"اقراء اردو ہائی اسکول سالار نگر میں ربیع الاول کے موقع پر طلبہ کی کتب خانہ سے رفاقت ...علم و مطالعہ کی انوکھی پہل"
Author -
personحاجی شاھد انجم
اگست 27, 2025
0
share
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام اقراء اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج سالار نگر میں ماہِ ربیع الاول کی بابرکت مناسبت سے ایک انوکھی علمی سرگرمی انجام دی گئی۔
طلبہ کو کتب خانہ کی سیر کرائی گئی تاکہ وہ براہِ راست کتابوں کی دنیا سے آشنا ہوں اور مطالعہ کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔یہ علمی و تعلیمی سیر اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر ہارون بشیر کی سرپرستی اور لائبریری انچارج ڈاکٹر انیس الدین شیخ کی رہنمائی میں انجام پائی۔ ڈاکٹر انیس الدین نے طلبہ کو نہ صرف لائبریری کی کارکردگی اور کتابیں حاصل کرنے کے طریقہ کار سے واقف کرایا بلکہ نئی کتابوں کے اندراج، اساتذہ و طلبہ کے لیے لائبریری کے اوقات اور مطالعہ کی افادیت پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے سب سے زیادہ مطالعہ کی ترغیب دی ہے، اس مبارک مہینے کی نسبت سے ہمیں علم کے ساتھ ساتھ کتابوں سے رفاقت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس وقت اسکول لائبریری میں تقریباً چار ہزار کتب موجود ہیں جن میں درسی و تدریسی، نصابی، ادبی، انسائیکلوپیڈیا، حوالہ جاتی، دینی، سائنسی و تکنالوجی اور کثیر لسانی لغات پر مشتمل وقیع سرمایہ موجود ہے۔ علاوہ ازیں مختلف علمی و ادبی رسائل و جرائد بھی طلبہ کے استفادے کے لیے دستیاب ہیں۔ اس موقع پر پرنسپل ڈاکٹر ہارون بشیر نے طلبہ کو نصیحت کی کہ آج کے دور میں مطالعہ کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے، مگر ہمیں اپنے گھروں اور اداروں میں کتب خانوں کو زندہ رکھنے کے لیے مطالعہ کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "کتب خانہ کسی بھی گھر یا ادارے کا دماغ ہوتا ہے، اور دماغ کو حرکت میں رکھنے کے لیے مطالعہ سب سے بڑی قوت ہے۔" پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ہارون بشیر نے ڈاکٹر انیس الدین اور طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس علمی و ادبی سرگرمی کو ایک مؤثر اور بامقصد پہل قرار دیا۔ اس موقع پر اساتذہ کرام نفیس بانو، خان محفوظہ محسن شیخ اور سید سیف علی بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ ٹیم اقراء اور ٹیم الفیض فاؤنڈیشن عرصہ دراز سے ضلع بھر میں مطالعہ بیداری مہم چلا رہے ہیں۔ یہ ٹیمیں دیہات دیہات اور گاؤں گاؤں جا کر اداروں کو کتب، رسائل اور جرائد فراہم کرتی ہیں۔ اس علمی تحریک میں ڈاکٹر ہارون بشیر اور ڈاکٹر انیس الدین کا کردار نمایاں و قابلِ ذکر ہے۔