(پریس ریلیز) اساتذہ کی تعلیمی و تدریسی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے ضلع ناشک میں منعقدہ تربیتی پروگرام کا چوتھا اور آخری مرحلہ 8 مارچ کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس تربیتی پروگرام کا مقصد اساتذہ کو جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کرنا اور تعلیمی میدان میں درپیش چیلنجز کا سامنا
کرنے کے لیے انہیں تیار کرنا تھا۔
تربیتی پروگرام کا خلاصہ
یہ تربیتی سلسلہ چار مراحل پر مشتمل تھا جس میں مجموعی طور پر 566 اساتذہ نے شرکت کی۔ ان تمام مراحل میں اساتذہ کو مختلف موضوعات پر تربیت دی گئی تاکہ وہ اپنی تدریسی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا سکیں اور طلبہ کو مؤثر انداز میں علم فراہم کر سکیں۔
ضلع ناشک میں اساتذہ کی تعمیری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے تربیتی پروگرام
تربیتی پروگرام میں تسہیل کاروں نے نہایت عرق ریزی اور محنت کے ساتھ اساتذہ کی رہنمائی کی۔ ہر موضوع کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا گیا تاکہ اساتذہ اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں اور اپنی تدریسی مہارتوں میں بہتری لا سکیں۔
ذیل میں ان موضوعات کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے جن پر ضلعی تسہیل. کاروں نے روشنی ڈالی:
1. عثمانی منصور سر
عثمانی منصور سر نے درج ذیل موضوعات پر گہرائی سے رہنمائی فراہم کی:
الف) پیڈاگوجی (Pedagogy)
پیڈاگوجی تدریس کے فن، سائنس اور عملی حکمتِ عملی پر مشتمل ہے۔ عثمانی منصور سر نے پیڈاگوجی کے جدید اصولوں کو اجاگر کرتے ہوئے درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی:
کس طرح اساتذہ طلبہ کی فطری صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تدریس کو مؤثر بنا سکتے ہیں؟
مختلف ذہنی سطح کے طلبہ کے لیے تدریس میں کون سے طریقے اختیار کیے جائیں؟
طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے عملی سرگرمیوں کا اہتمام کیسے کیا جائے؟
نصاب کو دلچسپ اور مؤثر انداز میں کس طرح پیش کیا جائے؟
ب) اردو زباندانی کی تدریس میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال
اردو زبان کی تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے کردار پر تفصیل سے بات کی گئی۔ عثمانی منصور سر نے اس حوالے سے درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی:
اے آئی کی مدد سے انٹرایکٹو تدریسی مواد کیسے تیار کیا جا
سکتا ہے؟
آن لائن پلیٹ فارمز اور AI پر مبنی سافٹ ویئر کے ذریعے طلبہ کی زبان دانی کو بہتر بنانے کے عملی طریقے۔
اردو زبان میں لغات، تلفظ کی درستی، املا کی تربیت اور تخلیقی تحریر میں مصنوعی ذہانت کے فوائد۔
ج) تشکیلِ علم کا نظریہ
تعلیم میں تشکیلِ علم (Constructivism) کا نظریہ اس تصور پر مبنی ہے کہ طلبہ اپنے سابقہ تجربات اور معلومات کو بنیاد بنا کر نیا علم حاصل کرتے ہیں۔ عثمانی منصور سر نے اس نظریے پر درج ذیل پہلوؤں پر روشنی ڈالی:
طلبہ کو فعال طور پر سیکھنے کے عمل میں شامل کرنے کی حکمتِ عملی۔
گروپ ورک، مباحثہ، عملی مشقیں اور سوال و جواب کے ذریعے علم کی تشکیل کے مؤثر طریقے۔
اساتذہ کو سیکھنے کا ماحول فراہم کرنے کے لیے درکار کردار اور حکمتِ عملی۔
2. طارق اسلم سر
طارق اسلم سر نے درج ذیل موضوعات پر نہایت دلچسپ اور مدلل لیکچر دیا:
الف) افتتاحی کلمات
افتتاحی کلمات میں انہوں نے تربیتی پروگرام کے مقاصد، اس کی اہمیت اور موجودہ تعلیمی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
ب) زباندانی کی تدریس میں ماحول کا اثر
انہوں نے وضاحت کی کہ زبان دانی سکھانے کے لیے تعلیمی ماحول کا کردار کس قدر اہم ہے۔ درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی گئی:
گھریلو اور تعلیمی ماحول کا طالب علم کی زبان سیکھنے پر گہرا اثر۔
زبان سکھانے کے لیے عملی سرگرمیاں، ڈرامہ، مکالمہ اور دیگر سرگرمیوں کا استعمال۔
اردو زبان کو سادہ، دلچسپ اور روزمرہ زندگی سے قریب تر بنانے کے لیے مختلف طریقے۔
ج) زباندانی کے کھیل
طارق اسلم سر نے تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے زبان سکھانے کے مختلف کھیل متعارف کرائے، جن میں شامل تھے:
