مہاراشٹر کی سیاست میں تشدد کے واقعات محمد شاکر ہمدرد کھام گاؤں 9226444448
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 09, 2026
0
share
مکرمی حالیہ دنوں مہاراشٹر میں ہونے والے سیاسی تشدد نے مہاراشٹر میں قانون و سیاست کی صورتحال پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ مہاراشٹر میں کئی سیاسی شخصیات اور کارکنان پر تشدد کے واقعات نے ریاست کی سیاسی فضا کو غیر مستحکم کیا ہے۔ اول الذکر ہدایت پٹیل کا قتل ، ایک سیاسی رہنما کے طور پر ہدایت پٹیل کا قتل ریاستی شفاف سیاست میں ایک سنجیدہ جھٹکا ہے۔امتیاز جلیل سابق رکن پارلیمنٹ کی گاڑی پر حملہ ، عوام اور سیاست میں خوف و ہراس پیدا کرنے والا واقعہ ہے۔ممبئی میں شندے گروپ کے سلیم قریشی پر قاتلانہ حملہ، ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ طلب کر رہا ہے۔ موجودہ صورتحال سیاسی تشدد کے یہ واقعات ریاست میں امن و امان کے لیے خطرہ اور سیاسی جماعتوں اور کارکنان میں خوف اور بے چینی کا سبب بنے ہیں۔ تاہم عوامی تحفظ اور سیاسی استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔مہاراشٹر کی سیاست میں حالیہ تشدد کے واقعات ریاست کے سیاسی ماحول اور عوام کی حفاظت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ فوری اور مؤثر اقدامات کے بغیر، سیاسی فضا مزید غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔لہٰذاحکومت کیا کریں کہ ریاست مہاراشٹر میں خونی سیاست کا خاتمہ ہو ۔امن کی بحالی کے لیے حکومت سیاسی جماعتوں کو تشدد سے پرہیز کی واضح ہدایت دے۔تشدد کے واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ملزمین کو سخت سزا دلوائے۔عوام اور سیاسی کارکنوں کے لیے حفاظتی اقدامات بڑھائے، خاص طور پرحساس علاقوں میں ریاستی حکومت کو سیاسی ماحول کو پرامن اور مستحکم رکھنے کے لیے چند اقدامات کرنے چاہیے، تاکہ آئندہ اسطرح کے واقعات روکے جا سکیں۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو امن و امان میں رکھے اور مہاراشٹر سے جلد از جلد اس خونی سیاست کا خاتمه کریں ۔۔ (امین)