کھام گاؤں ، پارٹی نہیں، کارکردگی جیتی ایک گھر کے تین افراد پر عوام کا مسلسل اعتماد، فاطمہ بی کامیاب
Author -
personحاجی شاھد انجم
دسمبر 25, 2025
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) برڈے پلاٹ پربھاگ نمبر 17 میں بلدیاتی سیاست کی سمت اس وقت واضح ہو گئی جب عوام نے پارٹی وابستگی کے بجائے کارکردگی، خدمت اور اعتماد کو ترجیح دیتے ہوئے فاطمہ بی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ اس جیت کے ساتھ ہی ایک ہی گھر کے تین افراد کا مختلف ادوار میں وارڈ کی نمائندگی کرنا شہر کی بلدیاتی سیاست میں ایک نمایاں مثال بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ فاطمہ بی کے شوہر محمد نعیم شیخ محبوب 2011 سے 2016 تک کانگریس کی جانب سے اسی وارڈ کے رکنِ بلدیہ رہ چکے ہیں۔ بعد ازاں وارڈ خواتین کے لیے محفوظ ہونے پر 2016 سے 2021 تک ان کی والدہ بطور رکنِ بلدیہ منتخب ہوئیں۔ درمیان کے چار سال بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کے باوجود عوامی رابطہ اور خدمت کا سلسلہ برقرار رہا۔ 2025 کے عام بلدیاتی انتخابات میں محمد نعیم شیخ نے اپنی اہلیہ فاطمہ بی کو میدان میں اتارا، جنہوں نے مسلم اکثریتی وارڈ ہونے کے باوجود کنول کے پھول کے نشان پر کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اس وارڈ میں ووٹ نظریے سے زیادہ کارکردگی کو ملتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کامیابی سابقہ ادوار میں کیے گئے ترقیاتی کاموں، عوامی مسائل کے فوری حل اور عوام سے مضبوط ربط کا نتیجہ ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر اتفاق کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کی تبدیلی کے باوجود مسلسل تیسری مرتبہ اسی گھرانے پر اعتماد کا اظہار دراصل اس قیادت کی مقبولیت اور زمینی سیاست کی کامیابی کا اعتراف ہے۔ اس موقع پر محمد نعیم شیخ نے وارڈ کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: “عوام نے جس بھروسے کے ساتھ پہلے مجھے، پھر میری والدہ اور اب میری اہلیہ کو خدمت کا موقع دیا، وہ ہمارے لیے اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ عوامی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح رہے گا۔” فاطمہ بی کی یہ کامیابی نہ صرف خواتین قیادت کے استحکام بلکہ خدمت، تسلسل اور عوامی اعتماد پر مبنی سیاست کی جیتی جاگتی مثال قرار دی جا رہی ہے۔