے ہیں جو اپنی سرگرمیوں اور کارکردگیوں سے سرپرست حضرات کی توجہ اپنی جانب راغب کروا لیتے ہیں اور سرپرست حضرات اپنے بچوں کے روشن و تابناک مستقبل کو محسوس کرتے ہوئے انھیں اس ادارے کے سپرد کرکے اطمینان و سکون حاصل کرتے ہیں....... انہی مدارس میں ایک مدرسہ مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ بھی ہے جو بہت ہی مختصر سے عرصہ میں اپنی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے پیشِ نظر شہر بھر میں اپنا مقام بنا چکا ہے ۔
مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ کی انہی کارکردگیوں کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے دو بیٹوں محمد طہ اور محمد مدثر کا داخلہ اس مدرسہ میں کروایا ۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے بیٹے مومن محمد طہ نے ترتیب وار نوری قاعدہ مع اجراء و قواعد ، پارۂ عمّ اور ناظرہ قرآنِ کریم بالتجويد حافظ تجمل حسین رضوی صاحب اور حافظ عمیر اشرف صاحب کی نگرانی میں محض پانچ مہینے کے انتہائی مختصر سے عرصے میں مکمل کیا ۔ میں اپنی اور اپنی فیملی کی جانب سے مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ کے جملہ اساتذۂ کرام ، ذمہ داران و اراکین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور بارگاہِ صمدیت میں دعا گو ہوں کہ مولیٰ تبارک و تعالیٰ مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ کو مزید عروج و ترقیاں نصیب فرمائے ۔ حاسدین اور شر پسندوں سے محفوظ فرمائے ۔ جملہ نیک مقاصد میں جلد از جلد کامیاب فرمائے ۔ آمين یارب العالمین
نیک خواہشات منجانب : محمد یاسین کلیم احمد و فیملی