الفاظ کی ترتیب کے کھیل
لفظی پہیلیاں
جملوں کی تعمیر کے کھیل
تخلیقی کہانی نویسی کے کھیل
یہ سرگرمیاں نہ صرف طلبہ کے لیے دلچسپ بنائی گئیں بلکہ ان سے ان کی زبان دانی کی صلاحیتیں بھی نکھر سکتی ہیں۔
3. قاضی اعجاز الدین سر
قاضی اعجاز الدین سر نے تعلیمی پالیسی اور نصاب سے متعلق درج ذیل موضوعات پر روشنی ڈالی:
الف) ایس سی ایف (SCF)
قومی تعلیمی پالیسی میں درج ایس سی ایف (State Curriculum Framework) کے اصولوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا، جس میں درج ذیل نکات شامل تھے:
نصاب کی منصوبہ بندی میں مقامی ضروریات اور ثقافتی پس منظر کا خیال رکھنا۔
تدریسی مواد کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا۔
ب) این سی ایف (NCF)
قومی نصابِ حکمتِ عملی (National Curriculum Framework) کے حوالے سے درج ذیل امور پر بات ہوئی:
تدریسی طریقوں میں تخلیقی انداز اختیار کرنا۔
اساتذہ کو نصاب میں لچک اور طلبہ کے رجحانات کے مطابق پڑھانے کی حکمتِ عملی اپنانا۔
ج) آموزشی ماحصل (Learning Outcomes)
قاضی اعجاز الدین سر نے واضح کیا کہ تعلیمی مقاصد کو کیسے جانچا جائے اور طلبہ میں سیکھنے کی مہارتوں کو کس طرح فروغ دیا جائے۔
4. نعیم سر
نعیم سر نے زبان و ادب کے حوالے سے درج ذیل اہم موضوعات پر رہنمائی کی:
الف) اصنافِ سخن کی تدریس
اردو ادب کی مختلف اصناف (مثلاً غزل، نظم، رباعی، مرثیہ، افسانہ، ڈرامہ) کو مؤثر انداز میں پڑھانے کے عملی طریقے بیان کیے گئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ:
طلبہ کو ادب کی خوبصورتی اور معنویت سے روشناس کرانے کے لیے قصے، کہانیوں اور عملی مثالوں کا استعمال کیسے کیا جائے۔
اردو ادب کو دلچسپ بنانے کے لیے ڈرامائی انداز اپنانے پر زور دیا۔
ب) سننے کی صلاحیت کا فروغ
سننے کی صلاحیت کسی بھی زبان سیکھنے کے عمل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ نعیم سر نے درج ذیل نکات پر زور دیا:
طلبہ کو کہانی سنانے، مکالمے اور مباحثے جیسی سرگرمیوں میں شامل کرنا۔
طلبہ کو آواز، لہجے اور جذبات کو سمجھنے کے لیے آڈیو مواد اور ویڈیوز کا استعمال۔
سننے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کو مختلف سرگرمیاں متعارف کرانے کا مشورہ دیا۔
یہ تربیتی پروگرام اساتذہ کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا۔ تسہیل کاروں نے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں، تحقیق اور تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے اساتذہ کو جدید تدریسی مہارتوں سے روشناس کرایا۔ اساتذہ نے ان موضوعات کو نہایت مفید قرار دیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اسی نوعیت کے تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ اس تربیتی پروگرام میں اساتذہ نے رمضان المبارک کے باوجود بھرپور شرکت کی اور اپنی تعلیمی خدمات کے لیے غیرمعمولی جذبہ اور لگن کا مظاہرہ کیا۔
اختتامی تقریب انیس سر اسکول نمبر 27 کی صدارت میں منعقد کی گئی جس میں تربیت مکمل کرنے والے تمام اساتذہ کو سرٹیفکیٹ اور روح افزا کی بوتل بطورِ تحفہ پیش کی گئی، جسے اساتذہ نے بہت سراہا۔
تربیت میں شریک اساتذہ نے اس پروگرام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ خصوصی طور پر
محمد علی سر
افضال سر (منماڑ)
طلعت میڈم
نے اپنے تاثرات میں تربیتی پروگرام کے تسہیل کاروں کی بھرپور تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی تربیت اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
یہ تربیتی پروگرام اساتذہ کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا۔ شرکاء نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ اس تربیت میں حاصل کردہ معلومات کو اپنی تدریسی سرگرمیوں میں بروئے کار لائیں گے تاکہ طلبہ کے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اساتذہ کی جانب سے اس کامیاب تربیت پر منتظمین کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا اور اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں بھی اسی نوعیت کے پروگرامز منعقد کیے جائیں تاکہ تعلیمی میدان میں مزید بہتری لائی جا سکے۔





