ہاتھ گاڑی، ریڑھی (ٹھیلہ): محنت ، وقار اور سہولتِ زندگی کا استعارہ خان نویدالحق انعام الحق اسپیشل آفیسر فار اردوٗ نیز رکن سیکرٹری و رابطہ کار برائے اردوٗ لسانی کمیٹی ، بال بھارتی ، پوٗنہ ، مہاراشٹر ، انڈیا
Author -
personحاجی شاھد انجم
اپریل 19, 2026
0
share
شہروں کی مصروٗف گلیوں اور محلّوں میں رواں دواں یہ سادہ سی ہاتھ گاڑی، جسے عرفِ عام میں ٹھیلا یا ریڑھی کہا جاتا ہے.
درحقیقت ایک محنت کش انسان کی پوری زندگی کا نچوڑ ہے. یہ محض سامانِ تجارت اٹھانے کا وسیلہ نہیں بلکہ عزتِ نفس، خوٗدداری اور رزقِ حلال کی جستجوٗ کا روشن استعارہ ہے.
ثناء بک ڈپو انجمن چوک مالیگاؤں حاجی شاہد انجم
9270416786 یہ وہی ٹھیلا ہے جس پر کبھی تازہ سبزیاں ، کبھی رس بھری پھلوں کی خوشبوٗ اور کبھی روزمرہ کی چھوٹی موٹی اشیاء سجی ہوتی ہیں. مگر اس ظاہری منظر کے پیچھے ایک ایسی کہانی پوشیدہ ہوتی ہے جس میں محنت کی حرارت ، اُمّید کی روشنی اور ضروٗرت کی سچّائی شامل ہوتی ہے. سہولتِ زندگی فراہم کرنے والے یہ ٹھیلے والے گھر کی دہلیز تک رزق کی رسائی کا انتظام کر دیتے ہیں. دراصل یہ ٹھیلے والے معاشرے کے ان خاموش خادموں میں شمار ہوتے ہیں جو سہوٗلت کو خوٗد چل کر لوگوں کے دروازے تک لے آتے ہیں. خواتین اور خصوصاً پردہ نشین خواتین کے لیے یہ ایک بڑی نعمت ہے کہ انھیں دوٗر دراز بازاروں یا سبزی منڈیوں کا رُخ نہیں کرنا پڑتا. یہ ٹھیلا گویا ایک چلتی پھرتی دُکان ہے جو گھر کی دہلیز پر پہنچ کر خریداری کو نہایت آسان بنا دیتا ہے. اس طرح نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ گھریلوٗ نظم و نسق میں بھی سہولت پیدا ہوتی ہے. ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان ٹھیلوں کی موجودگی شہری زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے. اگر ہر شخص کو معموٗلی ضروٗرت کے لیے بھی دور بازار جانا پڑے تو وقت اور توانائی دونوں ضائع ہوں گے. یہ ٹھیلا دراصل وقت بچانے کا ایک خاموش ذریعہ ہے. ایک ایسا نظام جو بغیر کسی تشہیر کے، روزانہ بے شمار گھروں کی زندگی کو آسان بناتا ہے. ضروریاتِ زندگی کا چلتا پھرتا خزانہ ٹھیلے کی ایک نمایاں خصوصیت ہے. اس کی ہمہ گیری ہے۔ یہ صرف سبزی یا پھل تک محدوٗد نہیں بلکہ ضروریاتِ زندگی کی تقریباً ہر شے اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہوتا ہے. باورچی خانے کے برتن، گھروں کی زینت بننے والے قالین، جدید سہولت کا حصّہ مکسر اور دیگر برقی آلات، روزمرہ خوراک جیسے اناج، دالیں، سبزیاں، پھل حتیٰ کہ بعض مقامات پر مچھلی، گوشت اور دیگر غذائی نعمتیں بھی. یوں محسوٗس ہوتا ہے کہ یہ ٹھیلا ایک چھوٹا سا بازار اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جو ضروٗرت مند کی ضروٗرت کے ہر پہلوٗ کو اپنے ساتھ لیے کوچہ کوچہ، قریہ قریہ، گلی گلی پھر رہا ہے. یہ نہ صرف اشیاء فراہم کرتا ہے بلکہ ایک مکمّل سہوٗلت کا نظام بھی پیش کرتا ہے. محنت اور ایمانداری اس پیشے کی روح ہے یعنی اس پیشے کی اصل بنیاد محنت اور دیانت داری پر ہے. ایک ٹھیلے والا صبح سویرے اٹھ کر سامان خریدتا ہے، اسے ترتیب دیتا ہے