کھام گاؤں (واثق نوید) اساتذہ کسی بھی قوم اور ملک کے لیے قیمتی اور بیش قیمت اثاثہ ثابت ہوتے ہیں ۔ ایسے ادارے جہاں اساتذہ کی تربیت کی جاتی ہے، ان کی کارکردگی اور اساتذہ کو ملک کی خدمت کے لیے تیار کرنے میں ان کا رول بہت اہم ہوتا ہے ۔
غلام نبی آزاد اردو ڈی ایڈ کالج، پوسد ضلع ایوت محل، مہاراشٹر کا چالیس سالہ قدیم ادارہ ہے جو مستقبل کے اساتذہ کی تربیت کر کے انہیں سماج کا اہم حصہ بناتا ہے ۔ اس ادارے سے اب تک ہزاروں طلبہ فارغ ہو کر ریاست کے گوشے گوشے میں تعلیم کی شمع روشن کررہے ہیں ۔
گزشتہ دنوں کالج میں معروف شاعر و ادیب اور پرنسپل خان حسنین عاقب کی تحریک پر ایک منفرد نوعیت کے حامل عظیم الشان بینر سازی مقابلے کا انعقاد کیا گیا ۔ یہ مقابلہ کالج کی سطح پر منعقد کیا گیا تھا جس میں کالج کے تمام زیر تربیت اساتذہ نے شرکت کی ۔
اس مقابلے کا تھیم درسی مواد اور نصاب پر مبنی تھا ۔ اس موضوع پر زیر تربیت اساتذہ نے اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے پروجیکٹ تیار کئے ۔
جن طلبہ نے پروجیکٹ تیار کیے ان میں خصوصی طور پر نورین فاطمہ جمیل احمد (تدریس میں علم نفسیات کی اہمیت) صالحہ پروین متین خان پٹھان (تعلیمی قدر پیمائی کی مختلف قسمیں) تسکین صدف محمود خان اور نافعہ سحر محبوب شیخ مشترکہ ماڈل : درس و تدریس میں ماسلو کی تھیوری کی ضرورت)
شینم افراء ظہیر خان (تعلیم کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال) شمائلہ خانم فیروز خان (کلاس روم کے آداب) ہمنا زینب شیخ شکیل (مائکروٹیچنگ) لائبہ فردوس عبدالظفر (انگریزی کی تدریس) شفاء پروین (ماسلو کی تھیوری) ثانیہ فردوس گلزار خان ایڈگر ڈیل کا آموزشی اہرام) مہک صدف عبدالفیروز (کمیونیکیشن کا عمل) ندا پروین عبدالعلیم (کھیل کھیل میں آموزش) ساراعائشہ شیخ رضوان (سعی و خطا کا نظریہ) ثانیہ پروین شیخ عقیل اور ماریہ خانم (مشترکہ: مائیکرو ٹیچنگ کی مہارتیں)
نمیرا افروز شیخ نثار اور مسیرہ انجم سید سلطان (مشترکہ : بچوں کو پڑھنا کیسے سکھائیں) شفاء خانم ارشاد خان (تعلیمی ماڈل کے کلیدی اجزاء) بے بی نور (استثنایی بچوں کی قسمیں) صدف آفرین شیخ میاں (ایجوکیشن اینفوگرافکس) صبا فاطمہ ساجد جاٹو اور انشراح کشف فیروز خان (مشترکہ : ایجوکیشن اینفوگرافکس) شیخ منتظر شیخ ناصر (تدریس کا راست طریقہ) مشفق علی محبوب علی (متنوع ہدایات) شیخ عمر شیخ سرور (تعلیم تبدیلی کا محرک) شہزاد خان، ماریہ صدف شیخ محبوب، سمرن میمن (گرین ہاؤس گیسز) ثانیہ خانم شیخ نصر اللہ، ارم صبا (کمپیوٹر کے اجزاء)
سال دوم :
سحر صدف عمران الحق (حق تعلیم)
راحین فاطمہ ساجد جاٹو (دماغی صحت) الفیہ انعم شیخ آصف میاں (کالج کی تاریخ) جوہی صدف رفیق احمد (تعلیمی منصوبہ بندی) صالحہ فردوس لیاقت خان (تعلیم میں الیکٹرانک وسائل کی ضرورت) حامد علی اختر علی (شمسی توانائی) شگفتہ پروین اختر علی (آموزش کے طریقے) مدیحہ تزئین محمد نفیس اقبال (تدریس کی اہمیت) محمد مدثر شیخ واحد، انورا فاطمہ زبیر خان (سی ایس آر) شفا فاطمہ (دھیمی آموزش) ماہین ناز شیخ ماجد (زندگی کی مہارتیں) معروف سید سید یوسف (کلاس روم توقعات) محمد شاہ زیب محمد جاوید (مطالعے کی اہمیت)شامل تھے ۔ مقابلے میں تین اول انعامات رکھے گئے تھے ۔ اول انعام برائے بہترین ڈیزائن، اول نام برائے بہترین درسی مواد اور اول انعام برائے بہترین کمیونیکیشن ۔ جن طلباء نے انعامات حاصل کئے انھیں ایک عالیشان تقریب تقسیم انعامات کے دوران انعامات اور سرٹیفکیٹ دئے جائیں گے ۔
اس مقابلے کے ججز میں جی این آزاد کالج آف سوشل ورک پوسد سے پروفیسر ڈاکٹر ماجد خان پٹھان، جی این آزاد اردو ہائی اسکول پوسد سے محمد طارق سر اور معروف شاعر جناب عبدالغفار آتش شامل تھے ۔ تمام منصفین نے نمائش میں بڑی عرق ریزی اور تفصیل کے ساتھ ماڈلز کا معائنہ کیا اور ماڈل تیار کرنے والے متعلمین سے استفسار بھی کیا ۔ بیشتر شرکاء نے نہایت مفصل اور عمدہ انداز میں اپنے اپنے تدریسی ماڈلز کی تشریح کی ۔ یہاں یہ بات واضح کرنا مناسب ہوگا کہ یہ تمام ماڈلز اور بینرز درس و تدریس کے فن اور پیداگوجی کے تھیم پر مبنی تھے ۔
کالج کے پرنسپل خان حسنین عاقب نے بتایا کہ جلد ہی تقسیم انعامات کی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں متعلمین کو انعامات اور سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے ۔ اس مقابلے کے انعقاد میں نثار احمد خان (سپروائزر اور سینئر لیکچرر) مرزا اویس بیگ جلال بیگ (آفس سپرنٹنڈنٹ) اور دیگر عملے نے خصوصی تعاون کیا ۔
