کھام گاؤں(واثق نوید) ایوت محل ضلع کی پوسد تحصیل میں واقع غلام نبی آزاد اردو ڈی ایڈ کالج ایک چالیس سالہ قدیم تعلیمی ادارہ ہے جہاں سے تربیت پاکر ہزاروں اساتذہ نے مہاراشٹر بھر کے اسکولوں کو اپنی صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے ۔
گزشتہ دنوں وزارت اقلیتی امور کے ماتحت قائم مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی ممبئی کے اشتراک سے غلام نبی آزاد اردو ڈی ایڈ کالج پوسد میں کالج کی سطح پر ایک عظیم الشان مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا گیا ۔
مضمون نویسی کے اس مقابلے کا عنوان 'سائبرسیکیورٹی: آگاہی اور اقدامات' تھا ۔ اس مقابلے کی افتتاحی تقریب کی صدارت کالج کے پرنسپل جناب خان حسنین عاقب نے کی جب کہ بحیثیت مہمان خصو صی جناب بھال چندر دیشمکھ اور کالج کے سپر وائَزر جناب نثار احمد خان تھے ۔
پروگرام کے مہمان و مقرر خاص جناب سید مقبول صاحب تھے جو آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں ۔ سب سے پہلے مہمانوں کا استقبال ایک خوبصورت قلم بطور تحفہ دے کر کیا گیا ۔ نثار احمد خان نے قلم دے کر سید مقبول صاحب کا استقبال کیا جبکہ خان حسنین عاقب صاحب نے ڈاکٹر بھال چندر دیشمکھ کا استقبال کیا ۔
ابتدائیہ حصے میں ڈاکٹر بھال چندر دیشمکھ نے انسانی حقوق اور سائبر سیکورٹی کے تعلق سے اپنے تجربات شرکا کے ساتھ سانجھا کیے ۔
انہوں نے کہا کہ حقوق انسانی کمیشن کے ارکان کے ساتھ کام کرنے کے دوران میں نے بہت سے ایسے مقدمات کا مطالعہ کیا ہے جہاں آن لائن دھوکہ دھی کا شکار لوگوں کو مختلف مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
اس میں لوگوں کو لاعلمی کی بنیاد پر آن لائن فراڈ، مالی نقصانات، فریب دہی، بلیک میلنگ جیسے تباہ کن نتائج کا شکار ہونا پڑا ہے ۔ شکار ہونے والے لوگ اپنی عزت اور مالی تباہی کے پیش نظر دباؤ میں آکر خودکشی تک کر لیتے ہیں ۔
اس کے بعد خصوصی مقرر آئی ٹی کنسلٹنٹ جناب سید مقبول نے اس عنوان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ایک گھنٹے سے زیادہ عرصے تک متعلم معلمین کی مکمل رہنمائی کی ۔
انہوں نے بتایا کہ سائبر سیکیورٹی کے لیے ضروری ہے کہ انسان سب سے پہلے جس چیز یعنی موبائل یا کمپیوٹر وغیرہ کو استعمال کر رہا ہے اس کے نظام سے واقفیت حاصل کر لے ۔ موجودہ دنیا میں آن لائن طریقوں سے پرہیز نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کے استعمال میں احتیاط برتنا بھی از حد ضروری ہوتا ہے ۔ طلبہ کے لیے خاص طور سے آن لائن یعنی سائبر سیکیورٹی کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔سائبر سیکورٹی کے نام پر ہر جماعت میں طلبہ کو آگاہی پیدا کرنے کی شدید ضرورت ہوتی ہے ۔
پروگرام کے صدر پرنسپل خان حسنین عاقب نے اپنے تقریر میں کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سائبر سیکیورٹی کو اسکولوں اور اعلی تعلیم کے نصاب میں شامل کر لیا جائے ۔
سائبر سیکیورٹی کو اگر ابتدائی جماعتوں میں بھی ایک مضمون کے طور پر شامل کیا جاتا ہے تو یہ ایک عمدہ پہل ہوگی ۔ سید مقبول صاحب کی تفصیلی رہنمائی کے بعد طلبہ و طالبات کی سہولت کے لیے سوال جواب سیشن کا انعقاد کیا گیا اور ان سے مختلف سوالات کیے گئے ۔ سید مقبول صاحب نے زیر تربیت متعلم معلمین کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دئے ۔
بعد ازاں کالج کے سپروائزر جناب نثار احمد خان نے اظہار تشکر کے دوران یہ بات کہی کہ خصوصی طور پر لڑکیوں کو اپنی حفاظت کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے اور سید مقبول صاحب نے جو حفاظتی اقدامات بتائے ہیں، انہیں ہر لڑکی کم از کم اپنی پانچ سہیلیوں کو بتانے کی ذمہ داری لے تو یہ ایک زنجیری مہم کی شکل میں نہایت کارآمد قدم ثابت ہو سکتا ہے ۔
سال دوم کی طالبہ الفیہ انعم نے اس پروگرام کی نظامت کی ۔
پروگرام کے بعد زیر تربیت متعلم معلمین میں مضمون نویسی کے لیے سائبر سیکورٹی کے حوالے سے چند عنوانات تقسیم کئے گئے جن پر انھیں مضمون لکھنے کی ہدایت دی گئی ۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں سید شہزاد، محمد منتظر، حمید علی، راہین فاطمہ، سحر صدف، شمازیہ، صبا فاطمہ، جوہی صدف اور دیگر زیر تربیت متعلم معلمین و معلمات کے ساتھ ساتھ کالج کے آفس سپرنٹنڈنٹ مرزا اویس بیگ، محمد فیروز اور ڈی ایل انگولے نے اپنی خدمات پیش کیں ۔






