مہاراشٹر کی سیاست میں شرافت کا قتل ہدایت پٹیل کی شہادت اور جمہوریت پر منڈلاتے خونی سائے خصوصی تجزیہ از قلم شعیب الله خان کھام گاؤں
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 08, 2026
0
share
مہاراشٹر، جو اپنی سیاسی رواداری اور بلند پایہ تہذیبی اقدار کے لیے ہندوستان بھر میں ایک روشن مثال سمجھا جاتا تھا، آج کل ایک ایسے سیاہ موڑ پر کھڑا ہے جہاں 'دلیل' کا قد چھوٹا اور 'خون' کی ارزانی بڑھ گئی ہے۔ اکولہ سے ممبئی تک پھیلی تشدد کی حالیہ لہر نے نہ صرف امن و امان کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے بلکہ ریاست کے سیاسی مستقبل پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ہدایت پٹیل: ایک عہد کا خاتمہ اور شرافت پر وار اس پورے سلسلے کا سب سے دردناک پہلو اکولہ کے سینئر کانگریسی رہنما اور سابق ضلعی صدر ہدایت اللہ خان پٹیل (ہدایت پٹیل) کا بہیمانہ قتل ہے۔ ہدایت پٹیل کا شمار مہاراشٹر کے ان گنے چنے سیاستدانوں میں ہوتا تھا جنہیں ان کی 'بزرگی' اور 'شرافت' کی وجہ سے ہر سیاسی جماعت میں انتہائی ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اکولہ کانگریس کی برسوں قیادت کی اور ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے لیے ایک سائبان کا کام کیا۔ ایک ایسے بزرگ اور محترم شخص کو 'اللہ کے گھر' میں نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آوروں کے دلوں سے نہ صرف قانون کا خوف نکل چکا ہے، بلکہ وہ انسانیت اور مذہب کے تقدس سے بھی عاری ہو چکے ہیں۔ ان کا قتل ایک شخص کا نہیں بلکہ اس سیاسی شرافت کا قتل ہے جو مہاراشٹر کا خاصہ رہی ہے۔ تشدد کا پھیلتا ہوا دائرہ: باندرہ سے اورنگ آباد تک ابھی اکولہ اس صدمے سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ ممبئی کے مصروف ترین علاقے باندرہ میں شیو سینا (شندے گروپ) کے امیدوار سلیم قریشی پر قاتلانہ حملہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب اورنگ آباد میں سابق ایم پی اور ایم آئی ایم کے ریاستی صدر امتیاز جلیل کی ریلی پر ہونے والے حملے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب سیاسی میدان 'جنگ کا میدان' بنتا جا رہا ہے۔ یہ واقعات کسی ایک پارٹی یا فرد کے خلاف نہیں، بلکہ پوری جمہوری عمل کو مفلوج کرنے کی ایک منظم کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس خونی سیاست کے پسِ پردہ کئی عوامل کارفرما ہیں، جب کوئی سیاسی طاقت عوامی حمایت کھونے لگتی ہے، تو وہ مخالفین کو جسمانی طور پر ختم کرنے یا خوفزدہ کرنے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ ہدایت پٹیل جیسی محترم شخصیت کو نشانہ بنانا اس لیے بھی خطرناک ہے کہ اس سے نچلی سطح کے کارکنوں میں اشتعال پھیلے اور معاشرے میں انتشار پیدا ہو۔ کیا یہ انتظامیہ کی ناکامی نہیں کہ ریاست کے سینیئر لیڈر اپنے علاقوں میں محفوظ نہیں؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ محض نچلے درجے کے کارندوں کو پکڑ کر خانہ پوری نہ کرے، بلکہ ان "سفید پوش آقاؤں" کو بے نقاب کرے جنہوں نے ان حملوں کی اسکرپٹ لکھی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام جماعتیں پارٹی بازی سے اوپر اٹھ کر اس تشدد کی مذمت کریں۔ جس طرح ہدایت پٹیل کا احترام ہر جماعت کرتی تھی، اسی طرح ان کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے بھی سب کو ایک زبان ہونا چاہیے۔ ذی شعور عوام اور مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اس جذباتی وقت میں صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑیں۔ دشمن یہی چاہتا ہے کہ عوام سڑکوں پر دست و گریبان ہوں، لیکن ہمیں اس کا جواب اتحاد اور ووٹ کے ذریعے دینا ہوگا۔ مہاراشٹر کی سرزمین نے ہمیشہ محبت اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔ ہدایت پٹیل کی شہادت اور دیگر رہنماؤں پر حملے اس مٹی کی روح پر زخم ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر سخت ترین کارروائی نہ کی اور ان سازشوں کو جڑ سے نہ اکھاڑا، تو تاریخ کبھی موجودہ حکمرانوں کو معاف نہیں کرے گی۔