ڈاکٹر مبین نذیر کی ’گل افشانیاں ‘ سماج کی آئینہ دار تبصرہ نگار: شکیل مصطفی، مالیگاؤں 9145139913
Author -
personحاجی شاھد انجم
اپریل 15, 2026
0
share
دنیا عالمی دیہات میں تبدیل کیا ہوئی اپنے ساتھ ساری قدریں اور روایتیں تک بہا کرلے گئی۔ ہر طرف سوشل میڈیا کا دور دورہ کیا بوڑھے کیا جوان اورسب سے بڑھ کر بچے تک ایک ہی زلف کے اسیر ہوئے یعنی موبائل ہر درد کی دوا کے مصداق اسی موبائل نے تمام ہی شعبۂ حیات کا جیسے جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ گوگل اور اے آئے جیسے ایپ نے اچھے فن کاروں اور قلم کاروں کا ناطقہ بند کرکے رکھ دیا ہے۔ اردو ادب تو گویا عنقا ہوکر رہ گیا ہے۔ پہلے سے ہی وینٹی لیٹر پر چل رہے اسی ادب کا سب سے زیادہ نقصان اس سوشل میڈیا نے کر رکھا ہے۔ اردو ادیبوں، شاعروں اور قلم کاروں کا پہلے ہی شکوہ ہوتا تھا کہ قاری نہیں ملتے کتابیں تو تھوک کے بھاؤ میں جنریٹ ہو رہی ہیں اور آج تو مرے پر سو درّے کی سی حالت ہوکر رہ گئی ہے۔ اردو ادب کی تمام تر اصناف کا کم وبیش یہی حال ہو کر رہ گیا ہے۔ چہ جائے کہ طنز و مزاح اور ہنسنے ہنسانے تک کے میدان میں اب اسٹینڈ اَپ کامیڈین نے قبضہ جما رکھاہے۔ ایسے مہیب و بھیانک حالات میں کسی قلم کار نے اپنا فن پارہ شائع کرنے کی ہمت و جرأت دکھائی تو یقینی طور پر وہ صلہ و ستائش دونوں کا حقدار ہونے کا دعویٰ کرے تو کچھ بعید نہیں ہوگا۔ اس کسوٹی پر مالیگاؤں شہر کے مثالی استاد تیر و نشتر کے رمز شناس ا ور سب سے بڑھ کر ایک متوازن و باحوصلہ قلم کار جنہوں نے اپنے رشحات قلم کو’ گل افشانیاں‘ کے نام سے منسوب کرکے اردو دنیا کی طنز و مزاح میں ایک خوشگوار اضافہ کیا ہے۔ وہ ہیں ڈاکٹر مبین نذیر صاحب۔ حالانکہ آپ پیشے کے اعتبار سے پروفیسر ہیں اس کے باوجود گل افشانیاں میں انہوں نے ڈاکٹر اقبال برکی صاحب کو اپنا قلمی استاذ تسلیم کیا ہے۔ یہی وصف انہیں روایتی قلم کاروں کے غول میں ممتاز کرتا ہے۔ آج کا قلم کار کبھی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وہ اپنے فن میں کہیں سے بھی ناپختہ ہے۔ لیکن مبین نذیر نے اپنے طالب علم ہونے کا علان کرکے ان کے فن پاروں کو دیکھنے کا زاویہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہم نے آپ کے اولین شگفتہ تحریروں کے دلکش مجموعہ گل افشانیاں کا جب مطالعہ شروع کیا تو از اول تا آخر ہمیں ہر فن پارے میں ہمیں موصوف کی شخصیت کی جھلک نظر آتی رہی۔ دیانت داری تو یہ ہے کہ جب آپ کے استاذ محترم ڈاکٹر اقبال برکی نے یہ سند دے دی ہے کہ ڈاکٹر مبین نذیر کی یہ اولین کاوش ہے اور یہ لمبی ریس کا گھوڑا ہے تو پھر کسی کلام کی گنجائش ہی کہاں باقی رہ جاتی ہے۔ البتہ داد و دہش کا خانہ ابھی بھی خالی ہے سو اس کو کسی حد تک پُر کرنے کی سعی ناکام کرنے کی کوشش تو ہم کر ہی سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مبین نذیر جزیرۂ اردو مالیگاؤں کے ہونہار سپوت ہیں۔ سٹی کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے اپنا میدان کار زار طنز و مزاح کے طور پر چنا ہے۔ مختلف ادبی انجمنوں سے وابستہ ہیں۔ مختلف علمی و نثری نشستوں میں جوطنز و مزاح کے فن پارے ناقدین ادب کے روبرو پیش کئے انہیں اب زیور طباعت سے آراستہ کرکے اردو عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ ایک بہت ہی خوبصورت کتابی شکل جو سرورق سے ہی اپنی توجہ گھسیٹ لانے کی حد تک خوبصورت ہے۔ اس کے ساتھ اس میں کل ۱۶؍ طنز و مزاح کے افسانے کہیے یا شگوفے موجود ہیں۔ انگلی سے لے کر ناظم سے ناظمہ تک، آپ ایک بار کتاب شروع کریں گے تو ہم یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ مکمل کتاب پڑھے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہماری دانست میں مبین نذیر نے ہر عنوان کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ انہوں نے کہیں بھی عجلت یا جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہر عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ادبی، سماجی و دنیاوی چلن کو اس چابکدستی سے آشکار کیا ہے کہ یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ قلم کار نے طنز و مزاح کے قالب میں طنز کے وہ تیر و نشتر لگائے ہیں جو ہم اپنی کھلی آنکھوں سے اپنے سماج و معاشرے میں روزانہ ہی دیکھتے آئے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک قلم کار کی کامیابی یہی ہے کہ وہ اپنی قلمی کاوشوں کے توسط سے اپنے قاری کے دل تک میں اتر جائے اور ان معنوں میں مبین نذیر ایک کامیاب قلم کار ثابت ہوئے۔ آپ صرف انگلی کا مطالعہ کریں گے تو آپ حیران و ششدر رہ جائیں گے کہ انگلی کو بھی اتنے سارے زاویے سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ یہی حال پتھر کا بھی ہے ایک اچھوتا نثری مجموعہ جن کے عنوانات بھی منفرد و نادر ہیں۔ جب عنوان میں ندرت ہے تو تخلیق بھی چندے آفتاب، چندے ماہتاب ہونا تو برحق ہے۔ حالانکہ پوری گل افشانیاں جہاں طنز و مزاح اور تبسم ریزی کا بھرپور سامان مہیا کرتا ہے اس کے ساتھ ہی سماجی برائیوں اور سماج میں پنپنے والی وہ فرسودہ روایات پر ایسا چابک لگایا ہے جسے ہم مثال میں جوتا لپیٹ کر مارنا کہتے ہیں۔ حالانکہ طبیعت تو یہ چاہ رہی تھی کہ ہر عنوان پر سیر حاصل خامہ فرسائی کی جائے لیکن طوالت کے خوف سے محض حاصل کلام کے طور پر ڈاکٹر مبین نذیر کو بہت مبارکباد پیش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ جو انہوں نے اپنے اولین نثری مجموعہ کو اتنی گرانی کے زمانے میں زیور طباعت سے اتنی خوبصورتی کے ساتھ آراستہ کیا۔ ابھی تو صبح کی پہلی کرن ہی پھوٹی ہے کہ مصداق ہم موصوف سے یہ توقع رکھتے ہیں حق بجانب ہیں کہ ان کا یہ قلمی سفر مزید تیزگامی کے ساتھ جاری رہے گا اور اردو کے ہم جیسے طالب علم قاری ان کی شگفتہ تحریروں سے اسی طرح فیض یاب ہوتے رہیں گے۔ دراصل اس میں ایک گہرا راز پوشیدہ ہے وہ ہے ڈاکٹر صاحب کا موضوعات کا انتخاب اور اس کو کثیر الجہتی انداز میں اس سلیس انداز میں واضح کرنا جس میں طنز و مزاح کی چاشنی تو ہے لیکن سماجی برائیوں اور روایات کو بھی بطریق احسن اجاگر کرنا بھی ایک کامیاب قلم کار کی نشانی ہے۔ اس میں بھی ڈاکٹر مبین نذیر بڑی حد تک کامیاب و کامران نظر آتے ہیں۔ ’گل افشانیاں‘ اردو طنز و مزاح کی صف میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔ تھکے اور بوجھل لمحات میں اس کا مطالعہ کیجئے۔ ہماری کہی باتوں سے صد فی صد اتفاق نہیں کریں تو ہمارا ذمہ۔ ایک بار پھرڈاکٹر مبین نذیر صاحب کو ’گل افشانیاں‘ کی مبارکباد، اللہ کرے ان کی یہ کاوش نافع عام ہو اور آپ کے قلمی سفر کا یہ سلسلہ طویل ہی نہیں طوالت سے بھرپور ہو۔ تاکہ ہم اردو قارئین کو آپ کی رشحات قلم سے استفادہ حاصل ہوتا رہے۔ (آمین)