جلگاؤں جامود, نتیش کمار کو برخاست کرو، حجاب کی توہین یا آئین کی پامالی؟ خواتین کا زبردست احتجاج، صدرِ جمہوریہ کو مذمتی میمورنڈم
Author -
personحاجی شاھد انجم
دسمبر 27, 2025
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے 15 دسمبر کو آیوش ڈاکٹروں کو تقرری نامے تقسیم کرنے کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے چہرے سے مبینہ طور پر حجاب کھینچے جانے کے واقعہ نے ملک بھر میں شدید غم و غصّے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعہ کو خواتین کی عزت، وقار اور مذہبی آزادی پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے جلگاؤں جامود میں شہر کی معزز خواتین بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں۔ احتجاجی خواتین نے زوردار نعرے بازی اور پراثر تقاریر کے ذریعے نتیش کمار کے خلاف اپنے شدید جذبات کا اظہار کیا اور اس واقعہ کو آئینِ ہند کی روح کے منافی قرار دیا۔ خواتین کا کہنا تھا کہ کسی منتخب وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون کے مذہبی لباس میں مداخلت ناقابلِ برداشت ہے اور یہ عمل پورے ملک کی خواتین کی توہین کے مترادف ہے۔ احتجاج کے بعد صدرِ جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کے نام ایک سخت الفاظ پر مشتمل مذمتی میمورنڈم مقامی ایس ڈی او کے معرفت روانہ کیا گیا۔ میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدار اور آزادانہ جانچ کرائی جائے اور وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار، مرکزی وزیر گری راج سنگھ اور دیگر ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی اخلاقی بنیادوں پر ذمہ دار عہدیداروں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی خاتون کے جسم، لباس اور عقیدے میں مداخلت آئینِ ہند کے دیے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ خواتین کے احترام اور وقار کے تحفظ کے لیے سخت پالیسی نافذ کرنے اور مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس سرکاری اقدامات کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ اس احتجاجی یادداشت پر ڈاکٹر ثمینہ شاکر خان، ڈاکٹر زیبا ارم، واجدہ عبدالظہیر، شاہین باجی فرزانہ بی، سید افروز، ڈاکٹر ذاکرہ سمیت سیکڑوں مسلم خواتین کے دستخط موجود ہیں۔ احتجاج کے موقع پر بڑی تعداد میں خواتین کی موجودگی نے اس مظاہرے کو غیر معمولی اہمیت اور قومی سطح کی توجہ دلائی۔