لمحہ لمحہ سنبھال کر رکھو
زندگی موت کی امانت ہے۔
اس شعر کے خالق مشہور نعت گو شاعر الطاف سلطان پوری کے ہو نہار فرزند جے اے ٹی گرلز ہائی سکول کے سابق معلم محترم حمزہ سر کو اس دارفانی کو الوداع کہے تقریبا ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔
محترم حمزہ سر اپنے والد الطاف سلطان پوری کی گود میں اتر پردیش سے مالیگاؤں آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے ۔
آپ زمانہ طالب علمی میں ایک ہونہار شاگرد رہے۔ فارسی میں گولڈ میڈل حاصل کرنے سے اس زبان میں ان کی دسترس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
موصوف دامن سخن سے بھی وابستہ رہے۔ علامہ وقار حیدری کے سامنے زا نوے تلمذ تہ کیا۔ اور زریاب تخلص اپنایا۔
بعد ازاں آپ جے اے ٹی گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں شعبہ تدریس سے منسلک ہوئے اور طویل عرصے تک انگریزی اور فارسی زبان کی تدریس کے فرائض انجام دئیے ۔میں نے خود دو سال سر سے فارسی زبان کی تعلیم حاصل کی ۔آپ کے بہترین انداز فہمائش کی وجہ سے ایک سال کے قلیل عرصے میں ہی فارسی زبان پر اچھا خاصا اوبور حاصل ہو گیا۔اور یہ سر کا دیا ہوا علم ہی ہے کہ زبان فارسی کی تدریس کا عمل آج بھی جاری ہے۔
اپنے والد کے شعر کے مصداق واقعی اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو سرنے ایسے سنبھالا کہ قابل قدر زندگی گزاری، اپنے علم کو اپنے طلبہ کو تقسم کیا۔ اور ایک مرد مجاہد کی طرح خاتمہ بالخیر کو پہنچے۔
محترم حمزہ سر کے دنیا سے چلے جانے پر ہم نے ایک ایسا جو ہر نایاب کھو دیا۔ جو روز نہیں بلکہ برسوں بعد ہاتھ آتا ہے۔
آپ انتہائی مخلص، وقت کے پابند اور بہت ہی ذمہ دار شخص تھے۔
آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ لغویات اور فضول کاموں سے اپنے آپ کو ہمیشہ دور رکھا۔آپ علم وادب کے خاموش خادم اور آسمان علم و فن کا ایک دمکتا ستارہ تھے۔
بطور شاگرد بہت گہرے مراسم تھے۔ جب بھی ملاقات ہوتی انتہائی سلجھے ہوئے لہجے میں گفتگو فرمایا کرتے تھے۔
اگر سر کی اردو فارسی کانوں میں رس گھولتی تھی تو آپ کی انگریزی زبان پر دسترس نے بہت سارے لوگوں کو بہترین اسپیکر بنا یا۔
ندانم آن گل خندان چہ رنگ و بو دارد
کہ مرغ ہر چمن گفتوئے او دارد
سر کو سُر، تال کی بہت اچھی سمجھ تھی۔ اس لیے آپ بہت ہی بہترین غزل بھی گایا کرتے تھے۔ مشہور میوزک ڈائریکٹر سجاد حسین کے ہاتھوں سر کو پہلے انعام سے بھی انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔
کامیاب مدرس وہ ہے جو اپنے طلبہ میں اپنا علم منتقل کرکے انہیں علم نافع کی راہ پر گامزن کر دے۔
حمزہ سر نہ صرف تدریس میں کامیاب رہے بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔ حتی کہ آپ نے آکا شوانی جلگاؤں کے افسر اعلی مدھو کر گا ئیکواڑ صاحب سے خط و کتابت کر کے انہیں اردو پروگرام کے آغاز کیلئے آمادہ کیا۔
ان کے اصرار پر افسر موصوف نے سروے کا انعقاد کیا۔اور تیجا اردو پروگرام گلفشاں کی شروعات ہوئی۔
موت اس کی جس کو زمانہ یاد کرے کہ مصداق استاد محرم کے رخصت ہونے سے علم ادب کی دنیا میں وخلا پیدا ہو گیا۔جس کا بھر پانا مکن نہیں ہے۔
ہم اشکبار آنکھوں سے آپ کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ اور
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گوں ہیں کہ اللہ پاک آپ کو جنت الفردوس میں مقام اعلی عطا فرمائے۔ (آمین)
بشکریہ شا منا مہ مالیگاؤں
10/5/2025

