شولاپور ، نامور ڈرامہ نگار منظور عالم سر کو لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دینے کا اعلان
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 10, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) اردو ڈرامہ، تھیٹر اور تدریس کے میدان میں طویل اور گراں قدر خدمات انجام دینے والے شولاپور کے نامور ڈرامہ نگار، ہدایت کار، مصنف اور ممتاز معلم منظور عالم سر کو دریافت ممبئی کی جانب سے لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان سے ادبی، تعلیمی اور تھیٹر حلقوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ منظور عالم سر نے سن 1960 میں ڈرامے کی دنیا میں قدم رکھا اور اردو تھیٹر کو نئی شناخت عطا کی۔ سن 1976 میں شولاپور کے پہلے فل لینتھ ڈرامہ ’’بہار آنے تک‘‘ میں مرکزی کردار ادا کیا، جو شہر کا پہلا مکمل طوالت کا ڈرامہ تھا۔ اس ڈرامے کے مصنف معروف ادیب نسیم منان سر تھے۔ اردو اکیڈمی کے تحت منعقد ہونے والے اردو ڈرامہ مقابلوں میں انہوں نے لگاتار شولاپور سوشل اسکول کی نمائندگی کرتے ہوئے متعدد معیاری ڈرامے پیش کیے،جن میں ’’نہیں‘‘، ’’وہ ایک لمحہ‘‘، ’’کیکٹس‘‘ اور ’’راہی اکیلا‘‘ شامل ہیں۔ ان میں سے نہیں، کیکٹس اور راہی اکیلا جیسے ڈراموں نے انعامات حاصل کیے اور ممبئی میں فائنل مقابلے میں پیش کیے گئے۔ منظور عالم سر نے بچوں کے لیے بھی یادگار ڈرامے پیش کیے، جن میں ’’سونے کا پنجرا‘‘ اور ’’کون سے ابا‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اردو کے ہفت روزہ اخبار ’’آئینہ ایام‘‘ میں طویل عرصے تک طنز و مزاح کے معیاری مضامین لکھتے رہے، جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ سن 1992 میں وہ اردو اکیڈمی کے پہلے ڈرامہ فائنل مقابلے کے کنوینر بھی رہے، جو ان کی ادبی و تنظیمی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فن کے ساتھ ساتھ وہ تاریخ کے ایک بہترین معلم کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ تدریسی شعبے میں 38 سالہ خدمات انجام دینے کے بعد وہ شولاپور سوشل اسکول سے سبکدوش ہوئے۔ منظور عالم سر کو لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دینے کا اعلان دراصل اردو ڈرامہ، ادب اور تعلیم کے میدان میں ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کا اعتراف ہے، جس پر شولاپور کے ادبی و ثقافتی حلقوں نے دل کی گہرائیوں سے مسرت اور فخر کا اظہار کیا ہے۔