اور پھر دن بھر گلیوں میں گھوم کر رزقِ حلال کماتا ہے. اس کے لیے گاہک کا اعتماد سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے. دیانت داری ہی وہ وصف ہے جو اس کے کاروبار کو استحکام و دوام اور اس کی شخصیت کو وقار عطا کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ اکثر محلّوں میں ٹھیلے والے اور گاہک کے درمیان ایک غیر محسوس مگر مضبوط تعلق قائم ہو جاتا ہے. یہ ٹھیلے والے سماجی و تہذیبی علامت ہیں ان کا یہ ٹھیلا اب صرف ذریعۂ معاش نہیں بلکہ معاشرے کی ایک زندہ روایت بن چکا ہے. یہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایسا حصّہ ہے جس کے بغیر شہری (بلکہ اب تو دیہی بھی ) تہذیب کا تصوّر ادھوٗرا محسوٗس ہوتا ہے. یہ زندگی کی علامت بھی ہے اور ایک عادت بھی. ایک ایسا معموٗل جو نسل در نسل جاری ہے اور جو خاموشی سے معاشرتی ڈھانچے کو سہارا دے رہا ہے. اگر اس ٹھیلے کو ادبی پیکر میں ڈھالا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے، "یہ پہیوں پر چلتی ہوئی ایک دُنیا ہے ، جہاں ضروٗرتیں بھی ہیں اور آسانیاں بھی. یہ محنت کا سفر ہے،جو ہر دروازے پر دستک دیتا ہے، اور یہ زندگی کا وہ استعارہ ہے جو کبھی رکتا نہیں. "ہر عظیم داستان کا آغاز ایک معمولی صفحے سے ہوتا ہے، جہاں نہ شور ہوتا ہے نہ چرچا، بس ایک خاموش عزم ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ تاریخ بن جاتا ہے. یہ دنیا اُن لوگوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے معمولی وسائل کے ساتھ غیر معمولی سفر طے کیا. اگرچہ یہ کہنا کہ Dhirubhai Ambani نے براہِ راست ٹھیلے سے اپنی زندگی کا آغاز کیا، ایک مستند تاریخی دعویٰ نہیں، لیکن اس خیال کے پسِ پردہ ایک گہری معنویت ضروٗر موجود ہے. یہ دراصل اس اصوٗل کی طرف اشارہ ہے کہ عظمت کا آغاز اکثر سادگی سے ہوتا ہے، اور کامیابی کی بلندیاں چھوٹے قدموں کی تسلسل سے طے ہوتی ہیں. ٹھیلا یہاں ایک علامت کے طور پر ابھرتا ہے ایک ایسی علامت جو محنت، خود انحصاری اور ابتدائی جدوجہد کی نمائندگی کرتی ہے. یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کامیابی کا دارومدار وسائل کی کثرت پر نہیں بلکہ عزم کی قوت پر ہوتا ہے چھوٹے آغاز بڑے انجام کی بنیاد بن سکتے ہیں محنت اور استقامت وہ زینے ہیں جن پر چڑھ کر انسان بلندیوں تک پہنچتا ہے. لہٰذا “ٹھیلے سے آغاز” کو ایک تمثیلی سچائی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے. ایک ایسا استعارہ جو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی کی راہوں میں کوئی بھی نقطۂ آغاز چھوٹا نہیں ہوتا، اگر انسان کے ارادے بڑے ہوں. یہ ٹھیلا ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ سادگی میں بھی کمال پوشیدہ ہوتا ہے. یہ محنت، دیانت، سہولت اور معاشرتی ہم آہنگی کا حسین امتزاج ہے. لہٰذا جب بھی ہم کسی ٹھیلے والے کو دیکھیں، تو اسے محض ایک فروشندہ نہ سمجھیں بلکہ ایک ایسے کردار کے طور پر پہچانیں جو ہماری زندگی کو آسان، منظم اور رواں رکھنے میں خاموش مگر بنیادی کردار ادا کر رہا ہے. ١٩/اپریل ٢٠٢٦ ء وقت صبح 10:00 بجے