جموں میڈیکل کالج تنازعہ: تعلیم ،سیاست اورتعصب ’’نہ میرٹ بچا، نہ ادارہ… صرف نفرت باقی رہی ‘‘ تحریر : عبدالباسط صدیقی مائنڈز ان موشن فاؤنڈیشن، اورنگ آباد، موبائل : 8055459200
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 10, 2026
0
share
شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس (جموں و کشمیر) کو 2025ء میں نئے میڈیکل کالج کے طور پر منظوری ملی۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کے زیرنگرانی متعلقہ بورڈ نے 8 ستمبر 2025 کو کالج کو 50 ایم بی بی ایس نشستوں کی منظوری (لیٹر آف پرمیشن) جاری کی۔ تعلیمی سال 2025-26 کے لیے پہلی داخلہ فہرست جاری ہوئی تو 50 میں سے 42 نشستوں پر مسلم امیدوار، 7 پر ہندو اور 1 پر سکھ امیدوار کا انتخاب ہوا۔ یہ داخلے قومی اہلیتی و داخلہ امتحان (NEET) کی میرٹ اور NMC کے قواعد کے عین مطابق تھے، جس میں 85 فیصد نشستیں جموں و کشمیر کے مقامی امیدواروں کے لیے اور 15فیصد آل انڈیا کوٹے کے لیے مختص تھیں۔ سرکاری ذرائع نے واضح کیا کہ مذکورہ یونیورسٹی کوئی اقلیتی ادارہ نہیں، لہٰذا قانونی طور پر مذہب کی بنیاد پر داخلوں میں تفریق ممکن نہیں۔ داخلہ نتائج سامنے آتے ہی کٹرہ اور جموں کے علاقوں میں سخت گیر ہندو تنظیموں نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، راجپوت سبھا اور دیگر گروہوں نے کالج انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کیے اور علامتی پتلے نذرِ آتش کیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ چونکہ یہ ادارہ ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے تحت عقیدتمندوں کے چندوں سے چل رہا ہے، اس لیے یہاں صرف ہندو طلبہ کو داخلہ ملنا چاہیے۔ نومبر 2025 کے آخر میں بی جے پی کے لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما کی قیادت میں ایک وفد نے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) منوج سنہا سے ملاقات کرکے میمورنڈم پیش کیا، جس میں ایک مخصوص برادری کے ’’داخلوں‘‘ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے قواعد میں ترمیم کے ذریعے اس میرٹ لسٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایل جی منوج سنہا جو شرائن بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں نے وفد کو’’ضروری کارروائی‘‘کی یقین دہانی کرائی جسے بی جے پی حلقوں نے اپنی درخواست کی منظوری سے تعبیر کیا۔ ایل جی کی جانب سے بی جے پی کا میمورنڈم قبول کرنے کی خبر پر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی اور کئی پارٹیوں نے اس اقدام کو ’’تقسیم کن اور غیر آئینی ‘‘ قرار دے کر شدید تنقید کی۔ دسمبر 2025 میں بھی جموں میں وقفے وقفے سے احتجاج جاری رہے، جن میں شرائن بورڈ کے دفتر اور سول سیکریٹریٹ کے باہر مظاہرے شامل تھے۔ صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے حکومت نے امن و امان کی خاطر اہم مقامات پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا۔ مظاہرین کالج کی داخلہ فہرست رد کرنے یا پھر ادارہ مکمل طور پر بند کرنے پر بضد تھے۔ مسلسل دباؤ اور شکایات کے بیچ نیشنل میڈیکل کمیشن نے معاملے کا نوٹس لیا۔ شکایات میں کالج میں بنیادی سہولیات اور فیکلٹی کی کمی جیسے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ NMC کے میڈیکل اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (MARB) نے 2 جنوری 2026 کو کالج کا اچانک معائنہ کیا جس میں متعدد خامیاں نوٹ کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق تدریسی عملے میں 39فیصد اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں میں 65فیصدتک کمی پائی گئی، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں مریضوں کی آمد مطلوبہ معیار سے نصف سے بھی کم رہی، جبکہ کئی لیبارٹریز اور طبی شعبوں میں ضروری سازوسامان اور سہولیات کا فقدان تھا۔ ان ’’سنگین کوتاہیوں‘‘اور کمزور انفراسٹرکچر کو بنیاد بنا کر NMC نے 6 جنوری 2026 کو کالج کا ایم بی بی ایس کورس چلانے کی منظوری منسوخ کردی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت ہوا جب جموں میں شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی اور دیگر ہندو تنظیمیں مسلم طلبہ کے داخلوں کے خلاف دو ماہ سے احتجاج کر رہی تھیں۔ NMC کے حکم نامے میں کہا گیا کہ تعلیمی معیار اور طلبہ کے مفاد کے پیش نظر اس ادارے کا جاری رہنا مناسب نہیں، لہٰذا موجودہ تمام 50 طلبہ کو یونین ٹیریٹوری (جموں و کشمیر) کے دیگر تسلیم شدہ میڈیکل کالجوں میں اضافی نشستوں (سپرنومیوری سیٹس) پر منتقل کیا جائے۔ یوں محض چند ماہ بعد ہی یہ نومشق میڈیکل کالج اپنے آغاز کے ساتھ ہی بندش کا شکار ہوگیا، اور اس کے طلبہ کو متبادل اداروں میں بھیجنے کا عمل شروع ہوا۔ حکومتِ جموں و کشمیر نے اعلان کیا کہ یہ تمام متاثرہ طلبہ اپنے گھروں کے نزدیک دیگر میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کیے جائیں گے اور ریاستی محکمہ صحت اس منتقلی میں تعاون کرے گا۔ چنانچہ NMC کے حکم کے فوری بعد یو ٹی انتظامیہ نے تمام 50 طلبہ کو جموں و کشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں میں اضافی نشستوں پر منتقل کرنے کا عمل شروع کیا تاکہ کوئی طالب علم تعلیمی نقصان سے دوچار نہ ہو۔ اس پورے واقعے میں فرقہ وارانہ بیانیہ کھل کر سامنے آیا جس کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ ایک ہندو شرائن (مندر) کے تحت چلنے والے تعلیمی ادارے میں غیر ہندو طلبہ کا اکثریت میں داخلہ ہونا ناقابلِ قبول ہے۔ ہندو انتہا پسند حلقوں نے دعویٰ کیا کہ ہندو عقیدت مندوں کے چندے سے چلنے والے ادارے کا فائدہ ہندو طلبہ کو ہی ملنا چاہیے۔ احتجاج کرنے والوں میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ کیمپس میں غیر ہندو طلبہ کی موجودگی اور ان کے کھانے پینے اور عبادت کے طور طریقے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں اور اس سے لاء اینڈ آرڈر کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ بی جے پی کے ایک مقامی رہنما اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، سنیل شرما نے کھلم کھلا بیان دیا کہ صرف ایسے طلبہ کو اس کالج میں داخلہ ملنا چاہیے جن کا ماتا ویشنو دیوی پر عقیدہ ہے۔ ان خیالات کو تنظیمی سطح پر بھی بڑھاوا دیا گیا شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کے کنوینر (کرنل سکھویر سنگھ) نے اعلانیہ کہا کہ وہ جموں بھر میں ایک ’’سناتن جاگرن یاترا‘‘نکالیں گے اور عوام کو ’’سناتنیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی‘‘سے آگاہ کریں گے۔ سماجی میڈیا اور مقامی پلیٹ فارمز پر بھی فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دی گئی، یہاں تک کہ کچھ حلقوں نے اس صورتحال کو ہندو برادری کے خلاف ’’تعصب‘‘سے تعبیر کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا کہ یہ سلسلہ دیگر اداروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ ان بیانیوں کے مرکزی ذرائع بی جے پی کی مقامی قیادت، آر ایس ایس سے منسلک تنظیمیں اور شرائن بورڈ سے وابستہ کچھ حلقے تھے۔ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، راشٹریہ بجرنگ دل اور دیگر ہندوتوا گروپس نے مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے مطالبات کے حق میں مذہبی بنیادوں کو دلیل بنایا۔ بی جے پی نے سیاسی پشت پناہی فراہم کرتے ہوئے ان جذبات کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کی جیسا کہ ان کے پیش کردہ میمورنڈم میں واضح تھا کہ کالج کے قواعد بدل کر ہندو طلبہ کے لیے مخصوص کوٹہ نافذ ہو۔ یوں حکمران جماعت کے بعض نمائندے اور ہندوتوا نظریات کی حامل تنظیمیں مل کر اس بیانیے کو آگے بڑھاتی رہیں، جس کے نتیجے میں کالج کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا۔ اس فرقہ وارانہ مہم جوئی کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اول، اس نے جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں فرقہ وارانہ خطوط پر نئی دراڑیں ڈال دیں۔ ہندو اور مسلمان طبقات کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ ہوا کیونکہ میرٹ پر داخلہ لینے والے طلبہ کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ دوم، تعلیم جیسا شعبہ جو سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرتا ہے، اسے تنازع کا اکھاڑہ بنادیا گیا۔ اس واقعے نے مقامی آبادی میں کشیدگی کو ہوا دی اور انتظامیہ کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے پڑے۔ تیسرے، قومی سطح پر سیکولرازم پر بحث چھڑ گئی کہ آیا عبادت گاہوں سے وابستہ اداروں کو مذہبی بنیادوں پر ترجیحات دینی چاہئیں یا نہیں۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور دیگر رہنماؤں نے استفسار کیا کہ ’’اگر اسپتال، اسکول اور یونیورسٹیاں بھی مذہب دیکھ کر داخلے دینے لگیں تو ملک کی شکل کیا رہ جائے گی اور میرٹ کا کیا ہوگا؟‘‘۔ یہ سوال صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے تعلیمی اور سماجی ڈھانچے کے لیے تشویش کا باعث بن گیا۔ یہ سانحہ بحیثیت مجموعی ہمارے ملک کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ جب مذہب کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا انجام کتنی خوفناک صورت میں نکل سکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں ایک نئے میڈیکل کالج کا قیام بظاہر علاقے کے لوگوں خصوصاً جموں کے طلبہ کے لیے ایک نعمت تھا، لیکن صرف اس لیے برباد ہوگیا کہ وہاں میرٹ کی بنیاد پر آنے والے اکثر طلبہ کا تعلق اقلیتی مذہب سے تھا۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ فرقہ وارانہ سوچ نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرتی ہے بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کی جڑیں کاٹنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب تعلیم جیسے شعبے میں مذہب کا دخل بڑھ جاتا ہے تو اس کا نتیجہ علمی زوال، اداروں کی تباہی اور نوجوان نسل کے مستقبل کی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ جیسا کہ اس کیس میں دیکھا گیا، چند انتہا پسند آوازوں نے ایسے ماحول کو جنم دیا جس میں قابل اور محنتی طلبہ کو مجرموں کی طرح کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا اور بالآخر ایک پورے ادارے کو تالا لگانا پڑا۔ اس کا پیغام بالکل واضح ہے: اگر ہم نے بروقت سدِباب نہ کیا تو سیاسی مفاد کے لیے مذہب کا استحصال ہمارے تعلیمی نظام کو کھوکھلا کر دے گا، سماج میں تفریق کی خلیج مزید گہری ہوگی اور ہمارے نوجوان اپنے خواب لیے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ ملک کا مستقبل اسی وقت تابناک ہوگا جب تعلیم کو تعصب سے پاک رکھ کر میرٹ، مساوات اور سیکولرازم کے اصولوں کو عملی طور پر نافذ کیا جائے گا۔ جبکہ آئین ہند کا آرٹیکل 15 واضح طور پر ریاست کو مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ امتیاز برتنے سے روکتا ہے۔ اسی طرح، آرٹیکل 29 شہریوں کو ان کی زبان، رسم و رواج یا ثقافت کی بنیاد پر تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ ان دفعات کی روشنی میں، کسی مخصوص مذہب کے طلبہ کو داخلے سے محروم کرنے یا ان پر سوال اٹھانے کی کوشش آئینی روح کے منافی ہے۔ (جموں کے ایک بزرگ رہنما کے بقول ’’کل وہ بچے میڈیکل کالج کی نشستوں سے محروم رہیں گے کیونکہ آپ نے انہیں مذہب کے نام پر کالج سے محروم کر دیا ہے‘‘)۔ یہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ مذہبی منافرت کو تعلیمی اداروں سے دور رکھیں، تاکہ آئندہ کوئی اور تعلیمی ادارہ اس قسم کے انجام سے دوچار نہ ہو۔