تعلیم کا وقار بنام غیر تعلیمی فرائض: کیا اب اساتذہ آوارہ کتوں کی نگرانی کریں گے؟ از قلم ۔وسیم رضا خان 9370170870
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 08, 2026
0
share
حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں سے ایسی خبریں اور سرکاری احکامات سامنے آئے ہیں جنہوں نے تعلیمی دنیا اور معاشرے کے باشعور طبقے کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ دہلی، مہاراشٹر اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں اساتذہ کو آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 'نوڈل آفیسر' مقرر کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اگرچہ کچھ حکومتوں نے اسے محض 'حفاظتی ہم آہنگی' قرار دیا ہے، لیکن بنیادی سوال وہی ہے کہ کیا ایک استاد کا کام پڑھانا ہے یا انتظامی ناکامیوں کا بوجھ اٹھانا؟ حکومت نے ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ (TET) کا قانون اس لیے بنایا تھا تاکہ تعلیم کے معیار کو بلند کیا جا سکے اور صرف اہل ترین افراد ہی کلاس روم تک پہنچ سکیں۔ ایک امیدوار برسوں سخت محنت کرتا ہے، بچوں کی نشوونما، طریقہ تدریس اور مضمون کی باریکیوں کو سمجھ کر TET پاس کرتا ہے۔ کیا حکومت نے TET امتحان کا قانون اس لیے بنایا تھا کہ اعلیٰ قابلیت کے حامل اساتذہ کو اسکولوں میں آوارہ کتوں کی نگرانی اور گنتی کے لیے استعمال کیا جائے؟ اساتذہ کو اس طرح کے کاموں میں جھونکنا ان کی تعلیمی قابلیت اور اس باوقار عہدے کی کھلی توہین ہے۔ ایک استاد کا بنیادی کام قوم کی آنے والی نسل کی تعمیر کرنا ہے۔ پہلے سے ہی مردم شماری، الیکشن ڈیوٹی اور پلس پولیو جیسے غیر تعلیمی کاموں کے بوجھ تلے دبے اساتذہ کو اب 'کتوں کی نگرانی' کی ذمہ داری سونپنا ان کے پیشے کے وقار کی تذلیل ہے۔ جب ہم ایک استاد کو اسکول کے احاطے میں آوارہ کتوں کو روکنے یا ان کی گنتی (جیسا کہ خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے) کے لیے نوڈل آفیسر بناتے ہیں، تو ہم نادانستہ طور پر معاشرے کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ استاد کی ذہنی صلاحیتوں کو کسی بھی کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آوارہ کتوں کا انتظام، ٹیکہ کاری اور نس بندی مکمل طور پر مقامی میونسپل کارپوریشنوں اور اینیمل ویلفیئر محکموں کی ذمہ داری ہے۔ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے محکمہ تعلیم کا سہارا لینا انتظامی سستی کی عکاسی کرتا ہے۔ کیا انتظامیہ کے پاس اتنا عملہ نہیں ہے کہ وہ اسکولوں کے باہر حفاظتی انتظامات دیکھ سکے؟ کتوں کو اسکول کے احاطے سے باہر رکھنا محکمہ جنگلات یا میونسپلٹی کے سیکورٹی اہلکاروں کا کام ہے، نہ کہ اس استاد کا جو کلاس روم میں ریاضی یا سائنس پڑھانے کی تیاری کر رہا ہو۔ حکومتوں کا استدلال ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی حفاظتی ہدایات پر عمل کر رہی ہیں۔ بچوں کی حفاظت سب سے مقدم ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن کیا ایک نہتا استاد خونخوار آوارہ کتوں سے بچوں کی حفاظت کر پائے گا؟ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو کیا اس کی ذمہ داری اس 'نوڈل ٹیچر' پر ڈال دی جائے گی؟ یہ حکم اساتذہ کو نہ صرف ذہنی تناؤ میں ڈالتا ہے بلکہ انہیں جسمانی خطرے کی طرف بھی دھکیلتا ہے۔ مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں کی اساتذہ تنظیموں کا احتجاج مکمل طور پر مدلل ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں 'چوکیدار' کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ آر ٹی ای (RTE) ایکٹ واضح طور پر کہتا ہے کہ اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں میں نہیں لگایا جانا چاہیے (سوائے الیکشن اور آفات کے)۔ ایسے میں کتوں سے متعلق ذمہ داری تھوپنا قانونی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے غلط ہے۔ تعلیمی نظام میں بہتری کی باتیں تو بہت ہوتی ہیں، لیکن زمینی سطح پر اساتذہ کو 'آل راؤنڈر ملازم' سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر حکومتیں واقعی بچوں کی حفاظت کے بارے میں سنجیدہ ہیں، تو انہیں اسکولوں میں مستقل سیکورٹی گارڈز تعینات کرنے چاہئیں اور میونسپل کارپوریشنوں کو جوابدہ بنانا چاہیے۔ اساتذہ کو قلم چھوڑ کر کتوں کی نگرانی پر لگانا حقِ تعلیم اور استاد کے احترام، دونوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ محکمہ تعلیم اساتذہ کو ان کا وقار واپس لوٹائے اور انہیں وہ کام کرنے دے جس کے لیے وہ مقرر ہوئے ہیں۔ آوارہ کتوں کا انتظام، ٹیکہ کاری اور نس بندی کرنا مکمل طور پر مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے محکمہ تعلیم کا سہارا لینا انتظامی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔ انتظامیہ سپریم کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دے کر اپنا پلہ جھاڑ رہی ہے۔ حکومتوں کو اپنی انتظامی خامیوں کو دور کرنا چاہیے اور اساتذہ کو وہ احترام واپس دینا چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اساتذہ کے ہاتھوں میں 'چاک اور قلم' ہی جچتے ہیں، آوارہ کتوں کی نگرانی کی فائلیں نہیں۔